counter easy hit

غیر ملکی طلبا کی واپسی روکنے کے لیے 17 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ

اسلام آباد(یس اردو نیوز) امریکہ میں غیر ملکی طلبہ وطالبات کے ویزہ منسوخی کیخلاف امریکہ کی 17 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے ٹرمپ انتظامیہ پرمقدمے کافیصلہ کر لیا ہے صدر ٹرمپ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ موسم خزاں میں شروع ہونے والے تعلیمی سال کے ان طلبا کو وطن واپس جانا پڑے گا جن کی تمام کلاسیں آن لائن ہوں گی۔ عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکم نامے سے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی احتیاط سے کی گئی منصوبہ بندی ناکام ہو جائے گی جو وہ کئی مہینوں سے کر رہی تھیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے طلبا کو وبا کے دوران وطن جانا پڑے گا جہاں ان کی تعلیم حاصل کرنے کی اہلیت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ان 17 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں مجموعی طور پر 1124 کالج اور یونیورسٹیاں ہیں جن میں 2019 میں 3 لاکھ 73 ہزار غیر ملکی طلبا نے داخلہ لیا تھا۔ عدالت میں داخل کی گئی درخواست کے مطابق ان طلبا کی وجہ سے معیشت کو 14 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا تھا۔ مجموعی طور پر امریکہ میں گزشتہ سال 11 لاکھ غیر ملکی طلبا نے تعلیم حاصل کی اور امریکی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں میں ان کا تناسب 5٫5 فیصد تھا۔ اعلی تعلیم کے تقریباً 40 اداروں نے اس مقدمے کی حمایت میں بیانات جمع کرائے ہیں جن میں ژیل، ڈی پال، شکاگو یونیورسٹی، ٹفٹس اور رٹجرز کے علاوہ الی نوئے، میری لینڈ، میساچوسیٹس، منی سوٹا اور وسکونسن کی اسٹیٹ یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کے مقدمے میں بھی 59 یونیورسٹیوں نے درخواست گزاروں کی حمایت میں بیانات جمع کرائے ہیں جن میں آئی وی لیگ کی سات یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی پالیسی میں اچانک اور بنیادی تبدیلی سے تعلیمی اداروں کی تیاریوں کو دھچکا لگا ہے اور شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

میساچوسیٹس کی اٹارنی جنرل مورا ہیلی نے مقدمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایڈمنسٹریشن پروسیجر ایکٹ کے خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے یہ تک بتانے کی زحمت نہیں کی کہ اس ناسمجھی کے فیصلے کی بنیاد کیا ہے۔ اس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو اس انتخاب پر مجبور ہونا پڑے گا کہ وہ اپنے غیر ملکی طلبا کا داخلہ برقرار رکھیں یا اپنے کیمپسوں میں صحت اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔

بوسٹن کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کی گئی درخواست وفاقی حکم نامے کو چیلنج کرنے کی تازہ قانونی کوشش ہے۔ اس حکم نامے کو ریاستوں اور یونیورسٹیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کا سیاسی اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد موسم خزاں میں طلبا کو حاضری پر مجبور کرنا ہے جب کہ بہت سے تعلیمی ادارے اعلان کرچکے تھے کہ صحت عامہ کو لاحق خطرات کی وجہ سے زیادہ کلاسیں آن لائن ہوں گی۔

گزشتہ ہفتے ریاست کیلی فورنیا نے اسی طرح کا الگ مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس سے پہلے ہاوروڈ یونیورسٹی اور میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بھی اس حکم نامے پر عمل روکنے کے لیے عدالت جا چکی ہیں۔ بوسٹن ہی کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ان کے مقدمے کی سماعت منگل کو شروع ہو گی۔

امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنیٹ کے جاری کردہ وفاقی ہدایت نامے کے بعد غیر ملکی طلبا نے پریشان ہو کر ایسے کورسز کی تلاش شروع کر دی تھی جس میں کیمپس کی حاضری ضروری ہو گی۔ ایسے کورسز کم دستیاب ہیں۔ بہت سی یونیورسٹیاں منصوبہ بنارہی ہیں کہ چند آن لائن اور چند حاضری والی کلاسوں پر مشتمل کورس پیش کیے جائیں تاکہ وبا کے دوران اساتذہ، طلبا اور کمیونٹی کی صحت کا تحفظ کیا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیلے میک اینانی نے گزشتہ ہفتے انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی تعلیمی ادارے، مثلاً فینکس یونیورسٹی سے آن لائن کلاسیں لینے کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تو پھر ان غیر ملکی طلبا کو کیوں چاہیے؟ شاید بہتر مقدمہ ان طلبا کو کرنا چاہیے جنھوں نے ٹیوشن کی پوری فیس دی ہے لیکن انھیں کیمپس میں کلاسیں نہیں ملیں گی۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website