counter easy hit

وہ وقت جب لاہوریوں کی ناراضگی کی وجہ سے پاک فوج کے تین بریگیڈئیرز نے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ؟ جاوید چوہدری نے ملکی تاریخ کا حیران کن واقعہ بیان کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) بریگیڈیئر نیاز احمد پاک فوج کے ایک طلسماتی کردار تھے‘ یہ توپ خانے سے تعلق رکھتے تھے اور 1977 میں 10 ڈوالٹری کی کمانڈ کر رہے تھے‘ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے کی تحریک چلی‘ بھٹو صاحب نے لاہور میں کرفیو لگا دیا‘ لاہور میں اس وقت تین بریگیڈز تھے‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ شہر کو تین زونز میں تقسیم کر کے تین بریگیڈ کے حوالے کر دیا گیا‘ بریگیڈیئر نیاز احمد کے حصے سینٹرل لاہور آ گیا‘ کیپٹن شاہین بٹ بریگیڈیئر نیاز کے اسٹاف آفیسر تھے‘ کرفیو نے لاہور میں فوج کے امیج کو بری طرح متاثر کیا‘ لوگ برا بھلا کہنے لگے‘ تینوں بریگیڈیئر اس صورت حال سے پریشان ہو گئے اور مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا۔بریگیڈیئر نیاز احمد کے ساتھ بریگیڈیئر تاج اور بریگیڈیئر اشتیاق بھی شامل تھے‘ کیپٹن شاہین بٹ نے بھی استعفیٰ دے دیا‘ جنرل ضیاء الحق آرمی چیف تھے‘ آرمی چیف نے بریگیڈیئرز کو جی ایچ کیو بلایا اور گرفتار کرنے کا حکم دے دیا‘ کیپٹن شاہین بٹ کو بھی گرفتار کر کے قصور بھجوا دیا گیا‘ ملک میں پانچ جولائی 1977 کو مارشل لاء لگ گیا‘ کیپٹن شاہین بٹ کو رہا کر دیا گیاجب کہ بریگیڈیئرز کو واپس فوج جوائن کرنے کا مشورہ دیا گیا لیکن یہ تیار نہیں ہوئے‘ شاہین بٹ کو جنرل ضیاء الحق نے دو بار بلا کر سمجھایا ‘ یہ بھی استعفیٰ واپس لینے پر راضی نہیں ہوئے۔بریگیڈیئر نیاز احمد نے مستعفیٰ ہونے کے بعد لال کرتی راولپنڈی میں کافی شاپ بنا لی اور عام سی زندگی گزارنے لگے‘ کیپٹن شاہین بٹ امریکا چلے گئے اور نیویارک میں پاکستانی کھانوں کا ریستوران بنا لیا یوں یہ کہانی ختم ہو گئی ۔ لیکن یہاں سے ایک نئی کہانی شروع ہو گئی‘ بریگیڈیئر نیاز احمد زبردست سپاہی تھے‘ اعلیٰ کردار کے مالک تھے اور جرات مند تھے‘ فوج میں ان کی بہت قدر کی جاتی تھی۔ the, time, when, Pakistan, Army, Brigadiors, resinged, to, avoid, Lahories, anger

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website