counter easy hit

حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا : میں ایک عبادت سے محروم رہا ۔۔۔ یہ عبادت کونسی تھی ؟

سرکار دو جہاں محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم اپنے شاگردوں یعنی صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین کے درمیان بیٹھے تھے اچانک آقا علیہ سلام کے لب مبارک پے یہ جملہ جاری ہوا ..فرمایا کہ میں ایک عبادت سے محروم رہا – صحابہ کرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم عبادت آپ سے شروع ہوتی ہے اور آپ پر ختم ہوتی ہے تو کون سی عبادت ہے جس سے آپ محروم رہے..رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس عبادت سے محروم رہا کہ کاش میں جب نماز پڑھ رہا ہوتا اور گھر سے کھڑکی کھول کے میری ماں مجھے پکارتی “ بیٹا محمد..؛ تو میں نماز توڑ کہ بھاگ کہ جاتا اور کہتا لبیک میں حاضر میری ماں “…..حج پر جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم روانہ ہونے لگے تو اپ صلی الله علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر اسقدر روئے کہ ان کا پورا لباس تر ہو گیا -اگر ماں باپ زندہ ہیں تو انکی قدر کیجئے دنیا کا کوئی بھی رشتہ کوئی بھی پیار ماں باپ کا نعم البدل ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسری جانب ایک دن حضور اکرم ﷺ نے نماز عصر پڑھائی تو پہلا رکوع اتنا طویل فرمایا کہ گمان ہوا کہ شاید رکوع سے سر نہ اٹھائیں گے .پھر جب آپ ﷺنے رکوع سے سر اٹھالیا .نماز ادا فرما لینے کے بعد آپ ﷺ نے اپنا رُخِ اَنور محراب سے ایک جانب پھیر کر فرمایا کہ میرا بھائی اور چچا زاد علی بن ابو طالب کہاں ہے ؟حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخری صفوں سے عرض کیالبیک ! میں حاضر ہوں یارسول اللہﷺ …! آپ ﷺنے فرمایااے ابو الحسن ! میرے قریب آجاؤ چنانچہ حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کے قریب آکر بیٹھ گئے.آپ ﷺ نے فرمایا ابو الحسن ! کیا تم نے اگلی صف کے وہ فضائل نہیں سنے جو اللہ عزوجل نے مجھے بیان فرمائے ہیں ؟ عرض کیا:کیوں نہیں، یارسول اللہ ﷺ …ارشاد فرمایاپھر کس چیز نے تمہیں پہلی صف اور تکبیر اولیٰ سے دور کردیا ،کیا حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی محبت نے تمہیں مشغول کردیا تھا ؟ عرض کیان کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیسے رکاوٹ ڈال سکتی ہے. آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر کس چیز نے تمہیں روکے رکھا ؟عرض کیا کہ جب حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی تھی میں اس وقت مسجد ہی میں تھا اور دو رکعتیں ا دا کی تھیں پھر جب حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہی تو میں آپ ﷺ کے ساتھ تکبیرِ اُولیٰ میں شامل ہوا .پھر مجھے وضو میں شبہ ہوا تو میں مسجد سے نکل کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر چلا گیا اور جا کر حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کو پکارا مگر کسی نے میری پکار کا جواب نہ دیا تو میری حالت اس عورت کی طرح ہوگئی جس کا بچہ گم ہوجاتا ہے یا ہانڈی میں ابلنے والے دانے جیسی ہوگئی .میں پانی تلاش کررہا تھا کہ مجھے اپنے دائیں جانب ایک آواز سنائی دی اور سبز رومال سے ڈھکا ہوا سونے کا پیالہ میرے سامنے آگیا.میں نے رومال ہٹایا تو اس میں دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم پانی موجود تھا. میں نے نماز کے لئے وضوکیا پھر رومال سے تری صاف کی اور پیالے کو ڈھانپ دیا .پھرمیں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا نہ ہی مجھے یہ معلوم ہوسکا کہ پیالہ کس نے رکھا اور کس نے اٹھایا ؟آپ ﷺ نے غیب کی خبر دیتے ہوئے مسکرا کر ارشادفرمایا:مرحبا! مرحبا! اے ابو الحسن !کیا تم جانتے ہو تمہیں پانی کا پیالہ اور رومال کس نے دیا تھا؟ عرض کی اللہ اور اس کے رسول عزوجل و ﷺ بہتر جانتے ہیں ارشاد فرمایا: پیالہ تمہارے پاس جبرئیلِ امین علیہ السلام لے کر آئے اور اس میں حظیرۃ القدس کا پانی تھا اوررومال تمہیں حضرتِ میکائیل علیہ السلام نے دیا تھا ،حضرتِ اسرافیل علیہ السلام نے مجھے رکوع سے سر اٹھانے سے روکے رکھایہاں تک کہ تم اس رکعت میں آکر مل گئے، اے ابو الحسن ! جو تم سے محبت کریگا اللہ عزوجل اس سے محبت کریگا اور جو تم سے بغض رکھے گا اللہ عزوجل اسے ہلاک کردے گا .(آنسوؤں کا دریا ، ص:220 ، مدینہ لائبریری ، دعوت اسلامی)

 

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website