counter easy hit

نامور صحافی کی خبر نے لاکھوں ٹائیگرز کو پریشان کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) جہانگیر ترین کے ستارے بھی مسلسل گردش میں ہیں۔ شاید تحریک انصاف انہیں راس نہیں آئی۔ وزیراعظم عمران خان کیا کم تھے کہ اب نیک نام حامد خان ایڈووکیٹ میدان میں اترے ہیں؟ پارٹی کی بنیاد رکھنے والے اور ہر سرد وگرم میں کپتان کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے والا’ نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم (روزنامہ نوائے وقت ) میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ دینے والا نامور قانون دان کہ جس کا بھی دل جل کر کباب ہو چکا ہے اور اس کی زبان سے بے اختیار نکلنے والے سچ نے یاد دلایا کہ ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔‘‘ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے کہنا بھی غلط نہ ہوگا کیونکہ جس سے مخلصانہ محبت کی جائے پھر اس کا غصہ بھی اتنا ہی کڑوا ہوا کرتا ہے۔ سوال تو جناب حامد خان سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ جس جہانگیر ترین کو آپ مشق ستم بنارہے ہیں، جسٹس (ر) وجیہہ کو پارٹی سے نکالتے وقت آپ نے کیوں خاموشی اختیار کئے رکھی؟ سچ بولنے میں آخر اتنے سال کیونکر لگ گئے؟خان پارٹی کے بانی لیکن نظرانداز افراد کو دور کرنے کے اثرات ونتائج نہ صرف آپ خود، پارٹی بلکہ پورا پاکستان بھگت رہا ہے۔ دانائی کا تقاضا ہے کہ عمران خان حامد خان جیسے پرانے بااعتماد ساتھیوں کو ناراض کرنے کے بجائے ان کو قریب کریں، پارٹی کے اندرونی مسائل پر توجہ دیں حالیہ انٹرویو میں جب ان سے یہ تیکھا اور زہریلا سوال پوچھاگیا کہ ’حکومت پاکستان عملا جہانگیر ترین چلارہے ہیں؟‘ تو ان کا برجستہ جواب تھا ’’ یہ افسوسناک بات ہے’سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ منتخب شخص حلف اٹھاتا ہے کہ میں ریاست کے رازوں کی حفاظت کروں گا۔ آئین کا وفادار رہوں گا۔ یہ کون سا حلف لئیے بیٹھے ہیں؟ یہ تو آئین سے کھلم کھلاانحراف ہے۔ دل جلے پارٹی کے بانی رہنما نے جہانگیر ترین پر مزید برستے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ایک چیز میں ان کا کمال ہے اور (Mastery)’ ماسٹری‘ (ملکہ حاصل) ہے۔ پارٹی میں خوف کی فضاایسی پیدا کردی ہے، چئیرمین کا اعتماد ہے،وہ عمران کے کان کے قریب ہیں، کوئی میرے خلاف بات کرے گا، اِدھر رپورٹ ہوگی، اْدھر پارٹی سے فارغ ہوجائے گا۔ کیسے چند لوگ پارٹی کو ہائی جیک کرنے کے لئے آتے ہیں۔ اس ارادے سے کہ ہم نے باقی سارے پرانے لوگوں کو سائیڈ لائن کرنا ہے۔‘‘سوال کرنے والے کی جرات پر بھی حیرت ہے کہ اس نے پوچھا ’’اگر خدانخواستہ عمران خان کو کچھ ہوگیا توآپ کے خیال میں ’سکینڈ ان کمانڈ‘ کون ہوگا؟‘‘ تو حامد خان نے کہاکہ ’’یہ لوگ اگلے دن نظر نہیں آئینگے۔ میں جن کو ٹھیک نہیں سمجھتا ان سے ہاتھ بھی نہیں ملاتا۔‘‘ پھر سوال ہوا، جہانگرین ترین سے ہاتھ ملاتے ہیں؟ صاف گو حامد خان نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ ’’عمومی طورپر نہیں ملاتا، ماسوائے کہ مجبور ہوجاوں۔‘‘جسٹس (ر) وجیہہ الدین کا نام بھی انہوں نے لیا۔ وہ بھی اپنی ساکھ اور وقار کے لحاظ سے قابل احترام سابق جج کی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کو پارٹی سے دیس نکالا دینے کی وجہ بھی جہانگیر ترین بنے ہیں۔ پارٹی کے اندر انتخابات کرانے کے معاملے پر خاصی لے دے ہوئی تھی۔ اس وقت کے جو حالات تھے، یہ کہا جارہا تھا کہ ابھی پارٹی کے اندر انتخابات نہ کرائے جائیں لیکن بہرحال یہ انتخابات ہوئے۔ 2012-13ء کے پارٹی انتخابات سے ایک نیا تنازعہ اور فساد برآمد ہوا۔ پارٹی انتخابات میں پیسے کے استعمال اور ووٹوں کی خریداری کے الزامات لگائے جانے لگے۔ اتنا شور ہوا، اتنا گند اچھلا کہ عمران خان نے ان الزامات اور شکایات کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا اور جسٹس (ر) وجیہہ کی سربراہی میں دو رکنی الیکشن ٹریبونل قائم کردیا۔ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور کہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے معاملے کی تحقیقات اور الزامات کو شواہد اور گواہان کے ذریعے جب پرکھا تو قصور وار قرار پانے والوں میں جہانگیر ترین، پرویز خٹک، علیم خان اور اس وقت پارٹی کے صدر شامل تھے۔ عمران خان کے دیرینہ دوست امریکہ پلٹ رفیع خان نے بیان حلفی دیا کہ میں نے جہانگیر ترین کی طرف سے پیسے دئیے اور ووٹ خریدے۔ ان پارٹی انتخابات میں سیکریٹری جنرل کے عہدے پر پرویز خٹک فتح یاب قرار پائے تھے جن کے بعدازاں وزیراعلی خیبرپختونخوا بننے پر جہانگیر ترین نے یہ عہدہ سنبھال لیاتھا۔ جسٹس (ر) وجیہہ کی رپورٹ مسئلہ حل کرنے کے بجائے ایک نئے مسئلے اور فساد کا باعث بن گئی۔ یہ ایک طرح کا بم تھا جس کے اثرات پارٹی کے اعلی ترین عہدیداروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے۔ حالات بھی نازک تھے کہ جو شخص پارٹی کو مالی اور سیاسی لحاظ سے نہایت اہم مدد دے رہا تھا، وہ ہی نشانے پر تھا۔ پھر یوں ہوا کہ جسٹس (ر) وجیہہ اپنی اصول پسندی کا باجہ ہی بجاتے رہ گئے اور پارٹی سے انہیں نکال باہر کیاگیا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website