counter easy hit

صف اول کے صحافی کا تبصرہ آپ کو حیران کر ڈالے گا

The commentary of the Safel-e-journalist will surprise you
لاہور(ویب ڈیسک ) پچھلاا لیکشن پی ٹی آئی کے لئے پل صراط کی دھار سے بھی زیادہ تیز ثابت ہوا۔ مگر بائیس سال کی جدو جہداور دو سابق حکمران پارٹیوں کی غلط کاریوں سے اسے کچھ فائدہ حاصل ہوا۔ اگر کوئی کسر باقی تھی تو پاکستان مسلم لیگ ق نے اس کی مدد کی۔ نامور کالم نگار اسد اللہ غالب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الیکشن رزلٹ کے فوری بعد چودھری شجاعت اور چودھری پرویز بنی گالہ پہنچے۔ یہ دونوں سیاست دان عام طور پر کسی کے دروازے پر نہیںجاتے۔ دو ہزاردو کے الیکشن کے بعد میں اسلام آباد میں چودھری شجاعت کے کمرے میں بیٹھا تھا۔ مجھ سے ذرا پہلے جنرل مجید ملک انہیں مل کر گئے تھے۔ میں کمرے میں داخل ہوا تو انٹر کام کی گھنٹی بجی کہ سرادر ظفراللہ جمالی کے آنے کی اطلاع ملی۔ چودھری شجاعت نے سیکورٹی والوں کو ہدائت کی کہ جمالی صاحب کو فلاں گیٹ سے سیدھے میرے پاس لے آئو۔ یہ وزیر اعظم بننے والے ہیں، اس لئے ان کی عزت میں کوئی فرق نہ آنے دیں۔ ماضی میں بڑے بڑے سیاسی انقلاب ظہور الہی روڈ سے جنم لیتے رہے اور انکے گھروں کے باہر گاڑیوں کی طویل قطاریں اس امر کا بین ثبوت تھیں کہ کوئی جوار بھاٹا پھوٹنے والا ہے۔ ظہور الہی روڈ نے ملک کے بلند مقام سیاست دانوں کا ہمیشہ خیر مقدم کیا۔ نواز شریف بھی یہاںکئی بارا ٓئے اور میری بھی ان سے یہیں پر ایک ملاقات ہوئی تھی جب بھرے مجمع کے سامنے انہوںنے اعلان کیا تھا کہ مسلم لیگ آئندہ پنجاب میں حکومت بنا نے کی پوزیشن میں آئی تو چودھری پرویز الہی کو وزیر اعلی بنایا جائے گا۔ مگر نواز شریف نے یہ وعد ہ بھلا دیا۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے جب زرداری نے کہا تھا کہ وعدے قرآن حدیث نہیں ہوتے ۔ نواز شریف نے بھی وعدہ کے خلاف اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کوتخت لاہور پر بٹھا دیا۔ اصل میں کسی نے نواز شریف کے کان بھرے تھے کہ چودھریوں کوپنجاب میں اقتدار دے دیا تو آ پ کے نیچے سے زمین کھسک جائے گی۔ نواز شریف بھول گئے تھے کہ انہی چودھریوںنے گجرات میں دریائے چناب کے پل سے ان کی جیپ کندھوں پر ا ٹھا کر ظہور پیلس تک پہنچائی تھی ۔چودھری ضرور ملک کے حکمران بنے مگر ا س وقت جب نواز شریف ا ور شہبازشریف پاکستان کی سیاست اور سرزمین چھوڑ کر جدہ کے شاہی محلات میں جا بسے تھے۔ اس کے بعد میدان کھلا تھا اور ایک خلا بھی واقع ہوگیا تھا جسے چودھریوںنے تیز رفتار آندھی بن کر پر کیا۔اور مسلم لیگ کا نام نامی بھی زندہ رکھا۔ اور لیگیوںکو بڑی حد تک متحد رکھا، جنرل مشرف کے بعد زرداری صاحب نے حکومت بنائی اور جب یہ بھی لڑکھڑانے لگی تو چودھریوںنے جمہوریت کو بچانے کے وسیع تر مفاد میں پیپلزپارٹی کو سہارا دیا ۔،زرداری صاحب نے بھی ان کی لاج رکھی اور پرویز الہی کو ڈپٹی وزیر اعظم کا منصب پیش کیا۔ چودھری سیاست اور حکومت کاری کے لئے نئے نہیں۔انہیں بھٹو نے اس وقت قید میں ڈالا جب وہ ابھی طالب علم تھے۔ اوپر سے چودھری ظہور الہی کی مہان شخصیت۔ نوجوان چودھریوں کی سیاست صیقل ہوتی چلی گئی۔ یہ کوئی طعنہ نہیں کہ جنرل جیلانی نے چودھری پرویزالہی کو اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ ان کے ساتھ ہی نواز شریف بھی اسی کابینہ کا حصہ بنے اور ایک اور جغادری سیاستد دان بھٹو صاحب بھی فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کے وزیر تھے۔پرندہ ا ڑان بھرنے کے لئے ہوتا ہے ۔الا یہ کہ اس کے بال و پر توڑ دیئے جائیں۔ سیاست دان جیتے جی ہوائوں کے دوش پر تیرتا ہے۔ پاکستان بنانے والے سیاستدان بھی پیدائشی مسلم لیگی نہ تھے،کوئی کانگرس میں رہا ،کوئی احرار میں،کوئی یونینسٹ کے ساتھ چلا۔ بہر حال جب عمران خان کو اپنی پارٹی سے باہر کے ووٹوں کی ضرورت تھی اور وہ بھی صرف چند ایک ووٹوں کی تو ق لیگ نے اپنا فرض سمجھا کہ وہ پی ٹی آئی کا ساتھ دے۔ نواز شریف کا ساتھ وہ نہیں دے سکتی تھی کہ وہاں سے کسی خیرکی توقع کم تھی۔ پیپلز پارٹی وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ سو چودھریوںنے ترازو کی طرف دیکھاا ور ایک دانش مندانہ قدم اٹھایا کہ ایک طرف تو پی ٹی آئی کا دست و بازو بنیں ۔ دوسری طرف ن لیگ کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دیں کیونکہ یہ پارٹی ہمیشہ چودھریوں کو ڈستی رہی تھی۔چودھریوںنے کسی سودے بازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نہ پی ٹی آ ئی کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا بلکہ تمام فیصلوں کاا ختیار عمران خان کے ہاتھ سونپ دیا ۔۔ وہ اگر چاہتے تو منظور وٹو کی مثال پر عمل کرتے ہوئے خود پنجاب کے وزیراعلی بن جاتے مگر اقتدار چودھریوںکامطمح نظر نہیں تھا،۔ عمران خاںنے مناسب سمجھا کہ پرویز الہی پنجاب کے اسپیکر بنیں تو انہوںنے پیشانی پر بل لائے بغیر یہ عہدہ قبول کر لیا۔ اور عمران کو یہ سودا منافع بخش ثابت ہوا۔ چودھری پر ویز الہی ایک منجھے ہوئے سیاست کار ہیں ، وہ پنجاب اسمبلی کو بحسن و خوبی چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اور حالیہ برسوں میں جس طرح چودھری پرویز الہی نے اسمبلی کو چلایا اس پرہر کوئی عش عش کر اٹھاہے۔ ایوان میںن لیکی ہڑبونگ کاا نہوںنے سینہ تان کر مقابلہ کیا۔ چودھریوں کو کامیاب سیاست کاری کا ملکہ کیسے حاصل ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ چودھری ظہور الہی کی تربیت نے انہیں لچک کا درس دیا۔ وہ گھر اور دل کے دروازے ہر ایک کے لئے ہر وقت کھلے رکھتے ہیں۔ ان کا دسترخوان وسیع ہے اور چودھری شجاعت حسین کے دو فقرے اب ضرب المثل بن گئے ہیں کہ روٹی شوٹی کھائو اور مٹی پائو۔ مٹی پائو فلسفہ دراصل نیلسن منڈیلا کی صلح کل پالیسی کا پرتو ہے۔ ہمارے معاشرے میں دشمنیاں پالنا ایک شوق بن گیا ہے اور یہ دشمنیاںنسل درنسل چلتی ہیں۔ چودھریوں کے علاقے گجرات میں تو بات بات پہ قتل و غارت مچتی ہے۔ اس ماحول میں صلح صفائی ، معافی تلافی اور مٹی پائو کی پالیسی اختیار کرنا بڑا مشکل کام تھا۔ مگر چودھریوںنے اپنے ماحول سے سبق سیکھا۔ پیپلز پارٹی سے روایتی دشمنی ختم کی۔ اور وہی زرداری جو ق لیگ کو قاتل لیگ کہتے تھے۔ انہوںنے چودھری پرویز الٰہی کو ڈپٹی وزیر اعظم کا منصب پیش کیا۔ اور میں اسے دہرانا تو نہیںچاہتا کہ عمران نے پرویز الٰہی کے بارے میں بعض ریمارکس دیئے تھے مگر یہ عمران ا ور پرویز لہی دونوں کی بڑائی ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ اور کسی نے کسی انا کا مظاہرہ نہیں کیا۔یہ کارنامہ بھی چودھریوں کا ہے کہ پنجاب میں عمران کے نامزد کردہ وزیر اعلی بزدار صاحب کو کامیاب بنایا۔ اور پنجاب حکومت کو جہاں ان کی ضرورت پڑی ۔ چودھریوں نے غیر مشروط طور پر تعاون کیا۔ اب پنجاب کے بطن سے ایک نیا صوبہ جنم لے گا۔ خدا کرے یہ بیل منڈھے چڑھے تو پنجاب کی سیاست کا رنگ بدل جائے گاا ور ایوان میں ن لیگ کے چیلنج سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے چودھریوں کا کردار اوربھی اہمیت اختیار کر جائے گا۔ میںنے یہاں گورنر سرور کے کردارکا ذکر نہیں کیا۔ یہ الگ نشست میں کروں گاا وراس کے لئے ایک نشست گورنر سرور کے ساتھ ضروری ہے۔ وہ ہیں تو بڑے محتاط اوراس کی وجہ برطانوی میڈیا ہے جس نے بھیڑیوں کی طرح ان کا تعاقب کیا۔ میںنے یہ منظر خودد یکھا ہے کہ چودھری سرور گلاسگو میں اپنے ہی گھر میں داخل ہوتے ہوئے سر جھکا کراور بھاگ کر اندر جاتے تھے۔ مگر میرا خیال ہے کہ وہ مجھ سے اس قدر احیتاط نہیں برتیں گے۔ آخر تیس برس کا ساتھ ہے۔ اور پاکستانی میڈیا میں پہلا پہلا ساتھ۔ چودھریوںکے ساتھ تو نصف صدی کا ساتھ۔ اسے جنم جنم کا ساتھ کہا جاتا ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website