counter easy hit

بی بی سی نے پاکستانیوں کے لیے تشویشناک رپورٹ جاری کر دی

The BBC has issued a disturbing report for Pakistanis

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان نے انڈیا سے تمام تجارتی تعلقات منقطع کر دیے جس کے بعد انڈیا سے آنے والے اور مختلف ادویات میں استعمال کیے جانے والے خام مال اور کیمیکلز کو بھی پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اس پابندی کے باعث پاکستان میں فارماسوٹیکل انڈسٹری کے مطابق زندگی بچانے والی بیشتر ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں ان کی کمی کا خدشہ بڑھنے لگا ہے۔ پاکستان میں ادویات کی قلت کے خدشے کے پیش نظر گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں فریقین نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور مسئلے کا جلد از جلد حل نکالنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان فارما انڈسڑی کا تجارتی حجم کتنا ہے؟اکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین امجد علی جاوا کا کہنا ہے ’یہ بات سچ ہے کہ پاکستان میں بنائی جانے والی ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال کا تقریباً 50 فیصد حصہ انڈیا سے درآمد کیا جاتا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ 820 ایسے کیمیکلز ہیں جو پاکستان کی درآمدات کا حصہ ہیں کیونکہ وہ کیمیکل پاکستان میں تیار نہیں کیے جاتے۔کم وبیش 62 سے زیادہ ایسے کیمیکلز ہیں جس کے لیے پاکستان انڈیا پر زیادہ انحصار کرتا ہے جن میں سے تقریباً 23 کیمیکلز ایسے ہیں جو زندگی بچانے والی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں۔یہ ادویات دل کے امراض، ذیابیطس، بلڈ پریشر، ٹی بی اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جبکہ ٹی بی کی ادویات میں استعمال ہونے والا کیمیکل ’ایتھمبیوٹول‘ کا انڈیا ہی واحد ذریعہ ہے۔کم و بیش 65 کیمیکلز ایسے بھی ہیں جن کے لیے پاکستان انڈیا پر کم انحصار کرتا ہے۔امجد علی جاوا کے مطابق ’مارکیٹ میں ادویات کا نہ ملنا اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ تجارت کی بندش کے علاوہ مریضوں کی جانب سے چند مشہور اور مخصوص برینڈز کی زیادہ مانگ کے باعث بھی ہوتا ہے۔‘اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر اگر ایک مخصوص برانڈ کی دوا کا نسخہ لکھ کر دیتے ہیں تو مریض اسی دوا کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ اس کے متبادل ادویات مارکیٹ میں کسی اور نام سے بھی دستیاب ہوں۔دوسری جانب پاکستان میں ادویات کی صنعت کے نگران ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ترجمان اختر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی کرنا صرف وفاقی کابینہ کے اختیار میں ہے۔’اگر کوئی حکومت کی مقرر کردہ قیمت سے زیادہ قیمت پر دوائی فروخت کرتا ہے تو عوام کو یہ حق ہے کہ وہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں ان کے خلاف شکایت درج کریں۔‘اکستان ادویات کے کیمیکلز کی درآمدات کے لیے کون سے دوسرے راستے اختیار کر رہا ہے؟پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرز ایسوس ایشن کے وفد اور وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے ساتھ ملاقات میں چیئرمین پی پی ایم اے نے چند مطالبات پیش کیے۔ملاقات میں چیئرمین پی پی ایم اے زاہد سعید نے بتایا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری کو دوسرے ممالک سے ادویات کا خام مال منگوانے کے لیے کم از کم چھ مہینے کا وقت درکار ہوگا۔ان کے مطابق تمام فارماسوٹیکل مینوفیکچررز کے پاس کم از کم 45 سے 50 دن کا مال سٹوریج میں موجود ہوتا ہے۔ اس لیے فی الحال پاکستان میں نا تو ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور نہ ہی مارکیٹ میں سٹاک کم ہو گا۔انھوں نے کہا کہ اگر کسی دوسرے ملک سے ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال منگوایا جائے وہ زیادہ مہنگا پڑے گا۔ پاکستانی فارماسوٹیکل انڈسٹری اپنا خام مال زیادہ تر انڈیا یا پھر چین سے درآمد کرتی ہے۔اس بات کی توثیق کرتے ہوئے امجد علی جاوا نے بتایا ’ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال پاکستان کو سب سے سستا انڈیا سے ہی ملتا ہے جبکہ امریکہ اور یورپ سے آنے والا خام مال لیبر مہنگی ہونے کے باعث مہنگا پڑتا ہے۔‘ترجمان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اختر عباس نے مزید بتایا کہ ان کے محکمے نے تمام مقامی مینوفیکچررز کو دعوت دی ہے کہ جو کیمکلز پاکستان انڈیا سے درآمد کرتا ہے، اگر کوئی مقامی کمپنی ان کو تیار کر سکتی ہے تو حکومت سے رابطہ کرے۔حکومت کیا کر رہی ہے؟پی پی ایم اے کے مطالبات اور ادویات کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت اس بات کا تعین کر کے فیصلہ کرے گی کہ کیا انڈیا سے آنے والے کیمیکلز کو پاکستان میں آنے کی اجازت دے دی جائے یا پھر انڈیا کو چھوڑ کر دیگر ممالک سے ادویات کا خام مال منگوایا جائے۔دوسری طرف پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرز ایسوس ایشن کا مطالبہ ہے کہ اگر حکومت انڈیا سے ادویات کا خام مال درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو چین سے درآمد ہونے والے خام مال پر سبسڈی مہیا کرے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ حکومت چین اور دیگر ممالک کے ساتھ درآمد کے طریقہ کار اور کاغذی کارروائی کو فارماسوٹیکل انڈسٹری کے لیے آسان بنائے۔چئیرمین پی پی ایم اے زاہد سعید نے بتایا کہ پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرز ایسوس ایشن نے حکومت کے سامنے ہر آپشن رکھی ہے ’جس کے تحت ہم پاکستان میں پیدا ہونے والی ادویات کے بحران کے خدشے سے نمٹ سکیں گے۔‘انھوں نے بتایا کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر ادویات کے کیمیکلز کے لیے انڈیا کے علاوہ متبادل ذرائع استعمال کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے پبلک ریلیشن آفیسر ساجد شاہ نے حکومتی موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے پر حکمت علمی تیار کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جیسے ہی کوئی فیصلہ ہو گا تو سب کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website