counter easy hit

مسز جمشید خاکوانی

آئیے ایمان تازہ کریں

آئیے ایمان تازہ کریں

تحریر : مسز جمشید خاکوانی کبھی کبھی دل سیاست کی چکربازیوں سے اوب جاتا ہے لگتا ہے کہیں بھی کچھ اچھا نہیں رہا ،کہیں سچ نہیں ہر طرف جھوٹ ہے ریا کاری ہے مکاری ہے سازشیں ہیں بس من چاہتا ہے کہیں ایسی جگہ جایا جائے جہاں ایسا کچھ نہ ہو اور یقین کریں قران […]

جمہوریت کے ثمرات

جمہوریت کے ثمرات

تحریر: مسز جمشید خاکوانی عزیر جان بلوچ نے انکشاف کیا ہے اسے جیل میں لیاری کا سربراہ بنانے کی پیش کش کی گئی تھی ۔اسے زمینوں پر قبضے ،ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کے لیے استعمال کیا گیا عزیر بلوچ کے مطابق اس نے کراچی کے علاقوں گلستان جوہر، کلفٹن اور سرجانی ٹائون میں زمینوں […]

حکومت پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے کیا کر رہی ہے؟

حکومت پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے کیا کر رہی ہے؟

تحریر: مسز جمشید خاکوانی ہندوستان کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے 22 مئی 2015 ہندوستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ جب دہشت گرد پیسوں میں مل جاتے ہیں تو ہمیں اپنے جوان سامنے لانے کی کیا ضرورت ہے اپنے دشمنوں کے خلاف ہمیں انہی دہشت گردوں کو ہی […]

سب سے پہلے پاکستان

سب سے پہلے پاکستان

تحریر: مسز جمشید خاکوانی پاکستان کو در پیش اندرونی و بیرونی ہولناک خطرات، پاک آرمی کی شبانہ روز انتھک جنگ میں مصروفیت،اور اس نازک وقت میں آرمی کو درکار انتہائی اہم عوامی حمایت کی اشد ضرورت ہے ۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پولیٹیکل پلیئر ایک طرف ہیںاور سیکورٹی فورسز دوسری طرف جو اپنے […]

ایک تھا بادشاہ

ایک تھا بادشاہ

تحریر: مسز جمشید خاکوانی ساتھیو!ہم صدیوں سے بادشاہوں کی کہانیاں سنتے آ رہے ہیں جن میں زیادہ تر ظالم ہی ہوتے تھے۔ ہماری نسلیں یہ سنتے سنتے قبروں میں جا لیٹیں ہم بھی چلے جائیں گے اور شائد ہماری آنے والی نسلیں بھی ان ظالموں کے پنجہ استبداد میں جکڑی رہیں یہی سوال اب ذہنوں […]

فلسفہ حیات

فلسفہ حیات

تحریر: مسز جمشید خاکوانی مثل مشہور ہے کہ بھوکے پیٹ چاند بھی گول روٹی کی صورت نظر آتا ہے ،وہ کیا کہتے ہیں کہ” ڈھڈ وچ نہ ہوون روٹیاں تاں سبھے گلاں کھوٹیاں ”جب سے نائن زیرو پر چھاپہ پڑا ہے مختلف انداز سے اس پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ مختلف قلم کاروں کی نگارشات […]

اللہ کے نام پر

اللہ کے نام پر

تحریر : مسز جمشید خاکوانی کچھ روز پہلے ہم ایک جگہ شاپنگ کے لیئے گئے وہ جیولری کی ایک بڑی مارکیٹ ہے آمنے سامنے قطاروں میں دکانیں جن کے درمیان ایک تنگ سا راستہ۔ میں اکثر ایسی جہگوں پہ جانے سے گریز کرتی ہوں ۔بہت مجبوری کے عالم میں جانا پڑے تو اور بات ہے […]