counter easy hit

پاک فوج کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائرڈ افسر کی خصوصی تحریر

Special written by retired officer of the Pakistan Army

لاہور (ویب ڈیسک) ویسے تو اتوار کو عام تعطیل ہوتی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتِ حال اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر پڑنے والے اثرات کے تناظر میں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا جو اجلاس کل منعقد ہوا اور اس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری ہوا اس کی دو شقیں بہت اہم تھیں …… نامور سابق آرمی افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک یہ کہ انڈیا کا بے وقوفانہ طرزِ عمل جنوبی ایشیا کے اس خطے کے امن کو متزلزل کر سکتا ہے اور دوسرے یہ کہ پاکستان، انڈیا کے ہر جارحانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دے گا…… اس اعلامیہ کے دونوں پہلو تھوڑی سی وضاحت چاہتے ہیں …… ایک تو ”علاقائی امن“ کے یہ دو الفاظ ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان اگرچہ دونوں جوہری اور میزائلی طاقتیں ہیں لیکن کشمیر کی جاری صورت حال کے نتیجے میں اگر کسی قسم کا کوئی مسلح تنازعہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو اس کا دائرہ صرف جنوبی ایشیا تک محدود رہے گا، مزید نہیں پھیلے گا۔بعض حلقے اس کے علی الرغم یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کا تنازعہ اگر کسی جنگ کی صورت میں نکلتا ہے تو یہ جنگ بالآخر پھیل کر جوہری جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور اس طرح تیسری عالمی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ اس لئے ان حلقوں کا خیال ہے کہ دنیا کو اس مسئلے کا نوٹس لینا چاہیے۔ تاہم پاکستان نے NSC کے اجلاس میں جن اقدامات کی طرف اشارہ کیا ہے وہ کسی جوہری جنگ کی پیشگوئی کا اشارہ نہیں دیتے بلکہ صرف علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرنے کی بات کرتے ہیں جس کا دائرہ اگر زیادہ پھیلا بھی تو ہمسایہ ممالک تک جا سکتا ہے جن میں افغانستان، ایران، سری لنکا اور بنگلہ دیش وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ جنگ اگر ہوئی بھی تو جوہری نہیں، غیر جوہری یا روائتی جنگ ہو گی۔نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں یہ شور نہیں مچایا گیا کہ دوڑو بھاگو، کشمیر کے سوال پر جوہری جنگ ہونے والی ہے۔ گویا پاکستان نے آنے والی کسی بھی جنگ (اگر وہ ہوئی) کا دائرہ محدود کر دیا ہے اور کوئی بڑا واویلا نہیں مچایا۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ پاکستان، جوہری قوت ہونے کے باوصف، کسی جوہری جنگ کا ڈراوا یا دھمکی نہیں دے رہا۔یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے، ہماری وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کئے گئے خط کے جواب میں دونوں ممالک کو تحمل اور برداشت کا مشورہ دیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کی طرح کشمیری مسلمانوں کے ساتھ سفارتی، اخلاقی اور سیاسی سپورٹ کے تسلسل کی بات کی ہے۔ پاکستان کی یہ سپورٹ ویسے تو اول روز سے جاری ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ سپورٹ گزشتہ 72برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تین سے زیادہ جنگوں کا سبب بھی بنی ہے۔ لہٰذا پاکستان کا یہ اصرار کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو صرف سفارتی، اخلاقی اور سیاسی امداد تک محدود رکھیں گے، محلِ نظر ہے۔ دنیا نے بالعموم اور اقوام متحدہ نے بالخصوص اس کا نوٹس ضرور لیا ہو گا۔ تاہم اس اعلامیے کا یہ فقرہ بھی دنیا بھر کی از بس توجہ کا طالب ہے: ”پاکستان، انڈین اقدامات کی مذمت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ اقدامات علاقائی اور بین الاقوامی امن پر بُرے اثرات مرتب کریں گے“۔ انگریزی زبان کا فقرہ یہ ہے:Pakistan Condemns Indian action in this regard which would have adverse implications for regional and international peace.انڈیا نے حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ غیر معمولی ہیں۔ مثلاً سنٹرل بارڈر پولیس کی 100کمپنیوں یعنی دس ہزار افسروں اور جوانوں کو کشمیر میں انڈکٹ کرنا، جولائی اگست کے دو مہینوں میں شری امرناتھ غار میلے پر آئے ہوئے لاکھوں یاتریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر اور جموں کے علاقوں سے نکل جانے کی ایڈوائزری جاری کرنا، اپنے آئین میں کشمیر کے بارے میں آرٹیکل 35-Aکو منسوخ کرنے کی طرف پیشرفت کی چتاؤنی دنیا، کشمیری مسلمانوں کا کسی آنے والے مسلح خطرے کی صورت میں ”راشن پانی“ کا ذخیرہ کرنا، کشمیر بھر کے بنکوں میں ATMs کی بندش، ریاستی طول و عرض میں کرفیو نافذ کرنے کے عزائم کا برملا اظہار، لائن آف کنٹرول پر مسلح کارروائیوں میں اضافہ، پاکستان میں وادی ء نیلم میں کلسٹر بموں کا استعمال اور اس کے نتیجے میں معصوم بچوں کی ہلاکت اور ان کا زخمی ہونا وغیرہ۔انڈیا کی طرف سے اٹھائے گئے یہ سارے اقدامات اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بڑی اور غیر معمولی کارروائی ہونے کا خطرہ ہے جس کے جواب میں پاکستان بھی ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جائے گا جو علاقائی امن کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ قارئین یہ ساری خبریں دن رات میڈیا پر دیکھ، سن اور پڑھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا یکدم کیوں ہو رہا ہے، کون سی ایسی غیر معمولی بات ہوئی ہے کہ جس پر بھارت اچانک بلبلا اٹھا ہے۔ سب لوگ 22جولائی کو عمران۔ ٹرمپ ملاقات میں صدر ٹرمپ کی طرف سے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو اس پیشرفت کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنی ثالثی کی اس آفر کو پھر دہرایا ہے۔ بعض لوگ اسی ’دہرائی‘ کو اس سارے طوفان کا سبب قرار دے رہے ہیں …… یہاں دو سوال بڑے اہم ہیں …… ایک یہ کہ مودی کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ ٹرمپ کو اس ثالثی کی درخواست کرتے اور دوسری یہ کہ ٹرمپ کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اس پیشکش کو دہراتے!…… یہ دونوں نکات اور سوالات بہت اہم ہیں۔ تاہم ہم پاکستانیوں کو جان لینا چاہیے کہ اس پیشکش کو دہرانے کا مقصد مسئلہ کشمیر کا حل نہیں بلکہ اس حل کو مزید ”لاینحل“ بنانا ہے!سٹرٹیجک لیول پر سوچیں تو امریکہ، انڈیا کو ناراض نہیں کر سکتا۔ اس بات کی کوئی قابلِ اعتماد وجہ آج تک سامنے نہیں آ سکی کہ مودی نے اس ثالثی کے لئے صدرِ امریکہ کو درخواست کیوں کی۔ جو پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ، افغانستان سے نکلنے کے لئے پاکستان کو ”خوش“ کرنے کے لئے کوشاں ہے ان کو معلوم ہو گا کہ امریکہ ایک دم اپنے سٹرٹیجک اہداف سے یوٹرن نہیں لے سکتا۔ صدر ٹرمپ کا مزاج لاکھ سیمابی ہو گا لیکن وہ اپنے ملکی مفادات کو کبھی پسِ پشت نہیں ڈال سکتے۔ وزیراعظم مودی اگر مستقبل قریب میں افغانستان سے امریکی ٹروپس کا ٹوٹل انخلاء اور پھر وہاں طالبان کی واپس کی صورت میں اپنے اثر و رسوخ کا خاتمہ دیکھ رہے ہیں تو پھر بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشرفت چہ معنی دارد؟ایک خیال یہ بھی ہے کہ انڈیا، CPEC کے پوری طرح فعال ہو جانے کے نتیجے میں اپنے آپ کو تنہا دیکھ رہا ہے۔ پاکستان اگر آنے والے برسوں میں بین الاقوامی تجارتی اور مواصلاتی سرگرمیوں کا مرکز بننے والا ہے تو یہ صورتِ حال بھارت کے لئے انتہائی تشویشناک ہو گی۔ ایسے میں انڈیا کے پاس صرف دو آپشنز ہوں گی۔ ایک یہ کہ امریکی افواج کو اپنے ہاں جگہ جگہ بری، بحری اور ہوائی اڈے فراہم کرے یا مقبوضہ کشمیر کا کوئی ایسا حل قبول کرے جو کشمیر کو CPEC سے منسلک کر دے۔ پاکستان، افغانستان کو براستہ واہگہ تجارتی راہداری دینے کا عندیہ تو قبل ازیں دے چکا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کل کلاں کشمیر کا کوئی سٹیٹس ایسا بھی معلوم ہو جائے جو پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کو قابلِ قبول ہو اور پھر بھارت کشمیر کی راہ سے CPEC کو استعمال کرکے بین الاقوامی مواصلاتی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ اگر انڈیا ایسا نہیں کرتا تو اس کا کمرشل مستقبل مخدوش ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر گوادر،گلوبل تجارت کا ایک بڑا مرکز بن جائے تو اس کا توڑ انڈیا کے پاس کیا ہو گا؟…… انڈیا کس طرح اپنی بری اور بحری شاہراہوں (Arteries) کو CPEC سے ملحق کر سکے گا…… ممکن ہے کہ آج یہ بات دور کی کوڑی معلوم ہوتی ہو لیکن انڈیا اپنے مستقبل کی خوشحالی کے لئے کشمیر کی آزادی یا نیم آزادی یا نیم خود مختاری کا کارڈ استعمال کر سکتا ہے!مقبوضہ کشمیر کی موجودہ گڑبڑ کے ڈانڈے انڈین وزیراعظم کی اس درخواست میں تلاش کئے جا سکتے ہیں جو انہوں نے صدر ٹرمپ سے کی تھی اور صدر ٹرمپ نے بھی دوسری بار اس کو ببانگ دہل برسر عام افشاء کر دیا ہے۔ اس پیشکش میں امریکہ کا مفاد تو وہی ہے کہ وہ افغانستان سے ”بخیر و خوبی“ نکل جانے کا خواہش مند ہے اور انڈین سیاسی قیادت کا مفاد بھی وہی ہے جو اوپر بیان ہوا…… لیکن یہ صورتِ حال انڈین آرمی کو منظور نہیں اور اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ آج وادی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انڈیا کی ٹاپ لیول سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین پیدا ہونے والی دڑاڑوں (Fisshers)کی خبر دے رہا ہے!

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website