counter easy hit

زائد العمر ہونے کی وجہ سے طعن و تشنیع کی زد میں آنے والی خواتین کے لیے خصوصی تحریر

Special writing for women who are suffering from depression because of being older

لاہور (ویب ڈیسک) فردوس جمال اچھے اداکار ہیں مگر شاید ان کے نام میں شامل لفظ ’’فردوس‘‘ کا کمال ہے کہ وہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ بات کہہ گئے۔ ایک ٹی وی شو کے دوران فرمایا: ’’ماہرہ خان ہیروئن اسٹف نہیں ہے، اوسط درجے کی ماڈل ہیں۔ ایک تو ان کی عمر زیادہ ہے، نامور صحافی محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس عمر میں ہیروئن نہیں، ماں کے کردار کئے جاتے ہیں‘‘۔ فردوس جمال نے اسی دشت کی سیاحی میں عمر بسر کی ہے اس لئے وہ کسی نوآموز اداکارہ کی پرفارمنس پر رائے دینے کا حق رکھتے ہیں مگر ماہرہ کو عمر رسیدہ قرار دے کر ماں کا کردار ادا کرنے کا مشورہ دینے کا ہرگز دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی 65سالہ اداکار نے خود سے نصف عمر کی اداکارہ کو عمر رسیدہ قرار دیتے ہوئے اعتراض کیا ہو۔2012ءمیں امریکی اداکارہ میرل اسٹریپ کو ’’دی آئرن لیڈی‘‘ کے لئے آسکر ایوارڈ ملا تو وہ 62سال کی ہو چکی تھیں۔ میرل اسٹریپ 1979ءمیں پہلی بار فلم ’’دی ڈیئر ہنٹر‘‘ میں اداکاری کے لئے آسکر ایوارڈ میں نامزد ہوئیں اور تب سے اب تک 21مرتبہ یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ سب سے زیادہ ایوارڈ لینے والی امریکی اداکارہ کی انفرادیت یہ ہے کہ انہیں بیشتر ایوارڈز تب ملے جب وہ 40سال سے زیادہ عمر کی ہو چکی تھیں۔ میں نے پہلے بار میرل اسٹریپ کی فلم ’’ڈیول ویئرز پراڈا‘‘دیکھی اور پھر دیکھتا چلا گیا۔ جب میرل اسٹریپ کے کیرئر کی ابتدا کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو دلچسپ انکشافات ہوئے۔ میرل اسٹریپ ڈراموں میں کام کر چکی تھیں مگر پہلی بار فلموں میں کام کرنے کے لئے ہالی وڈ مووی ’’کنگ کانگ‘‘ کے لئے آڈیشن دینے گئیں تو ان سے متعلق نہایت منفی تاثرات دیئے گئے۔ ڈائریکٹر نے انتہائی حقارت سے اپنے بیٹے کو کہا، یہ تم کسے اُٹھا لائے ہو۔ یہ تو بہت بدصورت ہے۔ میرل نے کہا، کوئی بات نہیں۔ آپ کا خیال ہے کہ میں بدصورت ہوں، آپ سمندر کی ہزاروں لہروں میں سے ایک ہیں، میں کسی مہربان لہر کی تلاش جاری رکھوں گی۔ اس کے فلمی کریئر میں ایک اور اہم موڑ تب آیا جب 1995میں انہیں ایک رومانٹک فلم The Bridges of madison countyکے لئے بطور ہیروئن کاسٹ کیا گیا۔ فلم میں ہیرو کا کردار ادا کرنے والے اداکار کلائنٹ ایسٹ وڈ کی عمر 65برس تھی مگر یہ سب کے لئے معمول کی بات تھی البتہ اس بات پر بھانت بھانت کے تبصرے ہونے لگے کہ 45سالہ اداکارہ کو ہیروئن کے کردار کے لئے کیوں منتخب کیا گیا ہے۔ فلم ریلیز ہوئی تو اسے بھرپور پذیرائی ملی، 182ملین ڈالر کا بزنس ہوا جبکہ میرل اسٹریپ کو اس فلم میں شاندار پرفارمنس پر اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین اداکارہ کے لئے نامزد کیا گیا۔میرل اسٹریپ واحد اداکارہ نہیں جو اس عمر میں اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں۔ جینیفر لوپز، کیمرون ڈیاز، جولیا رابرٹس، مونیکا بلوچی، نکول کڈمین، اوپرا وینفرے، سلمیٰ ہائیک، ایمی ایڈمز، جوڈی ڈینچ اور ہیلن مرن سمیت کتنی اداکارائیں چالیس اور پچاس کی نفسیاتی حد عبور کرنے کے باوجود فلموں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہیلن مرن کو 61سال کی عمر میں ’’دی کوئین‘‘جیسی فلم میں مرکزی کردار کے لئے کاسٹ کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں چہرے کی جھریاں نہیں دیکھی جاتیں، اداکاری کا معیار جانچا جاتا ہے۔مگر ہمارے ہاں عورت کو عمر کی بوتل میں قید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سلمان خان اور شاہ رخ بھلے پچاس برس کے ہو جائیں مگر ان کی ہیروئن 25سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ شفقت چیمہ57، شان اور سعود50، فیصل قریشی اور بابر علی 45سال کی عمر میں کالج کے کھلنڈرے لڑکوں کا کردار نبھا سکتے ہیں مگر ماہرہ خان کی عمر 34برس ہو جائے تو اسے ماں کے کردار ادا کرنا چاہئیں۔ ایک وقت تھا جب ادکارائیں اس لئے شادی نہیں کرتی تھیں کہ اس سے ان کا فلمی کریئر ختم ہو جائے گا اگرچہ اب صورتحال بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہے مگر 35کے ہندسے تک پہنچتے ہی لڑکیوں کو ’’آنٹی‘‘ کا درجہ دینے کی روش برقرار ہے۔ یہ محض ’’فردوسی سوچ‘‘ کا جمال نہیں صنفی امتیاز پر مبنی ہماری معاشرتی اقدار اور چھوٹی سوچ کا کمال ہے۔ اگر گھر میں بچی پیدا ہو گئی ہے تو شروع سے ہی اسے ’’فردوسی سوچ‘‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھر میں لڑکا دس سال کی عمر میں بھی ننگ دھڑنگ گھوم سکتا ہے مگر لڑکی چار سال کی ہو تو بھی اسے بچوں جیسی آزادی میسر نہیں ہوتی۔ لڑکا باہر جا کر کھیل سکتا ہے لیکن بچی اجازت لئے بغیر گھر کی دہلیز سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی۔ جیسے ہی عمر بڑھتی ہے، اس صنفی امتیاز میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ لڑکی ابھی گڑیا سے کھیل رہی ہوتی ہے کہ اس کی عمر بڑھنے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے، ماں جہیز بنانا شروع کر دیتی ہے، باپ رشتہ ڈھونڈنے میں لگ جاتا ہے کیونکہ اس سوچ کے مطابق لڑکیوں کی عمر نکل جائے تو مناسب رشتے نہیں ملتے۔ہمارے ہاں دیگر مصنوعات خریدتے وقت بیشک مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری ڈیٹ کا خیال نہ کیا جاتا ہو مگر رشتہ ڈھونڈتے وقت ضرور لڑکی کی تاریخ پیدائش دیکھی جاتی ہے۔ گھر میں بیٹی بڑی بھی ہو تو ماں جاننے والوں کو یہی بتاتی ہے کہ بھائی سے چھوٹی ہے۔ یہی وجہ ہے لڑکیاں زندگی بھر عمر کے نفسیاتی اثر سے نہیں نکل پاتیں اور تاحیات عمر چھپاتی ہیں۔ لڑکوں کو بڑھتی عمر کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ جب بیٹیوں کی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد بہو ڈھونڈنے کا مرحلہ آتا ہے تو ایک مرتبہ پھر یہی سوچ غالب آجاتی ہے۔ دلہا چاہے 35برس کا ہو مگر دلہن 18سال سے زیادہ عمر کی نہیں ہونی چاہئے۔اس سوچ کے کئی رنگ اور بیشمار پہلو ہیں۔ اگر آپ کسی خاتون کی پُرکشش اور جاذب نظر شخصیت پر دل جلاتے ہیں یا اس کی شہرت و مقبولیت پر بھائو کھاتے ہیں تو اسے بدکردار قرار دیدیں۔ کردار کشی سے کام نہ چلے تو عمر کی نشاندہی کا نفسیاتی حربہ استعمال کریں اور ’’نانی‘‘ کہنا شروع کر دیں شاید حسد کی آگ کم ہو اور کچھ افاقہ محسوس ہو۔ مریم نواز سے ماہرہ خان تک سب آزاد اور خود مختار خواتین کی یہی کہانی ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website