counter easy hit

صف اول کے صحافی کی خاص بریکنگ نیوز

Special journalist breaking news

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان ساری دنیا کو 4 ہفتے کی ڈیڈلائن دے رہے ہیں 27 ستمبر تک کا وقت ہے جو کرسکتے ہوکرلو ورنہ اقوام متحدہ کی سٹیج سے نیا اعلان ہوگا عمران خان کے قوم سے کشمیر خطاب سے نیا طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ جوہری جنگ کی پیشگوئی سے لے کر نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مودی کو چار ہفتوں کا وقت دینے کی آڑ میں کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھٹی دینے کے الزامات تک کا سیلاب ہے۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کے اختتامی مرحلے پر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے کہ انہیں ایک چٹ دی گئی جس پر لکھا تھا براہ راست اقدام کا اعلان کریں جوہری جنگ کے خطرات اور خدشات سے دنیا کو آگاہ کریں۔عمران خان کے خطاب میں بنیادی نکتہ دنیا کو آخری وارننگ دینے کا ہے۔ جوہری جنگ کے بارے میں عالمی ضمیر کو خبردار کیا گیا کہ اگر ان 4 ہفتوں میں مودی کو کھلی بدمعاشی سے نہ روکا گیا تو پھر ہمارا تو جو ہوگا سو ہوگا لیکن عالمی ضمیر بھی ہمیشہ کے لئے سوجائے گا۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جب عمران خان نے ’جنگ کوئی آپشن نہیں‘ کا صیغہ استعمال کیاتھا تو اس جملے کا شدید ردعمل ہوا تھا لیکن اس ’خیرسگالی‘ کا کہیں سے بھی ’مثبت‘ جواب نہ آیا، نہ ہی آنا تھا۔ اب شدید عوامی دباو اور مایوسی وبے بسی کے ماحول میں وزیراعظم عمران خان نے مستقبل کا نقشہ دیا ہے۔ عمران خان نے دنیا کو بتایا کہ ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم’ تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ دنیا خاموش تماشائی رہی تو پھر اس کا خمیازہ صرف ہمیں ہی نہیں، اسے بھی بھگتنا ہوگا۔ دوسرا پیغام یہ بھی تھا کہ کوئی ساتھ نہ بھی دے تو بھی ہم کشمیر کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ جمعے کو دن بارہ سے ساڑھے بارہ بجے تک پوری قوم سڑک پر نکلے۔ کشمیریوں سے یک جہتی کا قومی سطح پر پیغام دیاجائے۔ شاید وہ پاکستانیوں کا جذبہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں اور 27 ستبمر تک یہ سرگرمیوں سے عالمی برادری کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا۔ پوری دنیا میں جاوں گا۔ کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں مغربی میڈیا اور عوام کو بتاوں گا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والوں کے بھی عمران خان کے خطاب پر جذبات قابو سے باہر ہوچکے ہیں۔ المشہور ’’لال ٹوپی والی سرکار‘‘ کے ضبط کا بند بھی ٹوٹ گیا۔ اپنے شدید جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا اپنے روایتی انداز میں کہنا تھا کہ ’’آج وزیراعظم کی تقریر کے بعد ان کی حکومت پر اور اس قوم اور فوج پر حجت تمام ہوگئی ہے۔ ’’آج وزیراعظم کی تقریر نے ایک بات اور ثابت کردی۔ یہ جو فیصلے کررہے ہیں، پورے یقین اور وثوق کے ساتھ خود کررہے ہیں۔ ان کو پورا اعتماد ہے کہ جو حکمت عملی انہوں نے اختیار کی ہے، وہی بہترین ہے،۔سچی بات تو یہ ہے کہ مودی نے سارے ہندوستان کو گجرات میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ ہندو نہیں بلکہ نازی ہے۔ جیسے اسرائیلی صیہونی، سفید فام پروٹیسٹنٹ عیسائی صیہونی اور نازی ہوتے ہیں، ویسے ہی مودی اور ہندتوا کے پیروکار وحشی جنونی ہیں۔ ان سب کا ایجنڈا، انداز اور حکمت عملی ایک ہوچکی ہے۔ جیسے صیہونی ریاست فلسطینیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر اپنے شہر بسا رہی ہے، ویسے ہی کشمیر میں انسانوں کے قبرستان بنا کر وہاں ہندتوا کا جشن منانے کی تیاری ہورہی ہے۔ آقاکریم کی حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے کفار ایسے دعوت دیں گے جیسے کھانے پر بلایاجاتا ہے۔ رحمت للعالمینﷺ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جب دریافت فرمایا کہ آقا کیا مسلمانوں کی تعداد کم ہوگی؟ میرے مہربان کریم آقا نے فرمایا کہ مسلمان تعداد میں تو بہت زیادہ ہوں گے لیکن ان کی حیثیت پانی پر تیرتے کوڑے کی طرح ہوگی۔ آج دو ارب مسلمان، ان کی فوجی قوت، جاہ و حشم مال واسباب، محلات، تیل اور اربوں ڈالر سب موجود ہے لیکن ان کی حیثیت کیا ہے؟ دوسری طرف یواے ای سے لے کر لندن، فرانس سمیت دنیا بھر میں پاکستانیوں اور بھارتیوں میں لڑائی جھگڑے کی خبریں آرہی ہیں، گویا مودی نے فساد فی الارض حقیقتاً برپا کردیا ہے۔ ان واقعات سے جذبات کے لاوے کی شدت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ ہے وہ نکتہ، یہ ہے وہ سوال، جس پر 27 ستمبر تک دنیا کے پاس سوچنے کی مہلت ہے۔ یہ لاوا کہاں کیسے پھٹ جائے، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کشمیر میں مظالم پر پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دلوں میں دہکتی آگ نجانے کیا کیا جلا کر بھسم کردے گی، اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کردیتا ہے۔ کچھ دانشمندوں کی رائے ہے کہ عمران خان کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگرکرنے کی جو بات کررہے ہیں، ان کی تحقیق، اطلاعات اور تجربے کی غیرپختگی دکھارہی ہے۔ ان حضرات کا سوال ہے کہ فلسطین کا مسئلہ دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیشنلائز ہے، یروشلم اْنکے ہاتھ سے نکل گیا، مشرقی کے بعد مغربی کنارے پر دھڑلے سے تعمیرات ہورہی ہیں، ابھی انہیں اس سے آگے کا علاقہ بھی چاہئے۔ توکیا کرلیا اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے؟ ویسے بھی کشمیر کا مسئلہ تو 1948ء میں انٹرنیشنلائز ہوچکا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قراردادیں منظور کرکے اسے عالمی مسئلہ پہلے ہی تسلیم کررکھا ہے۔ اصل بات ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ اوپر سے ٹرمپ کے سامنے ہی مودی نے ’’چٹا جواب‘‘ دے دیا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ مسلم اْمّہ اور OIC کی حقیقت اور حثیت کچھ نہیں ہے۔علامہ اقبال ہی نے فرمایا تھا۔۔۔بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی۔۔۔مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website