counter easy hit

عمران و نواز کی معافی مانگوانے کی ضد

Imran Khan and Nawaz Sharif

Imran Khan and Nawaz Sharif

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
چلیں، یہ بہت اچھا ہوا کہ جوڈیشنل کمیشن کی آنے والی چارسو صفحات پر مشتمل رپورٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیاہے جس سے اَب یقینا مُلک میں صاف سُتھری سیاست کے آغاز کی ابتداء ہو چلے گی تو وہیں اَب کوئی قوم کو دھرنوں، ورنوں کی لوویلی LOVELY سیاست میں دھکیل کرنہ تو اپنا قیمتی وقت ضائع کرسکے گا اور نہ ہی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرے گا، پچھلی دِنوں میرے دیس کی سرزمین پر سیاستدانوں نے دھرنے کی لوویلی سیاست بہت کرلی، اَب اِنہیں سنجیدہ سیاست بھی کرنی چاہئے اور اِس سے حاصل ہونے والے حقیقتاََ سنجیدہ ثمرات عوام الناس تک پہنچانے کے لئے بھی اپنی حقیقی سیاسی خدمات پیش کرنے کا عزمِ عظیم کرتے ہوئے مُلک اور عوام کو درپیش درینہ مسائل حل کرنے کے لئے باہم متحد و منظم ہوکر میدانِ سیاست میں اُتر جانا چاہئے۔

اگرچہ ، اَب اِس حقیقت کو مان لیناچاہئے کہ گزشتہ دِنوں جوڈیشنل کمیشن نے پی ٹی آئی اور اِس کے ساتھ شامل مُلک کی دیگر جماعتوں کی جانب سے مُلک میں ہونے والے سابقہ انتخابات میں دھاندلی سمیت عوامی مینڈیٹ چرانے سے متعلق دائر کردہ درخواست پر صاف وشفاف تحقیقات کے بعد 2013کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے منظم دھاندلی، الیکشن شفاف نہ ہونے اور عوام کا مینڈیٹ چرانے جیسے دیگر ایسے بہت سے الزامات یکسر مستردکرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقاتی رپورٹ وزارتِ قانون کے سپردکردی ہے یہ تحقیقاتی رپورٹ جس کے بارے میں خیال کیا جارہاہے کہ یہ آئندہ مُلک میں منعقدہونے والے انتخابات میں مثبت اور تعمیری وانقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے بھی خاصی معاون و مددگار ثابت ہوگی جوڈیشنل کمیشن نے اپنی یہ جو حتمی رپورٹ جاری کی ہے یہ400صفحات پر مشتمل ہے جس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ چیف جسٹس ناصر الملک اور دیگر ممبران جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریک انصاف کی طرف سے دھاندلی کے الزامات عائد کرنے، مسلم لیگ(ن) اور دیگر جماعتوں کے وکلاءکی طرف سے پیش کئے گئے شواہد، الیکشن کمیشن کی طرف سے دیئے گئے جواب وجوابات سمیت اپنی سفارشات بھی پیش کی ہیں۔

جس میں منظم دھاندلی سمیت ایسے بہت سے الزامات بھی مستردکئے گئے ہیں جن سے انتخابات کو مبہم اور شک وشبہات سے لبریز بنانے کی جانب نہ صرف اشارے کئے گئے تھے بلکہ تحریک انصاف نے تو اپنی اِسی بات کو پتھرپر لکیر منوانے کی حتی الممکن کوشش بھی کی تھی جس کے لئے پی ٹی آئی نے 126دن تک دھرنے کا اہتمام بھی کیا تھامگراَب جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ سامنے آجانے کے بعد بھی اِس کے ہاتھ کچھ نہ آیااوراَب اِس کی پریشانیوں میں اضافہ یوں بھی ہوتاجارہاہے کہ اِس چارسوصفحات پر مشتمل رپورٹ میں جابجایہ کہاگیاہے کہ انتخابات میں منظم دھاندلی نہیں البتہ بدانتظامی ہوئی جیسے بہت سے ریمارکس کے ساتھ جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ وزیراعظم نوازشریف کو بھجوادی گئی جِسے شائع کرنے کا فیصلہ وزیراعظم خود کریں گے۔

جبکہ یہاں یہ امریقیناقابلِ تحسین اور لائق احترام ہے کہ جیسے وزیراعظم نوازشریف نے جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ آجانے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں اِس بات کو یکسرجھٹلادیاہے کہ ” کو ن کہتاہے کہ سیاست کے میدان کے کھلاڑیوں کے سینے میں دل نہیں ، ذاتی و سیاسی مفادات اور لالچ کی ہوس ہوتی ‘ ‘ وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے اپنے خطاب میں واضح اور والہانہ انداز سے باربار کہاکہ” 2013کے انتخابات منصفانہ ، شفاف اور آزادتھے ،انکوائری کمیشن نے ہمارے موقف کی توثیق کی، اللہ نے سرخروکیا ،الزامات ، بہتان تراشی کا باب اَب ہمیشہ کے لئے بندہوناچاہئے، قوم بے یقینی پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کرے، جو ہوافراموش کرتے ہیں ، آئیں مُلک و قوم کی ترقی و استحکام کا سفرشروع کرتے ہیں،توقع ہے قوم کا وقت بربادکرنے والے سبق سیکھیں گے، اِس فیصلے کے بعد یقیناپاکستان نئے دورمیں داخل ہوگیاہے“جہاں وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے اپنے خطاب میں یہ جھٹلانے کی کوشش کی کہ” سیاست کے سینے میں دل نہیں مفادپرستی اور لالچ سے لبریز اقتدارکی ہوس ہوتی ہے“ جس میں یہ بڑی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

تو وہیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان (جنہیں آج کل ن لیگ کے کچھ کم عقل اور سیاست کے میدان کے نومولوداور کچے کھلاڑی قلابازی خان اور یوٹرن کے بادشاہ جیسے اور بہت سے مضحکہ خیزالقابات سے نوازرہے ہیں اَب اگر یہ کم عقل اور مُلک میں انتشارپرورعناصراپنے منہ اور زبان میں تالے لگالیں یا اِنہیں کسی ماہر موچی سے سلوالیں تو بہت اچھاہوگاکیوں کہ یہ وقت پھرکسی سیاسی بازی گیری میں اُلجھنے یا انتشارکے دلدل میں دھنسنے کا نہیں ہے بلکہ آپس میں باہم شیروشکرہوکرمُلکی اور عوامی مسائل حل کرنے اور قوم کو سیلاب اور دیگر آفات اور بجلی و گیس کے بحرانوں سے نکال کر ترقی و خوشحالی کی جانب لے جانے کا وقت ہے )نے بھی اپنی پارٹی سے طویل مشاورت کے بعدکی جانے والی اپنی ایک پریس کانفرنس میں جوڈیشنل انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو اپناسرغم کرتے ہوئے تسلیم کیا اور اِسے نئے پاکستان کی سیاسی جدوجہدکا حصہ قرار توضروردیامگر اِس کے بعد پھر بھی وہ اپنی پریس کانفرنس میں آخری دم تک اپنی اِس بات پر بضددکھائی دیئے کہ قوم سے معافی میں نہیں نوازشریف مانگیں ، البتہ ..!!اِن کایہ بھی کہناتھاکہ ” رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے انتخابات کے شفاف اور قانون کے مطابق انعقادمیں کمیشن ناکام رہا ، سواِس بناپر الیکشن کمیشن فوری طورپر مستعفیٰ ہوجائے، جبکہ اپنی اِسی پریس کانفرنس میں عمران خان کا یہ بھی کہناتھاکہ ” میں اپنی زبان پر قائم ہوں اور جوڈیشنل کمیشن کا فیصلہ قبول کرتا ہوں۔

جودیشنل کمیشن کی کارروائی پر فخرہے تاہم اِس نے اپناکام ادھوراچھوڑدیاتوقعات بہت زیادہ تھیں، فیصلے سے مایوسی ہوئی ، میرے سوال وہیں رہ گئے ہاں البتہ ..!!رپورٹ کے خلاف سڑکوں پرنہیں آئیں گے، جدوجہدکا مقصدووٹ کے تقدس کو بحال کرناتھا، رپورٹ تسلیم کرلی ہے تو اسمبلی میں بھی جائیں گے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں قوم کو مخاطب کرکے یہ بھی ضرور کہاکہ سب پاکستانی رپورٹ کو پڑھیں“ اِن کا یہ کہنے کا مقصدکیا ظاہرکرتاہے..؟عمران خان ذرایہ بھی واضح کردیں تو بہترہوگامگر قوم اِن کی اِس بات سے ضرورمتفق ہے کہ اُنہوں نے قوم کو ووٹ کے تقدس کی اہمیت اور افادیت سے ضرورت آگاہی دلوادی ہے۔

Judicial Commission

Judicial Commission

بہر کیف …!!یہ بات ابھی تک پاکستانی قوم نہیں سمجھ سکی ہے کہ ایک طرف تو پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان اور اِن کی پارٹی کے خاص و عام عہدیداران و کارکنان الغرض کے لوورز آف عمران خان و پی ٹی آئی سب کے سب ہی یکدل و یک زبان ہوکر جب جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کررہے ہیں تو پھر اِس پر مزیدایسے جملے اور الفاظ بول کر کیوں شک وشبہات اور تحفظات کا اظہار کرکے رپورٹ کو مبہم بنانے اور اِس پر اپنے عدم اعتماد کا اظہارکررہے ہیں جیسے کہ شائد اِنکا ابھی رپورٹ کی شفافیت پر کوئی شک ہے ، ایسے میںاپنے اِس کھلے تضاد پر عمران خان سمیت اِن کی پارٹی کے ہر خام و عام عہدیدار ان اور کارکنان کو اپنا محاسبہ ضرورکرناچاہئے کہ اِن کے اِس رویئے کی وجہ سے اِن سب کا امیج عوام کی نظرمیں سوالیہ نشانات کے ساتھ کتنا بگڑ رہا ہے۔

بہرحال..!!یہ ایک اور مثبت اور صاف سُتھری سیاست کی جانب ایک قدم ہے کہ اُدھر مئی 2013ءکے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرنے والے تین رُکنی جوڈیشنل انکوائری کمیشن کی چارسوصفحات پر مشتمل رپورٹ پراپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے مُلک کو درپیش مسائل اور نازک و کٹھن لمحات میں باہم متحدو منظم ہوکر نبردآزمانے کی اپیل کرتے ہوئے اپنے انتہائی مدبرانہ انداز سے کہاہے کہ جوڈیشنل انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر ہوش کھوکر جوش سے خوشی منانے کی بجائے حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر گورننس بہترکرناہوگی اُنہوں نے جیسے بہت سے ایسے لوگوں کو جو جوڈیشنل انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر خوشیاں اور جشن منانے میںمصروف ہیں اِنہیں متنبہ کرتے ہوئے یہ کہاکہ” فیصلہ ایک سبق ہے، اَب کسی کو کسی بھی حال میں کسی بھی طرح کی کھچڑی نہیں پکانی چاہئے اور اِسی کے ساتھ ساتھ چوہدری نثارعلی خان نے پی ٹی آئی کو بھی سُنادیا ہے کہ پی ٹی آئی سمجھ جائے مسائل کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں ہی ممکن ہے۔

اگر مُلک کو بحرانوں اور مسائل سے نکالناہے تو ہم سب کو اتحاد واتفاق کا مظاہر ہ کرناہوگاکیوں کہ اتحادسے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں،دیکھتے ہیں کہ اِن کی اِن باتوں کو اِن کی اپنی پارٹی اور عمران خان سمیت اِن کی پارٹی کے لوگ کتناسمجھتے ہیں اور اَب کون کھچڑی پکانے سے کتنارکتاہے…؟۔ یہاں میں اپنے قارئین حضرات کو یہ بتاتاچلوں کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لئے جو تین رُکنی جوڈیشنل کمیشن تشکیل دیا گیاتھاچیف جسٹس ناصر الملک اِس کے سربراہ تھے اور اِس کمیشن میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجازافضل بھی شامل تھے، اِن تین افرادپر مشتمل جوڈیشنل کمیشن نے چارماہ کے عرصے میں85دنوں کی اپنی کارروائیوں کے دوران کم وبیش59سیشن کئے جن میں 3 بندکمرے کے اجلاس بھی شامل ہیں اِن میں لگ بھگ 69گواہوں کے بیانات قلمبندکئے گئے اور مُلک کی سیاسی پارٹیوں اور دانشوران قوم ملت سے بھی تجاویزات اور شواہد طلب کئے گئے جن میں پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ و سابق سیکرٹری پنجاب، رٹرننگ افسران سمیت سندھ ،پنجاب اور بلوچستان کے صوبائی الیکشن کمشنر اور پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے افسر بھی شامل تھے جبکہ مُلک کی کئی سیاسی پارٹیوں سمیت کوئی 47کے قریب افرادنے اپنی تجاویزات پیش کیں تھیں۔

اَب اِس منظر اور پس منظر میں یہاں جو ایک خبراور اِس خبرمیں امکان کی صورت میں جس بات اظہارکیاگیاہے یہ ایک سب سے زیادہ اہم ترین نکتہ قابلِ ذکر ہے جواپنے اندر انتہائی سے زیادہ اہمیت اختیارکئے ہوئے وہ یہ ہے کہ ”جوڈیشنل انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے دائمی فیصلے کے آجانے کے بعد وزیراعظم نوازشریف اور اِن کے قریبی رفقاءنے فیصلہ کیاہے کہ آئندہ وہ قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور اِن کے منتخب ممبران کے بارے میں محتاط رویہ اختیارکریںگے تاکہ مُلک میں انتشار کی فضاءقائم نہ ہوسکے آج جہاں وزیراعظم نوازشریف اور اِن کی پارٹی کی جانب سے اتناکچھ سوچاجارہاہے تو وہیں خبریہ بھی ہے کہ آئندہ چنددِنوں میں وزیراعظم نوازشریف کی عمران خان سے ون ٹو ون ملاقات کا بھی امکان ظاہرکیاجارہاہے جس سے متعلق اطلاع یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن ) کا اعلیٰ سطحی وفد عمران خان سے رابطہ کرکے بالمشافہ ملاقات کرے گا“ دُعاہے کہ ایساہی ہوجائے جس سے متعلق ایسی خبریں آرہی ہیں۔

جبکہ آج اِس سے انکارنہیں کہ وزیراعظم نوازشریف اور اِن کے حکومتی اراکین نے توجوڈیشنل انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو کھلے دل سے تسلیم کرلیاہے مگر اَب یہ اور بات ہے کہ دونوں ( نوازو عمران )جانب کے کچھ افراد ایک دوسرے پر یہ دباو ¿ ڈالنے کے لئے یہ کہتے پھررہے ہیںکہ عمران کو معافی مانگنی چاہئے تو کوئی یہ کہتادیکھائی دیتاہے کہ نوازشریف کو معافی تلافی کرنی چاہئے اِس انتشار پھیلانے والے مطالبے سے یہ خدشہ پیداہورہاہے کہ کہیں اگلے دِنوں میں مُلک میںپھر ایسی کوئی صورت حال نہ پیداہوجائے کہ کسی کی جانب سے محض جوڈیشنل انکوائری کمیشن کے چارسوصفحات پر مشتمل صاف وشفاف فیصلے پر مرتب کی جانے والی رپورٹ پر معافی مانگنے یا مانگوانے کے لئے دھرناسیاست کا آغازنہ ہوجائے تو پھر طویل LOVELYدھرناسیاست سے مُلک اور عوامی مسائل حل ہونے سے رہ جائیں اور مُلکی ترقی اور تھوڑی بہت بہتر ہوتی معیشت کا ستیاناس ہوکررہ جائے جبکہ اِس LOVELYدھرناسیاست کاپھر سے غیر شادی شدہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو فائدہ پہنچے اور پھر اِن کی دھرناسیاست میں کے دوران پیداہونے والی محبتوں سے اِن کی شادیوں کا سلسلہ شروع جائے جس سے پھر مُلک کی آبادی تیز بڑھنے لگے اور مُلک گیس و بجلی اور پانی کے بحرانوں میں گھرتا ہی چلا جائے۔

Azam Azim Azam

Azam Azim Azam

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com