counter easy hit

معاشرے میں عورت کا کردار

Woman

Woman

تحریر : ایم ابوبکر بلوچ
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی 8مارچ 2016ء کو خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔خواتین کا عالمی دن سب سے پہلے 28فروری 1909ء کو منایا گیا۔1977ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو ہر سال 8 مارچ کو باقاعدہ طور پہ منائے جانے کا اعلان کیا۔پاکستان میں ہر سال اس دن کو سکولز،کالجز میں مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے جنکا مقصد معاشرہ میں عورت کی اہمیت ،مرتبے کو اجاگر کرنا ہے اسکے علاوہ ان بہادر خواتین کی خدمات کو سراہا جاتا ہے جنہوں نے مختلف شعبوں میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھ کے ملک و قوم کا نام روشن کیا۔اگراس موقع پہ پاکستان کی حوصلہ مند،بہادر خواتین کا تذکرہ کیا جائے تو ان ناموں میں سے چندمعتبر نام قابل ذکر ہیں جن میں منیبہ مزاری،عائشہ فاروق اور ارفع کریم شامل ہیں۔

منبیہ مزاری منبیہ مزاری ایک لکھاری،سرگرم کارکن اور ٹی وی اینکر ہیںجنہوں نے معذوری کے باوجود اپنی کامیابی کی منزل کو حاصل کیا۔2007ء میں ایک کار حادثے میں منبیہ مزاری کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی تھی جس کی وجہ سے محض 21سال کی عمر میں اپنے چلنے کی صلاحیت کھو دی لیکن اپنا عزم اور حوصلہ بلند رکھا،اس وقت وہ فنون لطیفہ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور اپنی تعلیم کو مکمل کر کے یہ ثابت کیا کہ اگر انسان کے حوصلے بلند ہوں تو معذوری کے باوجود بڑی سے بڑی کامیابی باآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔

عائشہ فاروق۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والی 28سالہ عائشہ فاروق پاکستان کی پہلی فائٹر پائلٹ ہیں۔عائشہ پاکستان ائیر فوس کیلئے چینی کمبیٹ F-7PG طیاروں پہ پرواز کرتی ہیں ۔صرف تین برس کی عمر میں عائشہ اپنے والد کے سایہ سے محروم ہو گئیں عائشہ نے سخت محنت اور جسمانی ٹریننگ حاصل کر کے اپنے آپ کو عظیم بہادر خواتین کی صف میں شامل کیا۔

ارفع کریم ۔ ارفع کریم رندھاوا نے 2004ء میں سب سے کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائڈپروفیشنل کا خطاب حاصل کیا،ارفع نے متعدد بین الاقوامی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فورمز پہ پاکستان کی نمائندگی بھی کی ۔ارفع کریم کو اللہ پاک نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا لیکن ہماری بدقسمتی کہ یہ ہونہار طالبہ محض 16برس کی عمر میں جنوری 2012ء میں ہمیشہ کیلئے ہم سے جدا ہو گئیں ۔اللہ پاک انہیں جنت میں جگہ دیں(آمین) مارچ 2016ء کے پہلے ہفتے پنجاب اسمبلی میں تحفظ حقوق نسواں کے نام سے ایک بل پاس کیا گیا جس کے نکات میں سے چند اہم نکات یہ ہیں۔(١)تحفظ حقوق نسواں بل میں خواتین کو گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنے کیلئے عورتوں پہ تشدد کی صورت میں مردوں کو دو روز کیلئے گھروں سے نکالے جانے کا قانون پاس کیا گیا۔(٢)خاتون کو جان سے خطرے کی صورت میں مرد کو جی پی ایس ٹریکٹر کڑے پہنائے جانے کی منظوری ۔(٣)خاتون کو کسی مالی نقصان کے ازالے کی رقم براہ راست مرد کی تنخواہ سے کٹوتی کئے جانے کی اجازت۔

پنجاب اسمبلی سے اس بل کی منظوری کے بعد ملک بھر میں ایک ہیجان برپا ہے کیونکہ منظوری سے پہلے اس بل کی سفارشات کو اسلامی نظریاتی کونسل میں پیش کیا جانا ضروری تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین کی اکثریت نے پنجاب کے تحفظ حقوق نسواں بل کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی رائے دی۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اسلام نے عورت کو معاشرہ میں جو مقام مرتبہ،عزت وقار عطاء کیا اسکی نظیر کسی اور مذہب میں ناممکن ہے اسلام نے عورت کو مرد کی طرح مساوی حقوق دیئے ۔اسلام نے عورت کو تعلیم کا حق دیا۔

اسلامی حدود میںرہتے ہوئے ملازمت کا اختیار دیااسلامی معاشرہ میں عورت کو وراثت میں حصہ دیا جاتا ہے ۔عورت اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے اگر اپنی شادی سے خوش نہیں تو خلع لے سکتی ہے ۔اسلام نے عورت کو ماں،بیٹی،بہن اور بیوی کی حیثیت سے جو عظمت ،جو محبت اور جس مقام سے نوازا ہے وہ دنیا کی کسی تہذیب یا مذہب میں نہیں دیا گیا۔اللہ پاک قرآن پاک میں سورہ النساء میں ارشاد فرمایا ہے کہ،،جو نیک عمل کریگا خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ ہی جنت میں داخل ہونے کے حقدار ہونگے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی،، اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے عورت کو مرد کے برابر جنت کا حقدار قرار دیا۔

اللہ پاک نے قرآن میں ایک پوری سورت ،،مریم ،،پاک دامنہ ،مومنہ عورت کے حق میں اتاری۔سورہ التحریم میں ارشاد ربانی ہے کہ ،، اللہ ایمان والوں کیلئے مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی ،جب اس نے دعا کی ؛اے میرے رب میرے لئے جنت میں ایک گھر بنا دو ،مجھے نجات دے فرعون سے اور اس کے عمل سے اور مجھے نجات دے ظالموں کی قوم سے۔اور مریم بنت عمران کی مثال بیان کرتا ہے جس نے اپنی عصمت کی حفاطت کی ،پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اس میں اپنے رب کے کلمات اور اس کے کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبردار میں سے تھیں۔نبی اکرم محمد مصطفیٰۖکا پاک ارشاد ہے کہ ،،جنت ماں کے قدموں تلے ہے،، ایک اور جگہ پر حضور اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا،، جس کا مفہوم ہے کہ جس شخص نے اپنی تین لڑکیوں کی اچھی پرورش کی اور شادی بھی کرائی وہ جنت کا حقدار ہو گیا۔

اسلام نے تو عورت کو معاشی جدوجہد سے بھی آزاد رکھا ہے اس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اسکے باپ، بھائی اور بیٹے پہ ہے ۔افسوس صد افسوس آج کی عورت مغربی معاشرہ کی تہذیب کو اپنانے میں اپنا فخر محسوس کرتی ہے ،وہ مغربی معاشرہ جس میں بوڑھے والدین کو اولڈ ہائو س میں رکھے جانے میںترجیح دی جاتی ہے حالانکہ قرآن پاک میں اللہ کریم کا ارشادہے ،، جسکا مفہوم ہے کہ جب تمھارے والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو،،۔

مغربی معاشرہ میں توعورت کو گرل فرینڈ کا نام دے کے ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے حالانکہ اسلام نے عورت کو بیوی جیسے پاکیزہ رشتے سے نوازا اور پاک دامن بیوی کو نصف ایمان قرار دیا،، مغربی معاشرہ تو وہ ہے جس میں عورت کو عریاں کر کے بازار کی زینت بنا دیا گیا اسکے برعکس اسلام نے عورت کو پردے میں اوڑھ کے اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری سونپی۔ مغربی قوانین کبھی بھی ہمارے معاشرے کی خواتین کو بااختیار نہیں بنا سکتے مشرقی معاشرے میں خواتین کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا البتہ خاندانی نظام کو بہتر بنانے کی ضروت ہے۔

حالیہ تحفظ نسواں بل نے اپنے ثمرات دیکھانا شروع کر دئے ہیں کچھ روز قبل نیوز چینل کی خبر کے مطابق پاکستان ہی کے شہر سیالکوٹ میں تین خواتین نے مل کر ایک ٹریول ایجنسی لوٹ لی ۔تحفظ نسواں بل میں مذکورہ تین نکات اسلامی قانون کے منافی ہیں اگر خواتین کو حقوق دینا ہیں تو وراثت میں حصہ کو یقینی بنایا جائے(یہ قانون تو پہلے سے موجود ہے لیکن عملدرآمد بالکل نہ ہونے کے برابر ہے)۔بچیوں کی تعلیم پہ خصوصی توجہ دی جائے اور تعلیمی میدان میں سہولیات سے نوازا جائے۔

یورپ کے چاہنے والو؟؟؟ تم نے عورت کو کیا دیا؟؟ حقیقت تو یہ ہے کہ مائوں ،بہنوں کے آنچل اتارے گئے۔عورت کی عزت ،راحت چھین کے بازار حسن کی زینت بنا دیا۔مشرقی معاشرے کی عورت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیے کہ آج جس تحفظ نسواں بل کی منظوری کو اپنے لئے عزت،سکون کا سبب سمجھتی ہے کل کو وہی اسکی بربادی کا سامان بنے گا،نہ چاہتے ہوئے بھی آپکو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اس بل کی منظوری سے ہمارے معاشرے میں بے حیائی عام ہو گی جب عورت تحفظ نسواں بل کی آڑ میں سرعام بازار کی زینت بنے گی تو بلا شبہ نقصان اٹھائے گی۔

اس کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں انصاف کی فراہمی ناپید ہے مجرم کے دل سے سزا کا خوف ختم ہو چکا ہے،پچھلے چند ماہ کے دوران صرف پنجاب میں درجنوں بچیوں کوانتہائی بے رحمی سے جنسی درندگی کا نشانہ منایا گیا لیکن کسی بھی مجرم کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا گیا۔اللہ پاک ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے،آمین۔

Abubakar Baloch

Abubakar Baloch

تحریر : ایم ابوبکر بلوچ