counter easy hit

محبت کا اسمگل شدہ شاعر

آج رات جو بقول شخصے امریکہ کی جدید سیاسی تاریخ کی سب سے بھاری رات ہے۔ اور تمام شب صدارتی انتخابات کے تمام نتیجے موصول نہیں ہوئے تھے۔ کالم تو امریکی انتخابات پر لکھنا تھا لیکن اگلے ہفتے تک۔ بس یہ سوچ رہا ہوں کہ جب جرمنی میں نازی پارٹی اور اٹلی میں میسولینی جیتا ہوگا تو تب وہاں کے سوچنے والے ذہنوں اور ضمیروں کا کیا حال ہوگا۔وہ تو انیس سو تیس چالیس کی دہائیاں تھی۔یہ تو دو ہزاری اور اکیسویں صدی کی گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے ۔ ڈیجیٹل ڈیموکرسیز کا زمانہ ۔ چلو تب تک نذار قبانی ۔

میں سوچتا ہوں کہ آج اگر نذار قبانی زندہ ہوتا تو اپنا وطن شام لہو لہاں دیکھ کر اسے کیسا لگتا۔ اس نے جس نے اپنے شہر دمشق کو گل یاسمین سے تعبیر کیا تھا۔
اسکے ہموطن شامی شاعر یوسف قرقوطلی نے نذار قبانی کی موت پر کہا تھا ’’وہ ہماری زندگیوں کیلئے اتنا ضروری تھا جتنا انسان کیلئے ہوا ضروری ہے‘‘۔
نذار قبانی محبت کا خدا تھا۔ اس نے کہا تھا:
’’ہربار لمبی جدائی کے بعد
جب میں تمہیں چومتا ہوں
تو ایسا لگتا ہے جیسے میں کوئی مدفون محبت نامہ
سرخ میل باکس میں پوسٹ کر رہا ہوں۔‘‘
کسی عرب شاعر نے کہا تھا یہ کہنا مشکل ہے کہ نذار قبانی اپنے ملک سے پیار کرتا ہے کہ عورت سے ۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ نذار قبانی کے نزدیک اسکے ملک اور عورت میں کوئی فرق نہیں تھا۔ کیونکہ نذار قبانی کے نزدیک قومی آزادی عورت کی آزادی کے بغیر بے معنی تھی- اس نے کہا ’’ خوشبو بھی عورت ہے پیرس بھی عورت ہے‘‘ اس نے اپنے شہر دمشق کو گل یاسمین کی خوشبو کہا تھا۔ اس نے کہا تھا:
سر سبز تیونس میں تیرے پاس ایک عاشق کی طرح آیا ہوں
میں اپنی بھنوئوں پر ایک گلاب اور ایک کتاب سجاکر
محبت میرا پیشہ ہے
جب گیت گاتا ہوں تو پتے سبز ہوجاتے ہیں
دمشق کا چاند میرے خون میں سفر کرتا ہے
اناج، گنبذ اور بلبلیں
دمشق میں گل یاسمین اپنی سفیدی شروع کرتا ہے
گھوڑے اپنا سفر شروع کرتے ہیں
دمشق سے ہی ابدیت اپنا سفر شروع کرتی ہے
زبانیں دائم رہتی ہیں لہجے محفوظ۔
عربیت دمشق سے ہی تشکیل ہوتی ہے۔
نذار قبانی عربوں کی ہر نسل کا شاعر ہے خاص طور نئی نسل اپنی کاپیوں ، ڈائریوں، خطوں ، اور کلاس روم میں بلیک بورڈوں اور کالج کے نوٹس بورڈوں پر اسکی شاعری لکھتی ہے۔ نذار قبانی نے کہا تھا کہ نئی نسل دنیا کے ملکوں کے دروازوں پر میرا پاسپورٹ ہے۔
نذار قبانی عربی زبان اور عرب دنیا کا وہ دلربا شاعر ہے جسکی ہوشربا شاعری نے قدیم عرب شاعری کی روایات کو جدید زمانوں سے جوڑتے ہوئے پہلی بار اشتہا انگیز شاعری کو متعارف کروایا ہے۔
نذار قبانی کے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے تھے او ریہ مصر کے صدر جمال عبد الناصر کے بعد کسی بھی عرب شخصیت کے جنازے کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ ناصر کی موت پر نذار قبانی نے عرب حکمرانوں پر لکھا تھا: ” آخری پیغمبر کے جنازے میں وہ اپنے ماتمی جبوں میں خنجر چھپائے چل رہے ہیں۔’’اور اسکی نظمیں ابو جہل نے فیلٹ اسٹریٹ خریدی کی ہے‘‘، یا’’روٹی چرس اور چاند‘‘ نے ہربار ایک تہلکہ مچادیا تھا، نام نہاد شامی پارلیمان میں جیسے زلزلہ آ گیا تھا اور اسے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ حیرت ہے کہ وہ غیر جمہوری، مطلق العنان اور مظلوم لیکن قدامت پسند عرب ملکوں میں ایک عظیم آزاد ذہن اور بیباک شاعر تھا۔ میری دوست اور رائٹر عرفانہ ملاح نے نذار قبانی پر سندھی زبان میں اپنے ایک جامع مگر خوبصورت مضمون میں اسے “دہشتگردی کے دیس میں محبت کا شاعر” قرار دیا تھا۔ جیسے انہوں نے اپنی نظم ’’تمہارا جسم میرا نقشہ ہے‘‘ میں کہا تھا:
میں اداسی کا سب سے پرانا دارالخلافہ ہوں
اور میرا زخم فراعین کی قبروں پر بنے ہوئے نقش نگار
میرا درد بیروت سے لیکر چین تک پھیلی ہوئی تیل کی دھار ہے
میرا درد وہ قافلہ تھا جو ساتویں صدی کے جنم پر
خلیفہ شام نے ملک چین روانہ کیا تھا
جو ڈریگن کے منہ میں گم ہوگیا
تخلیق کے دن سے لیکر میں اپنے وطن کی تلاش میں ہوں
اپنی پیشانی پر عورت کے بالوں کی صورت
جوکہ مجھے دیوار پر لکھتی ہے اور مٹا دیتی ہے
اور عورت کی محبت کی تلاش میں ہوں
جو مجھے سورج کی سرحد پر لیجائے
اور اپنے ہونٹوں سے گرا کر پھینک دے
تومجھے ہاتھی دانت کی کنگھی کی طرح اپنے بالوں کی سیاہی میں رکھ دے اور بھول جائے
میں ماہ اکتوبرکی کتاب میں رکھا ہوں وہ نازک پتہ ہوں
جسے تمہارے پیار نے مسل کر رکھ دیا ہے۔
نہ صرف عرب دنیا، اسرائیل میں بھی اسکی شاعری کو زبردست پسند کیا جاتا ہے۔ نذار قبانی کی شاعری کیلئے اسرائیل کے سابق وزیر اعظم شمعون پیریز نے کہا تھا’’نذار قبانی کی شاعری گزرے ہوئے دنوں کا بھولا ہوا بوسہ ہے‘‘ باوجود اسکے کہ نذار قبانی کی شاعری میں فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی پالیسی اور کارروائیوں کی جا بجا مذمت نظر آتی ہے۔ جیسے اس نے اپنی مشہور نظم ’’یروشلم‘‘ میں کہا ہے:
اے یروشلم یا شہر غم
اے آنکھ میں بھٹکتے ہوئے اشک عظیم
تجھ پر
جارحیت کو کون روکے گا

اے گوہر مذاہب کون دھوئے گا تیری خوں آشام دیواروں کو؟

کون انجیل کی حفاظت کرے گا؟کون قرآن کو بچائے گا؟
کون مسیح کو ان سے بچائے گا
جنہوں نے مسیح کو قتل کیا
کون انسان کو بچائے گا؟

بشکریہ جنگ

 

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website