counter easy hit

تحریک انصاف کے غدار یا باغی

PTI

PTI

تحریر: رانا محمد اشرف
کسی دانشور کا قول ہے کہ جھوٹ کا اتنا پرچار کرو کہ جھوٹ بولتے بولتے سچ بن جائے ایسی ہی صورتحال تحریک انصاف سے نکالے جانے والے سابق ایم این اے محمد ریاض فتیانہ کی ہے جنہیں پچھلے دنوں تحریک انصاف سیکرٹریٹ نے فیصلہ کے ذریعے سابقہ ایم این اے اور چئرمین تحریک انصاف انسانی حقوق کمیشن ریاض فتیانہ کی پارٹی رکنیت معطل کردی اور انہیں پارٹی سے نکال دیاگیا۔ اس اچانک اعلان نے تحریک انصاف کے حلقوں میں زبردست بے چینی پھیلا دی اور لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ریاض فتیانہ نے آخر ایسا کونساجرم کردیا جس کی بنا پر انہیں یک طرفہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی سے بے دخل کردیا گیا۔

جس کے لیے لفظی طورپر تحریک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چوہدری سرورکومورد الزام ٹھہرایاجارہا ہے جس کے لیے تاویل پیش کی جارہی ہے کہ چوہدری سرور نے ریاض فتیانہ کو اپنے لیے ایک خطرہ محسوس کیااور مثال پیش کی گئی کہ چوہدری سرور کا اپنا آبائی گاں چک نمبر 331 گ ب سلیم پور کی یونین کونسل 79 ہے۔ یہاں سے چئیرمین کی سیٹ پردو امیدوار کھڑے ہیں ایک ن لیگ کے نجف ریاض اللہ جو کہ چوہدری سرور کے سگے بھانجے ہیں۔ جبکہ انکے مقابل تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ایاز کاشف الیکشن لڑ رہے تھے۔ تحریک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چوہدری سرور نے اپنا سارے کا سارا سیاسی وزن اپنے سگے بھانجے نجف ریاض اللہ کے پلڑے میں ڈال دیا۔یہ تمام حالات واقعات جھوٹ کا پلندہ ہونے کے ساتھ سراسر عوام کو گمراہ کرنے کی بات ہے کیونکہ چوہدری سرور جوکہ برطانیہ کی سیاست کرنے سے لے کر گورنر پنجاب بننے تک اور اس کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت کرکے پنجاب کے آرگنائز ر بننے تک نہ تو انہوںنے چک نمبر 331 گ ب سلیم پور کی سیاست میں حصہ لیا اورنہ ہی کسی امیدوار کو ٹکٹ دینے دلوانے میں اپنی کوئی رائے دی اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو بلدیاتی انتخابات جس میں محمدریاض فتیانہ کے تاریخ دانوں نے چوہدری محمد سرور کو حلقہ این اے 94 میں پی ٹی آئی کی شکست کا ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں

حلقہ این اے 94 میں پی ٹی آئی کا صفا یا کرنے میں اہم کردار محمد ریاض فتیانہ کا ہے جنہوںنے قاف لیگ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کے دھرنا کی کامیابی پر عوام میں بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کے پیش نظر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی جب انہیں تمام جماعتوںنے لینے سے انکار کردیا عام جنرل الیکشن میں جب عمران خاں قائد تحریک انصاف پیرمحل کمالیہ آئے تو اس وقت پیر علی بابا سمیت کمالیہ کے گدی نشینوں کے پاس گئے مگر ریاض فتیانہ نے تحریک انصاف کو مقبول نہ پاکر اس وقت عمران خاں سے ملنا تک گوارا نہ کیا جب پی ٹی آئی کا مورال بلند ہوا تھا تمام حدودقیود کو توڑتے ہوئے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے اپنی ہمدردیاں توانائیاں صرف کرنا شروع کردی اس وقت تحصیل پیرمحل اور کمالیہ میں تحریک انصاف کے بنیادی کارکنا ن کمالیہ سے رائے علی قاسم ، چوہدری محمدسرور ، پیرمحل سے میجر احمد نواز ، ثاقب سہیل ، میاں اخترجاوید ایڈوکیٹ ، خادم حسین ، محمد عرفات ،ممتا زدولتانہ ، سمیت سینکڑوں لوگوںنے تحریک انصاف کی تنظیم سازی کی اور تحریک انصاف کا پیغام گھر گھر پہنچاکر عام انتخابات میں پی پی 89 کے امیدوار میاں اخترجاوید ایڈوکیٹ کو 12 ہزا رووٹ دلواکر پی پی89 میں تحریک انصاف کی مضبوط بنیاد فراہم کردی یونہی بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہواکوئی بھی امیدوار مسلم لیگ ن کے مقابلے میں ٹکٹ لینے کے لیے آمادہ نہ ہوا مگر تحریک انصاف کے رہنمائوںمیاں اخترجاوید ایڈوکیٹ ، ممتاز دولتانہ نے منظم سیاسی مہم شروع کی تواسی دوران محمد ریاض فتیانہ نے تحریک انصاف پر شب خون مارتے ہوئے تحریک انصاف کے بنیادی کارکنوں کو پائوں تلے روندڈالا تحریک انصاف کے بنیادی کارکنوں نے احتجاج کیا کہ موسمی رکنیت حاصل کرکے بنیادی کارکنوں کو استقبال کے لیے مجبور کرنے اور بغیر کسی قربانی کے پی ٹی آئی پر قبضہ کرنے والوں کو روکاجائے تو انہیں پش پست ڈالتے ہوئے

این اے 94 میں محمد ریاض فتیانہ کو مکمل پروٹوکول دینا شرو ع کردیا محمد ریاض فتیانہ نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم میں شمولیت کرنے کے باوجود اپنے حامی ووٹروں سپورٹروں کو فتیانہ لیگ کا پلیٹ فارم اندرون خانہ استعمال کرتے رہے چاہیے تو یہ تھاکہ محمد ریاض فتیانہ کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے این اے 94میں پی ٹی آئی کا گراف بلند ہوجاتا مگر محمد ریاض فتیانہ کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے بنیادی کارکنوں عہدیداروں میں سخت تشویش شروع ہوگئی پی ٹی آئی کا مورال گرنے لگا کارکن عدم تحفظ کا شکار ہوگئے اس دوران بلدیاتی انتخابات آگئے میونسپل کمیٹی پیرمحل ، کمالیہ سمیت این اے 94میں پی ٹی آئی کے کارکن جوکہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ کی امیدمیں یونین کونسلوں وارڈ ز سے کھڑے ہوئے ان کو ٹکٹ دینے کی بجائے ایسے غیر متعلقہ امیدواروں کو پی ٹی آئی کے ٹکٹ دیے گئے جن کا پی ٹی آئی سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا بلکہ جماعت اسلامی اور مخدوم علی رضا گروپ کے افراد جو اب پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے کامیاب ہوئے ایسے سینکڑوں افراد کو محمد ریاض فتیانہ کی ایماء پر نواز اگیا جبکہ بنیادی کارکنان کو ٹکٹ دینے کی بجائے اس کے متبادل آزاد امیدواروں کو سپورٹ کرکے پی ٹی آئی کو بنیادی سطح سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی مدینہ بلاک پیرمحل میں اقبال احمد خاں ٹکٹ ہولڈر ، غوثیہ آباد میں احسان ننھا بنیادی پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مقابلے میں آزا د امیدوار کامیاب کروائے بلدیاتی انتخابا ت گذر گئے مخدوم سید علی رضاشاہ کے وفات پانے کے بعد پی پی 89 میں ضمنی انتخاب شروع ہوا جس میں محمد ریاض فتیانہ سمیت ان کی اہلیہ آشفہ ریاض فتیانہ ،میجر احمد نواز ، سونیا علی رضا ، صائمہ علی رضا شاہ ،ر انا شفیق خان میاں اخترجاوید ایڈوکیٹ نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ان میں سے ایک امیدوار کا نام فائنل کیاجانا تھا ان تمام پراسس میں چوہدری محمد سرور یا اس کے خاندان کے کسی بھی شخص نے نہ توبلدیاتی انتخابات میں اورنہ ہی ضمنی انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت کی حالانکہ اگر انہیں پی پی 89 یا این اے 94کی سیاست کرنا ہوتی تو اس سے بہتر سنہری موقع کبھی بھی نہ ہوتا اور مسلم لیگ ن بھی ان کے میدان میں آنے پر شاید اپنا امیدوار کھڑا نہ کرتی اگر چوہدری محمدسرور کی پی پی 89 کے ٹکٹ کی دلچسپی ہوتی تو وہ اپنے بھانجے ڈاکٹر کشف ریاض اللہ کو بھی ٹکٹ دلواسکتے تھے

جن کا پی پی 89 میں معتبر حلقہ احباب موجود ہونے سمیت سیاسی اثر رسوخ قدا ور ہے محمد ریاض فتیانہ نے سیاسی دائو پیچ استعمال کرتے ہوئے ضمنی انتخاب میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیڑھی تلاش کرنا شروع کردی پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے کوشش کرنا شروع کردی مگر انہیں اپنی سابقہ سیاسی مداخلت مخالفت کی بناء پر مسلم لیگ نے ٹکٹ دینا تو درکنار اپنا کارکن بنانا بھی گوارانہ کیا حالانکہ ان کے بیٹے موجود ہ پنجاب اسمبلی کے رکن بھی ہے مسلم لیگ ن سے مایوسی کے بعد پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے اپنے لیے اور اپنی اہلیہ کے لیے حلقہ کا جائز ہ لیناشروع کردیا تو انہیں اپنی کامیابی مشکل نظر آنے سمیت سیاست سے آئوٹ ہونے کا خطرہ محسوس ہوا جس پر محمد ریاض فتیانہ نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیتے ہوئے ایک تیر سے پانچ شکار کرنے کی کوشش شروع کردی اور آئندہ آنے والے انتخابات میں اپنی راہ ہمراہ کرنے سمیت ایسی صورتحال پیدا کرنا کہ کوئی آئندہ اس حلقہ سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ لے اور انہیں آسانی سے ٹکٹ مل جائے ، متفقہ رائے سے محمد ریاض فتیانہ نے میاں اخترجاوید ایڈوکیٹ ،میجر احمد نواز اور اپنے اور اپنی اہلیہ آشفہ ریاض فتیانہ کے کاغذات واپس کروانے کا عندیہ دے کر سوہنیا علی رضا شاہ کو پی ٹی آئی کا امیدوار بنانے کا عندیہ دیاجس کو تمام عہدیداران نے مشاورت رائے سے قبول کرلیا اس دوران محمد ریاض فتیانہ نے سوہنیا علی رضا شاہ کو بتلادیاکہ ایک گھنٹہ پہلے آپ نے پی ٹی آئی کو جواب دینا ہے تاکہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیں چوہدری محمد اشفاق ، میاں اخترجاوید ، میجر احمد نواز نے خطرے کو بھانپتے ہوئے

پی ٹی آئی کا ٹکٹ نامزد جاری کروانے کے ساتھ پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سے بلینک ٹکٹ بھی منگوالیا ٹکٹ جمع کرواتے ہوئے سوہنیا علی رضا نے ایک گھنٹہ قبل تحریک انصاف کے ضلعی عہدیداروں کو آگاہ کردیا کہ وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی بجائے آزا دحیثیت سے الیکشن لڑناچاہتی ہے جس پر پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت کو سازش کا علم ہواتوانہوںنے مشاورت شروع کردی اس دوران رانا شفیق خان جوکہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں امیدوار تھے کو بلواکر بنیادی رکنیت دلوائی اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے امیدوار نامزد کردیا رانا شفیق خان نے پی ٹی آئی کو تازہ خون فراہم کرتے ہوئے اپنی کمپیئن کے ذریعے حکومتی امیدوار کے مشکلات پید اکردی چاہیے تو یہ تھاکہ محمد ریاض فتیانہ پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کو بلاچوں چرا سپورٹ کرتا مگر محمد ریاض فتیانہ جس نے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا کرنے کا عزم کررکھا تھا نے پی ٹی آئی کے نامز دامیدوار راناشفیق خان کی حمایت کرنے کی بجائے سوہنیا علی رضا شاہ کی سپورٹ کرنا شروع کردی بلدیاتی انتخاب کی تاریخ جس میں عبدالمجید ثمینی جوکہ پی ٹی آئی کے نامزد بلدیاتی امیدوار تھے کو آزادامیدوار حافظ محمدعبید کے حق میں دستبردار کروا کر کامیاب کروایا گیا کی مشق دوبارہ شروع کردی پی ٹی آئی کی ضلعی اور مقامی قیادت کو پی ٹی آئی کے نامز دامیدوار راناشفیق خان کو آزاد امیدوار کے حق میں دستبردار کروانے کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کرنا شروع کردی جس کے لیے اپنے ہمدرد کارکنوں کے ذریعے پی ٹی آئی کے نامز دامیدوار راناشفیق خان کی مخالفت اور الیکشن سے دستبرداری کا عندیہ دے دیا مگر تمام ترتردیدی وضاحت کے باوجود پی ٹی آئی کے نامز دامیدوار راناشفیق خان کو الیکشن سے دستبردار کروانے کے لیے پی ٹی آئی کے مقامی رہنمائوں کو بھی قائل کرلیا اس نتیجہ سے بے خبر کہ پی ٹی آئی کے نامز دامیدوار راناشفیق خان وہ شخص جس نے عین وقت میں پی ٹی آئی کی لاج رکھتے ہوئے ٹکٹ لیا اور راناشفیق خاں کو دوبارہ سوہنیا علی رضا کے حق میں دستبردار کرواناشروع کردیا

PPP

PPP

جو پہلے ہی محمد ریاض فتیانہ کے کہنے پر پی ٹی آئی کو دھوکہ دے کر آزا د امیدوا رکی حیثیت سے میدان میں حصہ لے رہی تھی راناشفیق خاں جوکہ منجھے ہوئے امیدوار اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے 27 ہزار ووٹ لے چکے تھے نے الیکشن سے دستبرداری سے انکار کردیا اور اپنی مہم جاری رکھی جس پر محمد ریاض فتیانہ جس کے پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں سے روابط تھے ان کے ذریعے راناشفیق خاں کو جاری کردہ پی ٹی آئی ٹکٹ واپس لینے کے لیے لابنگ شروع کردیا راناشفیق خاں نے سوہنیا علی رضا کے حق میں دستبردار ہونے کی بجائے مسلم لیگ ن کے امیدوار علی بابا کے حق میں دستبردا رہونے کا اعلان کردیا کیونکہ وہ پہلے ہی علی بابا کے ساتھ عام جنرل االیکشن میں حصہ لے چکے تھے یہ اعلان تحصیل پیرمحل اور پی پی 89این اے94میں پی ٹی آئی کے خاتمہ کا اعلان ہونے سمیت محمد ریاض فتیانہ کی پی ٹی آئی کامکمل صفایا کرنے کی سازش کو کامیاب بناگیا کیونکہ محمد ریاض فتیانہ نے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے صوبائی امیدواروں میجر احمد نوا ز، میاں اخترجاوید ، ممتازدولتانہ ، صائمہ علی رضا شاہ ، پیر اسد عباس شا ہ ، سوہنیا علی رضا شاہ کو ایک تیر سے شکار کرلیا اور آئندہ کے لیے علی بابا کو قومی اسمبلی کی سیاست سے صوبائی اسمبلی کی سیاست تک محدود کردیا

جن کی وجہ سے محمد ریاض فتیانہ عام جنرل الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار سے 45 ہزار رووٹوںسے ہارے تھے پی ٹی آئی پنجاب کے عہدیداروںنے جب تمام ترصورتحال کا جائز ہ لے کر محمد ریاض فتیانہ کی پی ٹی آئی کی پارٹی رکنیت معطل کردی مگر محمد ریاض فتیانہ کو اپیل کا مکمل موقع دیا محمد ریاض فتیانہ نے اپنی سیاسی پالیسی کو بدلنے کی بجائے تمام تر زور چوہدری محمد سرور آرگنائز رپنجاب کے خلاف پراپیگنڈہ مہم پر صرف کردیا حلقہ میں اور ملکی سطح پر باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ چوہدری سرور نے حلقہ این اے 94میں خود الیکشن میں حصہ لینے کے لیے پارٹی رکنیت معطل کروائی سوشل میڈیا ٹیم اورٹوئٹر اور فیس بک پرباربار جھوٹ کے ذریعے ثابت کیا جارہا ہے کہ محمد ریاض فتیانہ این اے 94میں پی ٹی آئی کے ہیرو تھے جس نے پی ٹی آئی کو چارچاند لگادیے اگر حقائق جاننا ضروری ہوتو ذراحلقہ میں آکر پی ٹی آئی کے بنیادی کارکنوں کو تو پوچھئے جو اس دن کو کوس رہے ہیں جس دن پی ٹی آئی میں محمد ریاض فتیانہ کی انٹری ہوئی اسی دن سے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پی ٹی آئی کا مورال گرنے لگامحمد ریاض فتیانہ ایک دفعہ پھر سیاست میں ان ہوامگر اپنی تمام تر پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی کاوشوں کے باوجود اپنے آپ کو شہید ثابت کرکے آئندہ آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ہمدردیاں لینا اور اپنے گروپ کو بدستور قائم رکھنا کتنا بارآور ثابت ہوتا ہے آنے والا وقت اس کا فیصلہ کرے گا

تحریر: رانا محمد اشرف