counter easy hit

کھلا تضاد ۔۔۔کھلی منافقت

Law

Law

تحریر: سجاد گل
ایک طرف دھڑلے سے یہ دعویٰ کرنا کہ اس ملک ِ خداداد میں آئین احکاماتِ الہی اور سنتِ رسولۖ کے عین مطابق ہو گا، اور دوسری طرف سود کی دلدل اور دیگر خلافِ اسلام قانون و ضوابط، یہ کھلے تضاد اور منافقت کے سوا کچھ نہیں، جرائم کی روک تھام کرنے والاادارہ مجرموں کا سرپرست اور رکھوالا بن جائے یا کالے کوٹ میں ملبوس ”کنبہ صاحبِ انصاف” چند ٹَکوں کیلئے ضمیر فروشی پر اتر کر چوروں، ڈکیتوں، بدمعاشوں، جگوں اور ٹھگوں کی وکالت شروع کر دے، یہ بھی کھلے تضاد اورکھلی منافقت کی بد ترین اور بدنما صورت ہے۔

ایک طرف آئین کی کتاب میں تحریریہ شق، کہ کوئی بھی ایسا فرد منصبِ اقتدار کا عامل نہیں ہو سکتا جو گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو اور دوسری طرف باربار وہی پتلی وہی تماشا ،وہی سٹیج وہی ڈرامہ،وہی کوزے وہی لوٹے،وہی پیڑ وہی الو،اور انہی جانے پہچانے فراڈی چہروں کے ہاتھ اقتدار کی بھاگ دوڑ، اسے کھلے تضاد اور کھلی منافقت کا نام نہ دیا جائے تو کیا نام دیا جائے؟ پیڑ اور الوسے یاد آیا آج کل Facebookپر ایک ٹشن بہت ہٹ جا رہاہے، من میں آ رہا ہے آپ کی نذر بھی کر دوں۔”ایک درخت پر روزانہ بہت سے الو آکر بیٹھ جاتے تھے۔

اس وجہ سے درخت اردگر موجود درختوں کے سامنے بہت شرمسار رہتا تھا،ایک دن اسے پتہ چلا کہ اسے فرنیچر بنانے کے لئے کاٹا جا رہا ہے،اسکی تو جیسے عید ہی ہوگئی،مگر جلد اسکی خوشی یہ جان کر غم میں تبدیل ہو گئی کہ اسے کاٹ کر پارلیمنٹ کی کرسیاں بنائی جائیں گی،یعنی زندگی میں تو اس پر الو بیٹھتے ہی تھے مرنے کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ویسے یہ بات حقیقت کی رفعتوں کو چھوتی نظر آتی ہے کہ صرف ٩٩ فیصد کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے باقی سب بھی بدنام ہیں،لیکن۔۔۔۔تمام مسائل اور بدحالی کی زمہ داری صرف صاحبِ اقتدار پر ڈال دی جائے میری نظر میں یہ بھی کھلے تضاد اور کھلی منافقت سے کم نہیں،ہمیں اپنا بھی محاسبہ کرنا چاہئے۔

اگر اپنی تمام زمہ داریوں اور حقوق و فرائض کو فراموش کر کے صرف دوسروں کی انگشت نمائی پر کمر کَس لی جائے تویہ بھی کھلا تضاد اور کھلی منافقت کے زمرے میں آئے گا،اگر میری طرح پانچ وقت کا بے نمازی شخص ملک میں شریعتِ اسلامی کے نفاذ کے مشورے دیتا پھرے تو کسی بھی باشعور کی نظر میں یہ کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہوگی، اسی طرح بابو لالا اپنے چھت کی ٹینکی تو صاف کرا نہ سکے مگر باتیں ایسی کرتا پھرے کی اس ملک میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ،ہم وہ پانی پیتے ہیں جس میں مردہ جانور چوہے اور بلیاں ہوتی ہیں،جناب بابو لالا کی یہ بات ١٠٠ فیصد درست ہو سکتی ہے مگر چھت کی گندی ٹینکی کی بدولت یہ کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہے،اسی طرح چھوٹا سائیں اپنی سیڑھوں پر تو بلب لگا نہ سکے مگر سٹریٹ لائٹ کو ٹوٹا دیکھ کر صدر مملکت ممنون حسین کی مٹی پلید کرتا پھرے، یہ بھی کھلا تضاد اور کھلی منافقت کہلائے گا۔

محلے میں ڈاکوئوں کا آوازہ سن کر ملک صاحب چارپائی کے نیچے گھس جائیں اور باتیں یہ کریں کہ،پاکستان آرمی کی حثیت ہی کیا ہے، بنگلہ دیش میں انہوں نے کیا کیا؟ کشمیر کی آزادی کے لئے کیا تیر مار رہے ہیں؟ اور نہ ہی یہ آرمی اس قابل ہے کہ ملکی دفاع کر سکے،جی ہاں ،،تھوڑا سا فہم رکھنے والا شخص بھی اس عمل کو کھلا تضاد اور کھلی منافقت سمجھے گا،رات بھر Porn Videos دیکھنے والا شخص دن کے اجالے میں بکل مارے لڑکی کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگا کر یہ کہے توبہ توبہ اس ملک میں زلزلے نہیںآئیں گے تو کیا خدا کی رحمت برسے گی؟ اتنی بے حیائی کہ برقعہ پہننے کی توفیق نہیں،فیصلہ آپ پہ چھوڑا بتائیں یہ کھلا تضاد اور کھلی منافقت نہیں تو کیا ہے۔

Hypocrisy

Hypocrisy

مولا بخش سستی کے باعث دو دو مہینے اپنی سائیکل کا پنچر تو لگا نہ سکے مگر تبصرہ ریلوے کی بدحالی پر کرتا پھرے تو یہ بھی کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہوگی،اسی طرح کھٹارا بس کا مالک اپنی بس کی ہیڈ لائٹ تو ٹھیک نہ کروائے اسکے ٹوٹے ہوئے سائیڈ شیشے نہ لگوائے، سیٹیں ایسی کہ بس لکڑی کے پھٹے ،اور وہ تجزیہ کرے PIA کے نفع نقصان کا ،ہو نہ ہو ،یہ بھی کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہے،رحمت خان اپنے پڑوسی کو ٥٠٠ روپے آٹے کیلئے ادھار نہ دے سکے ،اور تقاریر ایسی کرتا پھرے کہ گورنمنٹ کو چاہئے کہ ،بجلی ،پانی،گیس ،علاج،تعلیم اور بنیادی سہولیات فری کر دے کسی بھی صاحب شعور کی نظر میں یہ کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہے۔

اپنے چچا کو جائیداد کے چکر میں قتل کرنے، چچا کے بیٹوں کی جائیداد پر قبضہ کرنے والاکوئی کھوکھر صاحب اگر نظام عدالت کو چیلنج کرے اور عدل انصاف کی سُریں باندھتا پھرے تو یہ ادنیٰ سی عقل رکھنے والے کے نزدیک بھیکھلا تضاد اور کھلی منافقت ہے۔

سکول سے بھاگ کر لوگوں کی مرغیاں چرانے والا ،کھیتوں سے گنے چوری کرنے اور چار چار بار میٹرک سے فیل ہو کر تعلیم کو بائے بائے کہہ دینے والا شخص اگر نظام تعلیم کو موضوع بحث لا کر اس پر تعن و تشنع کرے تو میرے خیال میں گلو بٹ کے نزدیک بھی یہ کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہو گی،مردہ جانوروں کا گوشت بیچنے والا کتے اور بلیاں ذبح کر کے فرخت کرنے والا اور خنزیر کا گوشت Beef بتا کر بیچنے والا شخص اگر دوکان کے ماتھے پر یہ لکھ دے کہ ،،جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں ،،اور یہ ڈھول تھاپتا پھرے کہ اس ملک میں کوئی چیز خالص نہیں ،سمجھ لیں کہ آصف علی زرداری کی نظر میں بھی یہ کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہو گی۔

پڑوسیوں کے دروازے کے سامنے کچرا پھینکنے والا ،بس میں پان تھوکنے والا، ٢ ،٢ ہفتے انڈرویئر تبدیل نہ کرنے والا،اور ٣،٣ ہفتے جرابیں تبدیل نہ کر کے انکی بو سے دوسرے کے دماغ سُن کرنے والا شخص ، اگر یہ کہے کہ اس ملک میں ہر سو کچرا ہی کچرا ہے کوئی صفائی کا نظام نہیں،جہاں تک میرا خیال ہے کسی پٹھان کے٧ سالہ بچے کی نظر میں بھی یہ کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہو گی،اسی طرح ہم مسجد کے ٹوٹے ہوئے لوٹے تو تبدیل کر نہ سکیں لیکن ،باتیں دنیا کے نظام کو تبدیل کرنے کی کریں۔

یہ توشارٹ کٹ قادری کی نظر میں بھی کھلا تضاد اور کھلی منافقت ہو گی،ہمیں چائیے کہ اپنے اندر موجود چھوٹی بڑی ،اخلاقی اور دیگر کمیوں اور کوتاہیوں کو دور کریں اور اپنی زمہ داریوں اور فرائض کو پورا کریں اگر ہم نے یہ کام کردیا تو ہمارے آدھے مسئلے ایسے ہی حل ہو سکتے ہیں رہے باقی آدھے مسئلے تو ان پر بھر کھل کر دتنقید کی جا سکتی ہے پھر ہمیں کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکے گا کہ کھلا تضاد اور کھلی منافقت۔

Sajjad Gul

Sajjad Gul

تحریر: سجاد گل (دردِ جہاں)
dardejahansg@gmail.com
Phon# +92-316-2000009
D-804 5th raod satellite Town Rawalpindi