counter easy hit

اعتراض سے قبل خود میں سدھار کی فکر کیجئے

Muslim Population in India

Muslim Population in India

تحریر: محمد آصف اقبال
ابھی چند دن قبل حکومت نے مذہبی بنیادوں پر آبادی کے اعداد وشمار شائع کیے ہیں۔ جس میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو ا ہے۔رپورٹ پر جہاں ہندوتو کے علمبرداروں نے تشویش ظاہر کی ہے وہیں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے بھی مختلف تجزیے شائع کیے۔ہندی اخبار امر اجالا کا کہنا ہے کہ اگلے پینتس سال تک مسلمان ہندوئوں کے نصف بھی نہیں پہنچ پائیں گے۔سو افواہ پھیلانے والے گروہ ریلیکس کریں۔

ایک اور ہندی اخباردینک بھاسکر نے لکھا کہ اگر ہندو مسلمان کی آبادی موجودہ شرح سے بڑھتی رہی تو دونوں کو برابر ہونے میں دوسوستّر سال لگیں گے یعنی 2285ء میں ایسا ہونے سے بھارت کی آبادی 13,000کروڑ ہو جائے گی۔برخلاف اس کے انگلش روزنامہ دا ہندو کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں آبادی کی ترقی کی شرح باقی دیگر کے مقابلہ ،سب سے تیز گری ہے۔ان تجزیوں کے علاقہ وشو ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا اپنے متنازعہ مضمون میں لکھتے ہیںکہ اگر مسلمان دو سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں تو ان کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلنا چاہیے،ساتھ ہی راشن، کام اور تعلیم کی سہولیات بھی ان سے چھین لینا چاہیں۔توگڑیا کا یہ بیان آرایس ایس کے ترجمان’آرگنائزر’میں شائع ہوا ہے۔

بیان پر خاموشی اختیار کی جائے؟قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جائے؟یا پھر اس بیان کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو زبردست نقصان پہنچانے والا سمجھا جائے؟یہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے۔لیکن فی الوقت اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ملک کے وزیر اعظم کیا فرماتے ہیں،اس جانب آپ کی توجہ مبذول کراوانا چاہتے ہیں۔مودی جی کی من کی بات یہ ہے کہ دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی جانی چاہیے۔جس میں صوفی روایات بھی شامل ہیں۔اور بقول ان کے اِن روایات میں شامل محبت اور سخاوت کے پیغام سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ صوفی روایات جنہیں ایک وقت میں بھکتی تحریک سے وابستہ کیا گیا تھا، کے اثرات سے متاثر روایات و طرز حیات میں، کیا خالص اسلام ہے پیش کیا جاتا ہے؟اور اگر نہیں تو پھر خالص چھوڑ کر ملاوٹی طرز حیات کو کیوں اختیار کیا جائے؟ملاوٹی روایات میں اگر محبت وسخاوت محسوس ہوتی ہے تو خالص میں تو مزید محبت و ہمدردی اور امن و آشتی کا پیغام پنہاں ہے۔اور سچائی بھی ہی ہے کہ حقیقی اسلام انسان کو خدا اور بندوں ،دونوں کے حقوق کی ادائیگی کی جانب متوجہ کرتا ہے۔لہذا حقیقی اسلام ہی کو اختیار کیا جائے نہ کہ روایتی اسلام کو ۔لیکن یہ حقیقی اسلام صرف قول سے نہیں بلکہ عمل سے بھی پیش کیا جائے،تب ہی دنیا امن کا گہوارا ہوگی۔

ہم دیکھتے ہیں کہ آج اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ایک طرف ان لوگوں کی جانب سے جو خود کو مسلمان کہتے ہیںلیکن عمل اسلام کے برخلاف ہے۔تودوسری طرف ان لوگوں کی جانب سے جوخود کو ترقی پسند،روشن خیال اورجدید مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں۔ایک اور گروہ ہے جو بہت وسیع پیمانے پر سرگرداں ہے،اُسی گروہ کے ایک شخص توگڑیا صاحب بھی ہیں۔مزید ایک قدم آگے بڑھیں تو معلوم ہوگا کہ اسلام اور مسلمانوں کو صرف بدنام ہی نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ان کا تشخص ختم اور مٹانے کی کوششیںبھی جاری ہیں۔ان کوششوں میںمسالک کی بنیاد پر بانٹنا ہے،جمہوریت کے مقابلہ شہنشاہیت اور ڈکٹیٹرشپ کا فروغ،آپسی جنگیں ،فرقہ وارانہ فسادات ہیں،افراد،ادارے اورجماعتوںکے مقاصد و نصب العین کو مشکوک بنانااور آخری حربہ دشہت گردی کے نام پرچند کو چھوڑ کر بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کو قیاس و شک کی بنا پر جیلوں کی کوٹھریوں قید کیا جانا ہے۔اور اگر وطن عزیز کی بات کریں تو یہاں ایک طویل عرصہ سے معاشی،معاشرتی،تعلیمی،اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں ،ملک کے کمزور ترین طبقہ دلتوں سے بھی گئی گزری حالت میں پہنچانے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔اس کی زندہ مثال وہ اعداد و شمار اور تجزیے ہیں جو’سچر کمیٹی رپورٹ ‘کی روشنی میں،دنیا کے سامنے آئے ہیں۔نتیجتاً مسلمان مختلف حیثیتوں سے خانوں میں بانٹے جاچکے ہیں اوراس تقسیم و انتشار میں خودمسلمانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

ایک زمانے میں اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ،ایک وقت آئے گا جب دنیا مسلمانوں پر ایسے ٹوٹے گی جیسے دستر خوان پر بھوکے ٹوٹ پڑتے ہیں۔صحابہ کرام نے حیرت کا اظہار کیااور پوچھا ،یا رسول اللہ کیا ہم تعداد میں اس وقت بہت کم ہوں گے؟۔آپ نے فرمایا ،نہیں تم تعداد میں بہت زیادہ ہوگے،لیکن تمہارے اندر ایک بیماری پیدا ہو جائے گی،جس کا نام وہن ہے۔صحابہ نے پوچھا وہن کیا ہے؟آپ نے کہا دنیا سے محبت اور موت کا خوف(بخاری و مسلم)۔حقیقت یہ ہے کہ آج جہاں کہیں بھی فساد برپا ہے اور جو ذلتیں و رسوائیاں مسلمانوں کو اٹھانی پڑ رہی ہیں،اس کی بنیادی وجہ دنیا سے بے انتہا محبت اور موت کا خوف ہی ہے ۔دنیا کی محبت میں انسان نے انسانیت سے ناطہ توڑ لیا ہے،ظلم و زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے، حقوق کی ادائیگی میں سرگرم نہیں نتیجتاً قول و عمل پیغام سے خالی ہے۔برخلاف اس کے جو لوگ آخرت کو یاد رکھتے ہیں،جنت و دوزخ کا شعوری مشاہدہ کرتے ہیں،آلائش دنیا سے اظہار بیزاری کرتے ہیں،موت کو یاد رکھتے ہیں اور امن و امان و بھائی چارے کو فروغ دیتے ہوئے حقوق کی ادائیگی کرتے ہیں،وہی لوگ ہیں جو دنیا میں پھیلے فساد کو روک سکتے ہیں۔

اور آج قلیل ہی صحیح لیکن ایک تعداد ایسی ضرور موجود ہے جو اسلام سے سچی محبت رکھتی ہے،اس کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے شب و روز کو سنوارتی ہے،حقیقی پیغام کو عمل کے ذریعہ عام کرتی ہے۔جس کے نتیجہ میںوہ ڈر،خوف،فسق و فجوراور جھوٹا پروپگنڈاغلط ثابت ہوتا ہے،جو اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے جاری ہے۔پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک جانب ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں ،جنتر منتر پر مخصوص معاشرہ سے وابستہ افراد،جاری ظلم و جبر سے نجات کی خاطر،اسلام کے آغوش میں پناہ لیتے ہوئے،سابقہ مذہب سے ناطہ توڑتے ہیں،اوراسلام میں داخل ہو نے کا اعلان کرتے ہیںتو وہیں دوسری جانب براعظم افریقہ کے ملک روانڈا میں ایک چرچ ہی مسجد میں تبدیل ہو جاتا ہے اورسیکڑوں عیسائی مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔سوال اٹھتا ہے اور اٹھنا ہی چاہیے کہ ایک ایسے دور میں جبکہ مسلمان خود چہار جانب حد درجہ ظلم و زیادتیوں اور جبر و تشدد کا شکار ہیں،دنیا اسلام کیوں قبول کر رہی ہے؟کیا وہ نہیں جانتے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں پر دنیا میں کیا زیادتیاں ہو رہی ہیں؟کیا وہ نا سمجھ اور لاعلم ہیں؟یا اسلام اختیار کرنا دراصل ایک بہانہ ہے،ورنہ پس پشت مقاصد کچھ اور ہیں؟”نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے”اور یہ الفاظ ان کے اپنے ہیں ہمارے نہیں۔کیونکہ وہ سمجھ دار بھی ہیں اور علم والے بھی۔ساتھ ہی ان کے نزدیک اسلام اختیار کرنے کا مقصد اگر کچھ ہے تو صرف اور صرف ایک مقصد،اور وہ یہ کہ اسلام تمام مسلمانوں کو برابر کا درجہ عطا کرتا ہے۔یہاں ذات پات،اونچ نیچ، کالے گورے کی درجہ بندیاں نہیں ہیںاور نہ ہی یہاں پیشہ کی بنیاد پر کوئی اعلیٰ ہے تو کوئی ادنیٰ ۔تفریق ہے تواعمال کی بنا پر، متقی و پرہیز گار ہونے کی بنا پر۔اس کے باوجود غلطی،گناہ،اور قانون شکنی کی سزا سب کے لیے برابر ہے۔

چاہے پرہیز گاری میں وہ اعلیٰ درجہ پر فائز ہو یا ادنیٰ ۔وہیں معاشی اعتبار سے وہ امراء میں سے ہو یا غرباء میں سے ،نیزسیاسی یعنی اقتدار وقت کے لحاظ سے کیوں نہ وہ اعلیٰ ترین مقام ہی پر فائز ہو۔اس کے باوجود سزا سب کے لیے برابر ہے،الاّ یہ کہ مظلوم خود ہی بلا زور زبردستی ظالم کی سزا میں کچھ تخفیف کردے یا وہ اسے معاف ہی کردے۔دوسری جانب اسلام انسان کو بندوں کا نہیںبلکہ اس خدا کا غلام بناتا ہے جس نے دنیا میں موجود ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔اور آخری بات یہ کہ اسلام اس عقیدۂ آخرت سے باخبر کرتا ہے،جس پر اگر کسی شخص یا گروہ کا یقین ،عمل میں تبدیل ہو جائے ،تو پھر اس کے لیے دنیا و آخرت ہردو مقام پر کامیابی طے شدہ ہے۔

ایک ایسی کامیابی و سرخ روئی جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے،جو فانی نہیں،جو ابدی اور لازوال ہے۔اسلام میں داخل ہو کر متذکرہ چند فائدوں کے علاوہ بے شمار فائدے ہیں،جنہیں ہم اور آپ اچھی طرح محسوس کرتیہیں۔اس کے باوجود مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کے چرچے ہرطرف عام ہیں۔کہیں شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجہ تو کہیں مینمار میں “امن پسند بدھسٹوں”کے ذریعہ ،کہیں ارض مقدس میں مظلوم فلسطینیوں کی شکل میںتو کہیں وطن عزیز میں فسادات اور حد درجہ ظلم و زیادتیوں کی شکل میں ۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ملک کا نائب صدر ،ایک اجلاس میں اپنے کلیدی خطبے کے درمیان مجبوراً کہتا کہ ہند وستان میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں،حکومت کو چاہیے کہ وہ ‘سب کا وکاس سب کا ساتھ ‘نعرے کو یقینی بنائے۔اس پورے پس منظر میں مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی بات کی جائے تو ہم کہیں گے کہ ہاں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے، اوروطن عزیز ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ،لیکن آبادی میں یہ اضافہ بچے پیدا کرکے نہیں بلکہ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات سے متاثر ہو کرسامنے آرہا ہے۔اس پس منظر میں اگر کسی کو اسلام قبول کرنے والوں سے اعتراض ہو تو اعتراض سے قبل خود میں سدھار کی فکرکیجئے،ورنہ صرف اعتراض اور پابندیوں سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے جو آپ کو مطلوب ہیں۔

Mohammad Asif Iqbal

Mohammad Asif Iqbal

تحریر: محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.co