counter easy hit

مریم نواز نے نیا ہنگامہ برپا کر دیا

Maryam Nawaz stirred up a new uproar

لاہور(ویب ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کے معاملے پر بین الاقوامی آرگنائزیشنز تک بھی میں یہ بات پہنچانے کی کوشش کروں گی، صرف اتنے ثبوت سامنے لائی ہوں جس سے نواز شریف کی بے گناہی ثابت ہو جائے،جج کی ویڈیو کے علاوہ میرے پاس تو اس سے بھی زیادہ ثبوت اور نام موجود ہیں،اگر میں وہ نام سامنے لے آؤں تو کہرام مچ جائے، ری ٹرائل نہیں چاہیے بلکہ مقدمہ ختم کیا جائے،کیا گارنٹی ہے کہ ری ٹرائل والے جج کو بھی بلیک میل نہیں کیا جائے گا،پنجاب حکومت پر نواز شریف کے علاج معالجے میں غفلت برت رہی ہے، ایمرجنسی میں دوبارہ میڈیکل بورڈ بنایا گیا جس نے دوسری ہدایات کے ساتھ نواز شریف کے مزید ٹیسٹ ان کی مرضی کے ہسپتال میں کروانے کی سفارش کی ہے،بورڈ کی سفارشات کے باوجود جو کسی کا کھانا اور اے سی بند کرنے کی بات کرے اس سے بڑا ظالم کون ہو گا،مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جن ہاتھوں میں میاں صاحب ہیں وہ دشمن کے ہاتھوں میں ہیں،اپنے وکلا سے مشورہ کر رہی ہوں کہ اب عدالت سے رجوع کیاجائے۔جبکہ مریم نواز نے صحافیو ں کو بتایا ہے کہ انہیں موبائل فون سے ایک ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کسی شخص نے فون کیا ہے اور میں اس حوالے سے اس ادارے کے سربراہ کو لیٹر لکھ رہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں پرویز رشید اور جاوید ہاشمی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ گزشتہ ملاقات کے دوران نواز شریف سے ملاقات کے دوران جیل کے ڈاکٹر کے ہاتھ میں ایک رپورٹ تھی جس میں جیل ڈاکٹر نے کہا کہ نواز شریف کا بلڈ شوگر زیادہ ہے جس پر نواز شریف نے کہا کہ آپ نے تو گذزشتہ دس دنوں سے میری بلڈ شوگر چیک ہی نہیں کی۔ نواز شریف اور میں نے رپورٹ دیکھی تو وہ 3 جولائی کی تھی۔ رپورٹ میں لکھا تھا نواز شریف کو فوری طور پر مرضی کے ہسپتال میں داخل کروایا جائے۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے اتنی تاخیر سے یہ رپورٹ کیوں دکھائی جا رہی ہے، میرا آئینی اور قانونی حق ہے کہ مجھے میری رپورٹس بروقت دکھائی جاتیں۔ اس پر ڈاکٹر نے نواز شریف سے معافی مانگی اور کہا کہ فوٹو کاپی کی مشین خراب ہے جس پر واز شریف نے کہا کہ اس رپورٹ کی کاپی بازار سے کروا لیتے ہیں۔ڈاکٹر اور جیل حکام نے کہا کہ رپورٹ آپ کو مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے کسی ہمدرد کی جانب سے گزشتہ روز مجھے وہ رپورٹ فراہم کی گئی ہے،ہم نے اور نواز شریف کے ذاتی معالج نے وہ رپورٹ مانگی تو کسی نے جواب تک دینا پسند نہیں کیا تھا۔نواز شریف کے علاج معالجے کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کی جا رہی ہے۔اس موقع پر انہوں نے وہ رپورٹ بھی میڈیا نمائندوں کو پرھ کر سنائی۔ مریم نواز نے کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی میں پروفیسر ڈاکٹر ثاقب شفیع، ڈاکٹر شفیق چیمہ، ڈاکٹر سیما امداد، ڈاکٹر احسن نعمان، ڈاکٹر نذیر احمد اور ڈاکٹر فواد رندھاوا پر مشتمل بورڈ بنایا جس نے نواز شریف کا طبی معائنہ کر کے سفارشات پیش کیں۔بورڈ نے سفارش کی ان کے کمرے کا درجہ حرارت مناسب رکھا جائے، نواز شریف کو انجائنا کی شکایت ہے،ان کا بلڈ پریشر بھی زیادہ رہتا ہے اور وہ انتہائی خوراک لے رہے ہیں، بورڈ نے سب لنگویل انجائنا سپرے کے استعمال کی بھی سفارش کی ہے۔بورڈ نے ذیابیطس کے لئے نئی ادویات بھی شامل کی ہیں حالانکہ نئی ادویات کے حوالے سے نواز شریف کے ذاتی معالج اور بیرون ممالک میں موجود ڈاکٹروں کے مشورے سے دینی چاہئیں تھیں۔ بورڈ نے نواز شریف کی خوارک اور ورزش کے حوالے بھی ہدایات ددی ہیں۔ورڈ نے دوبارہ زور دیا کہ نواز شریف کے مزید ٹیسٹ ان کی مرضی کے ہسپتال میں کروائے جائیں۔بورڈ کی سفارشات کے باوجود جو کسی کا کھانا اور اے سی بند کرنے کی بات کرے اس سے بڑا ظالم کون ہو گا۔ا نہوں نے کہا کہ نواز شریف نے مجھے بتایا کہ جیل میں ان کے کمرے میں 17 گھنٹے بجلی بند رکھی گئی۔عمران خان نے امریکہ میں قومی و بین الاقوامی حالات پر بات کرنے کی بجائے جیل کا کھانا اور اے سی بند کرنے کی بات کی کہ جیل میں نواز شریف کے کھانے کی سپرویژن کون کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ویڈیو آنے کے بعد جج کو تو نکال دیا گیا لیکن اس کا فیصلہ ابھی بھی برقرار ہے،قوم کے سامنے سوال رکھتی ہوں کہ تین بار کا وزیر اعظم اس طرح کے سلوک کا مستحق ہے،مجھے یہ کہنے میں کوئی عارنہیں جن ہاتھوں میں میاں صاحب ہیں وہ دشمن کے ہاتھوں میں ہیں،میں اپنے وکلا سے مشورہ کر رہی ہوں کہ اب عدالت سے رجوع کیا جائے،مجھے نہیں علم کہ نوازشریف کو جیل میں کیا کھلایا جا رہا ہے،بین الاقوامی آرگنائزیشنز تک بھی میں یہ بات پہنچانے کی کوشش کروں گی مجھے ابھی تک انصاف کیوں نہیں مل رہا۔مجھے تکلیف ہوئی کہ کشمیر پر بات چیت کا آغاز سلیکٹڈ کی بجائے امریکی صدر کی جانب سے کیا گیاآپ کو خود مسئلہ کشمیر کی بات کرنا چاہیے تھا۔آپ کو یاد ہے کہ نواز شریف نے اقوام متحدہ میں برہان وانی کا مقدمہ پیش کیا تھا۔کشمیر کے معاملے پر ثالثی کے حوالے سے بھارت ہی بتا سکتا ہے کہ انہوں نے اس پر کیا کہا ہے۔ انہوں نے اس سوال کہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ آپ لوگ ہائیکورٹ میں کیوں نہیں گئے تو میرا سوال ہے کہ اگر ویڈیو ہمارے خلاف ہوتی تو کیا معاملہ 184 کا نہ ہوتا،جج کی ٹیپ کی آڈیو اور ویڈیو ایک ساتھ ریکارڈ کی گئی ہیں،ویڈیو جاری کرنے کے بعد میں توقع کر رہی ہوں کہ مجھے ہر جگہ گھسیٹا جائے گا،ویڈیو کی تحقیقات ہو رہی ہیں، جج کو ثبوتوں کی بنا ء پر کٹہرے میں لایا جائے،جج ایک منٹ بھی اس ویڈیو کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا،اگر جج کو بلیک میل کیا گیا یا رشوت کی پیشکش کی گئی تو جج نے دوران سماعت کیوں نہیں نواز شریف کو عدالت میں پوچھا۔میں نے الزام نہیں لگایا بلکہ ثبوت دیا، اب جج صاحب بھی اپنے بیان حلفی کے ثبوت دیں،جج کو کٹہرے میں لانے کی بجائے3 بار کے وزیراعظم کو انصاف نہ ملے تو ہمارے پاس کیا آپشن رہ گیا تھا۔سوال یہ کیا جائے کہ جج کو کس نے بلیک میل کر کے مرضی کا فیصلہ لیا، تو کیا اس جج کو اعلی عدلیہ کو بتانا نہیں چاہیے تھا،ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ جج صاحب کی ذاتی ویڈیو نہ ہم دیکھیں گے اور نہ اس کو استعمال کرینگے،میرے پاس تو اس سے بھی زیادہ ثبوت اور نام موجود ہیں،اگر میں وہ نام سامنے لے آؤں تو کہرام مچ جائے،میں اتنا ثبوت سامنے لائی ہوں جس سے نواز شریف کی بے گناہی ثابت ہو جائے، ری ٹرائل نہیں چاہیے بلکہ مقدمہ ختم کیا جائے،کیا گارنٹی ہے کہ ری ٹرائل والے جج کو بھی بلیک میل نہیں کیا جائے گا۔اس جج نے فیصلے میں کہا کہ کرپشن سمیت کوئی الزام نہیں،ری ٹرائل منظور نہیں ہے۔ اعلی عدلیہ بے گناہ کو انصاف دے اور نواز شریف کو رہا کرے۔ جج صاحب نواز شریف کو جیل بھیجنے کے بعد بار بار پیغامات بھجوا رہے تھے،اگر مجھ سے کبھی پوچھا گیا کہ جج صاحب نواز شریف کو ملنے گھر آئے تھے کہ نہیں تو میں ضرور جواب دوں گی،میرے پاس جج صاحب کے بیان حلفی کی ہر بات کا ثبوت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلی اور جلسے پر 6 ہزار افراد پر مقدمات بنا دئیے،126 دن کے دھرنے کے دوران نواز شریف نے ایک دن بھی عمران خان کی تقریر نہیں سنی۔دھرنے کے دوران بھی نواز شریف کو کوئی خوف نہیں تھا کیونکہ عوام ان کے پیچھے کھڑی تھی۔نواز شریف نے کوئی پابندیاں نہیں لگائیں،میں نیب میں ضرور پیش ہو جاؤں گی کہ اب نیب کی کون سی یادداشت واپس آئی ہے۔انہوں نے ڈاکٹر عدنان کی اہلیت پر سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف کا حق ہے کہ وہ جس ڈاکٹر سے علاج کروانا چاہیں، گر میں نے لڑائی کرنا ہوتی تو میں باقی ویڈیوز بھی سامنے لے کر آتی۔ان ویڈیوز میں حساس اور موجودہ عہدوں پر موجود لوگوں کے نام ہیں،میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ ویڈیوز سامنے نہیں لائی۔میں چاہتی ہوں کہ اللہ نہ کرے وہ وقت نہ آئے کہ مجھے وہ ویڈیوز بھی سامنے لانی پڑیں،معاملہ عدالت کے سامنے پہلے سے ہی ہے۔ قوم کو کوئی کنفیوژن نہیں ہے کہ عمران خان کو کس نے سلیکٹ کیا ہے۔31 جولائی کو نیب کے پاس میرے خلاف کچھ نہیں ہو گا۔ نواز شریف کو ہٹایا تو میں سامنے آئی، مجھے بند کریں گے تو کوئی اور آ جائے گاکسی کو اپنی طاقت کا زعم ہے تو یاد رکھے مشرف کو بھی اپنے خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا۔وہ ویڈیو اینٹی جوڈیشری اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے، اداروں پر عمران خان کی سپورٹ کے الزام لگ رہے ہیں،کیا ایسے الزامات سے اداروں کو آپس میں یا عوام سے لڑایا جائے گا،عوام کو اداروں کے سامنے نہیں کھڑا نہیں کرنا چاہیے۔پارٹی میں قیادت کرنے والے کم نہیں آپ گرفتاریاں کر کر کے تھک جائیں گے لیکن قیادت کم نہیں ہو گی۔فیصل آباد کی ریلی کے دوران برے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے،فیصلے عوام نے اپنے ہاتھ میں لے لئے تو اس وقت سے ڈرنا چاہیے۔میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پابندیاں خوف پر لگتی ہے۔میڈیا ہاؤسز اکٹھا ہو کر ان پابندیوں کیخلاف آئین اور قانون کا سہارا لیں ورنہ یہ آپ کے اوپر سے گزر کر چلے جائیں گے۔سوشل میڈیا کے ذریعے بات تو عوام تک پہنچ ہی جاتی ہے، ٹی وی پر کوئی کوریج نہیں ہوئی اور اخبارات میں بھی کچھ نہیں چھپا،لیکن کیا عوام کو نہیں پتہ چلا کہ رات 3 بجے فیصل آباد میں ریلی نکلی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان امریکی صدر کے سامنے پرچی دیکھ کر پڑھ لیتے تو شاید بہتر بات کر لیتے۔عمران خان نے وہ بات کیسے کہی کہ بھارت اپنے ایٹمی ہتھیار ختم کرے تو ہم بھی کر دیں گے ایٹمی ہتھیار پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہیں،دعا کریں کہ کل میرا جہاز نہ روک ہ لیا جائے تاکہ میں جلسے کیلئے کوئٹہ نہ جا سکوں۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ عمران خان نے میرے ساتھ جو باتیں کی تھیں میں نے اس سے اختلاف کیا تھا،میں کہتا ہوں کہ عمران خان میری بات مان لیتے تو آج سلیکٹڈ کی گالی نہ سن رہے ہوتے لیکن وہ الیکٹڈ وزیراعظم نہیں بلکہ سلیکٹڈ وزیراعظم بننا چاہتے تھے،عمران خان نے امریکہ میں دعائیں ہی مانگنا تھیں تو شاہ محمود قریشی کے ساتھ مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website