counter easy hit

سرزمینِ بے آئین گلگت بلتستان کے عوام کی بدترین حالت عالمی برادری کہاں ہے؟

Gilgit Baltistan Poeple

Gilgit Baltistan Poeple

تحریر: ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر
آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مجبور، مقہور، مظلوم اور معتوب لوگ کس علاقے میں رہتے ہیں تو میں بلا تردد اور بلا تامل یہ کہوں گی کہ یہ بدقسمت علاقہ گلگت بلتستان کا ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں، وسیع گلیشئیرز، خوبصورت وادیوں، پرسکون جھیلوں ، گنگناتی آبشاروں اور بل کھاتے دریاؤں کی بدولت اس علاقے کو قدرت نے جو حسن و رعنائی اور یکتا و جداگانہ قدرتی مناظر عطا کیئے ہیں وہ اس کرہ ارض پر اپنی مثال آپ ہیں۔

مگر قارئین کرام شاید اس بات کو جان کر حیران ہوں گے کہ آج اکیسویں صدی میں بھی قدرتی وسائلُ سے مالا مال دنیا کے اس نایاب ارضی نگینے کے باشندے شہری سہولیات، سیاسی آزادیوں، آئینی اختیارات اور بنیادی انسانی حقوق کے اعتبار سے دنیا بھر میں پست ترین سطح پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

جب 1947 میں برطانیہ نے اپنے عالمی سیاسی عزائم اور قومی اقتصادی مقاصد کے پیشِ نظر برصغیر کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ علاقے ریاست جموں، کشمیر و تبتہا کا آئینی حصہ تھے اور غیر جانبدار تاریخ دان اس امر پر متفق ہیں کہ ان علاقوں کے عوام کو پاکستان اور بھارت کے ساتھ الحاق کی نسبت مہاراجہ ہری سنگھ کا ایک آزاد و خودمختار ملک کا منصوبہ زیادہ پسند تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی ان علاقوں میں مہاراجہ حکومت کے خلاف کوئی تحریک موجود نہ تھی ۔ پھر جب 22 اکتوبر 1947 کو پاکستان نے اپنے فوجی افسر میجر خورشید انور کی قیادت میں ریاست پر قبائلی جتھوں کے ذریعے حملہ کیا تو بھی ان علاقوں میں کسی قسم کی شورش پیدا نہ ہوئی ۔ تاہم جب 26 اکتوبر 1947 کو پاکستان کے ہاتھوں لاکھوں نہتے ریاستی شہریوں کے قتل کے تناظر میں مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کو بچانے کی خاطر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تو گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت بغیر کسی بیرونی مدد کے ان علاقوں کو آزاد و خودمختار رکھنے کی غرض سے ریاستی حکومت کے الحاقِ بھارت کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کا تختہ الٹ کر یکم نومبر 1947 کو اپنی آزادی اور خودمختاری کا اعلان کر دیا۔

Gilgit Baltistan

Gilgit Baltistan

مگر برطانوی حکومت پہلے سے برصغیر کے حوالے سے ترجیحات کا تعین کر چکی تھی، چنانچہ برطانوی فوج کے گلگت میں موجود فوجی افسر میجر براون نے پاکستان کے ساتھ ساز باز کر کے 16 نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کی آزاد و خودمختار حیثیت ختم کر کے اس پر پاکستانی قبضہ کرا دیا۔ شروع میں بظاہر ان علاقوں کو آزادکشمیر کے ساتھ ملایا گیا مگر ڈیڑھ سال کے بعد پاکستان نے ان علاقوں کی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی بے پناہ دولت کے باعث ان کا انتظام و انصرام اپنی براہ راست تحویل میں لے لیا ۔ اور اس مقصد کی خاطر 28 اپریل 1949 کو نام نہاد آزادکشمیر کے صدر سردار ابراہیم خان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا جس کے تحت حکومتِ آزادکشمیر نے بغیر کسی شرط کے انتظامی مشکلات کی آڑ میں ان علاقوں کو پاکستان کے حوالے کر دیا۔

پاکستان نے ان علاقوں پر اپنا قبضہ قائم کر کے یہاں کے باشندوں کو بدترین انتظامی، سیاسی اور آئینی نظام کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔ گزشتہ انہتر سال سے پاکستان نے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا ہے اور ظلمت و اندھیرنگری کا یہ راج ابھی جاری ہے۔ اگر چہ معاشی خوشحالی اور اقتصادی ترقی کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے غریب ترین اور انتہائی پسماندہ ممالک میں ہوتا ہے مگر ایٹمی صلاحیت، فوجی طاقت اور سامراجی فکر کے باعث آج کے پاکستان کا سیاسی کردار ایک توسیع پسند جارح ملک کا ہے اور بلاشبہ پاکستان خطے میں سامراج کا سب سے بڑا گماشتہ ہے۔

داخلی طور پر شہری زندگی میں اگر چہ پاکستان کے عوام کو ہسپتالوں میں دوائیاں دستیاب نہیں، لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، نوجوان بے روزگاری اور نیم بیروزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر بیرونی دنیا میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اور امن و امان اور انصاف ناپید ہے مگر خارجہ پالیسی اور فوجی مداخلت کے باعث اس وقت پاکستان دنیا میں دہشت گردی برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ بھارت، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور افریقی ممالک پاکستان کی اس سامراجیت اور فوجی دھونس کا خاص نشانہ ہیں۔

گلگت بلتستان کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ یہ خطہ آئینی اعتبار سے پاکستان کا حصہ نہیں ہے چنانچہ یہاں کے عوام پاکستان کے دہرے استحصال اور ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو عوام کو شہری اور سماجی زندگیوں میں جدید دنیا کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے اور عوام صحت و علاج معالجے، تعلیم و تدریس، مواصلات و ذرائع رسل و رسائل اور بنیادی سماجی اور اقتصادی ڈھانچے سے محروم ہیں تو دوسری جانب پاکستان کی فوجی اور سول نوکرشاہی عوام کا سماجی سکون اور معاشرتی تحفظ و استحکام اپنی سامراجیت نوازی کی بھینٹ چڑہا دیتی ہے ۔ یوں گلگت بلتستان کے عوام ریاستی جبرو استبداد، سیاسی استحصال اور سماجی ظلم کے پاٹوں میں پِس کر ایک سرزمینِ بے آئین میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Law

Law

اس صورتحال کے باعث نہ صرف یہ کہ ریاستی ادارے آئے روز عوام پر جبر و استحصال کے پہاڑ توڑتے رہتے ہیں بلکہ اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف کوئی قانون ظلمت کا شکار عوام کو انصاف دینے کے کیلیئے بھی موجود نہیں ہے۔ انسانی تہذیب کے عروج اور انسانی حقوق کی شناخت و تحفظ کی اس اکیسویں صدی میں بھی گلگت بلتستان کے بے بس عوام ریاستی ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لیئے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ چلاس کے علاقے تھکداس کے نہتے عوام کی ملکیتی زمینوں کو جبری طور پر فوج کے سپرد کرنے کے گھاو ابھی بھرے نہیں ہیں کہ اب فوج اور پولیس بلڈوزر لے کر مکپونداس ہیراموش میں لوگوں کی ملکیتی زمینوں پر جبری قبضے کی خاطر چڑھ دوڑے ہیں۔

گلگت بلتستان کی آزادی کے معمار کرنل مرزا حسن خان کے ساتھ پاکستانی فوج اور ریاستی مشینری نے جو سلوک کیا تھا وہ گلگت بلتستان کے عوام قیامت تک نہیں بھول پائیں گے ۔ آج بھی کرنل مرزا حسن خان کے بیٹے کرنل وجاہت اور کرنل نادر ریاستی دہشت گردی کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں ۔ کامریڈ بابا جان اور لاتعداد سیاسی رہنما محض عوام کے سیاسی حقوق کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

الغرض گلگت بلتستان میں جو بھی سیاسی کارکن عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کی جدوجہد کو منظم کرتا ہے اسے غداری اور دہشت گردی کے مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے ۔ اس مقصد کی خاطر پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں قائم کر رکھی ہیں جن کے ذریعے عوام میں سیاسی بیداری پیدا کرنے اور انہیں اپنے بنیادی انسانی حقوق کا شعور دینے والے ہر سیاسی کارکن کو قید و بند کی سزائیں سنائی جاتی ہیں ۔ گلگت بلتستان پر اس ریاستی جبر کی داستان کا تازہ ترین باب عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے چئیرمین ڈاکٹر زمان اور ان کے سیاسی ساتھیوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے دہشت گردی، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات کی کاروائی ہے ۔ اس کیس کی خاص بات ایک سات سالہ بچے زوہیب اللّہ کی مقدمے میں شمولیت ہے۔

یہ محض پاکستان کی سیاسی مخالفت میں گھڑی جانے والی کوئی داستان نہیں ہے ۔ یہ ایک زندہ حقیقت اور آج کے پاکستان کا ریاستی سچ ہے۔ سات سال کی عمر میں تو بچوں پر نماز بھی فرض نہیں ہوتی، سات سال کی عمر دنیا بھر کے تمام قوانین اور سارے مذاہب کی شریعت میں اپنی معصومیت اور طفولیت کے باعث ہر قسم کی سزا جزا سے مستثنیٰ ہے۔ مگر پاکستان کا گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ سلوک دیکھیئے کہ چوتھی جماعت کا طالبعلم سات سالہ بچہ زوہیب اللّہ بھی آج دہشت گردی، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیئے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔

Gilgit Baltistan Assembly

Gilgit Baltistan Assembly

یہ بچہ دراصل ان پانچ زخمی افراد میں شامل تھا جو گلگت بلتستان اسمبلی کے گزشتہ انتخابات کے دن عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے چئیرمین ڈاکٹر زمان (جو چلاس کے حلقے داریل سے اسمبلی انتخابات میں امیدوار تھے) کے آبائی پولنگ اسٹیشن سے حکومتی جماعت نون لیگ کے امیدوار کی طرف سے بیلٹ باکس اٹھا لیئے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹر زمان کے حامی افراد کے جلوس پر پولیس فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے ۔ پاکستان کا گلگت بلتستان کے ساتھ سلوک اس حقیقت سے آشکار ہوتا ہے کہ ڈاکٹر زمان کے سیاسی نظریات پر سیخ پا اسلام آباد حکومت نے ریاستی مشینری کو احکامات جاری کیئے کہ ڈاکٹر زمان اور انکے ساتھیوں کی آزاد خیالی کا سدِباب کیا جائے۔

چنانچہ ریاستی مشینری نے ڈاکٹر زمان کے اہم سیاسی کارکنان پر دہشت گردی، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات درج کر کے انہیں مفرور قرار دے دیا اور مقدمات انسدادِدہشت گردی کی خصوصی عدالت میں منتقل کر دیئے ۔ مقدمات کا اندراج کرنے والے یہ سمجھتے تھے کہ جو افراد احتجاجی جلوس میں شریک تھے اور جو پولیس فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے ظاہر ہے وہ ڈاکٹر زمان کے سب سے زیادہ سرگرم سیاسی کارکنان ہیں ۔ اسی عام فہمی کی بنیاد پر ڈاکٹر زمان کے ساتھ ان کے اہم سیاسی کارکنان اور جلوس میں پولیس فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کے خلاف دہشت گردی کے جھوٹےمقدمات قائم کر دیئے گئے ۔ چونکہ مقدمات قائم کرنے والے واقعات رونما ہونے والے مقام سے سینکڑوں میل دور تھے اس لیئے جب تمام زخمی افراد پر مقدمات قائم کیئے گئے تو سات سالہ زخمی بچہ زوہیب اللّہ بھی ان مقدمات میں شامل کر لیا گیا ۔ مقدمات بنانے والے آقا اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ زوہیب اللّہ کی عمر کیا ہے۔

چور کبھی نہ کبھی پکڑا ہی جاتا ہے ۔ قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے اور اللّہ تعالیٰ ظالموں اور سرکشوں کے خلاف دیانتدار اور مخلص لوگوں کی غیبی مدد کرتا ہے۔ ریاست کا منصوبہ یہ تھا کہ ڈاکٹر زمان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کر کے انہیں مفرور قرار دیا جائے تا کہ بعد ازاں ڈاکٹر زمان کو پولیس مقابلے کے ذریعے منظرِ عام سے ہٹایا جا سکے۔ یہ وہی فارمولا ہے جس کا حال ہی میں بلوچستان میں کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔ پاکستانی فوج نے بلوچستان کے قوم پرست سیاسی رہنما ڈاکٹر اللّہ نذر کو اسی ریاستی فارمولے کے تحت شہید کیا تھا۔ ابھی چند ہفتے قبل 12 جنوری کو بلوچستان میں قوم پرست رہنما ڈاکٹر منان کو بھی فوج نے انکی رہائش گاہ پر فائرنگ کر کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا تھا ۔ ڈاکٹر زمان کی طرح ڈاکٹر منان بھی پاک چین اقتصادی راہداری کے بہت بڑے مخالف تھے۔

Politics

Politics

سیاست پر نظر رکھنے والے افراد بخوبی سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر زمان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے کا واحد مقصد انہیں بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹر منان کی طرح راستے سے ہٹانا ہے۔ مگر ڈاکٹر زمان کے مقدمے میں زوہیب اللّہ کی شمولیت نے اس سازش کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ میں بجا طور پر امید کرتی ہوں کہ دنیا بھر میں موجود عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے کارکنان ڈاکٹر زمان کے خلاف پاکستان کی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ مگر میں ساتھ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بالخصوص اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے اپیل کروں گی کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستان کی بدترین ریاستی دہشتگردی اور ظلم و جبر سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

میں حیران ہوں کہ کس طرح آج اکیسویں صدی میں بھی دنیا کے نقشے پر گلگت بلتستان جیسا خطہ موجود ہے جہاں قابض ملک عوام کے ساتھ قرونِ اولیٰ کے دور جیسے مظالم ڈھا رھا ہے اور مواصلاتی سیاروں اور سوشل میڈیا کے اس زمانے میں بھی عالمی برادری اپنی آنکھیں بند کیئے ظلم و جبر کے اس نظام پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ دنیا کا رویہ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ خواہ کچھ بھی ہو یہ بات طے ہے کہ عوامی مفاہمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے قیام کے باعث اب گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ روس رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پاکستانی اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام پہلے کی طرح خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کریں گے اور گزشتہ انہتر برس میں شاید گلگت بلتستان کے عوام کو ملنے والی واحد حقیقی خوشی ہے۔

Samina Raja

Samina Raja

تحریر: ثمینہ راجہ۔ جموں و کشمیر