counter easy hit

کچھ لوح کے بارے میں

Urdu

Urdu

تحریر: پروفیسر رفعت مظہر
حکمرانوں سے توقع عبث ۔ہم نے کالم لکھے ،تاریخی حوالے دیئے ،احتجاج کیا اور دست بستہ عرض بھی کہ خدارا ہمیں ہماری” شناخت” لوٹا کر اُردو کو قومی زبان کادرجہ دے دیجئے لیکن عامیوں کی بھلا کون سنتاہے ۔یوں تو ہم ہر قومی دِن کے موقعے پر”اے قائدِاعظم تیرا احسان ہے احسان ” گاتے پھرتے ہیں لیکن نہ کبھی بابائے قوم کے فرمودات پر عمل کیا اورنہ ہی اُن کے احکامات و خواہشات پر ۔اُنہوںنے اُردو کو”قومی زبان” کادرجہ دیا لیکن ہم تا حال انگریزوںکا ”طوقِ غلامی” گلے میں لٹکائے اتراتے پھرتے ہیں۔ شاید ہماری بیوروکریسی کو زبانِ اُردومیں کوئی وسعت ہی نظرنہیں آتی یاپھر نفرت ہی اتنی کہ اُردوکو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے ۔مُنہ ٹیڑھا کرکے انگریزی جھاڑنے والے اِن ”کاٹھے انگریزوں” کی ساری دفتری کارروائیاںاب بھی انگریزی میں۔

قوم کی آرزوکہ بابائے قوم کے حکم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ”اردو” کو قومی زبان کا درجہ دیاجائے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔رینگے بھی کیسے کہ حکمرانوں کو تو اُردو زبان سے چِڑ ہی نہیں شاید نفرت بھی ہے۔ اِنہیں تو ”اردو”کی یاد صرف اُس وقت ستاتی ہے جب وہ کشکول تھامے گلی گلی ووٹوں کی بھیک مانگنے نکلتے ہیں ۔اگر اُنہیں اُردو سے اتنی ہی نفرت ہے تو ووٹ بھی انگریزی میں ہی مانگا کریں ۔یہ مسلم الثبوت کہ نہ زرداری صاحب کے وعدے قُرآن وحدیث اور نہ ہی موجودہ حکمرانوں کے۔

PPP

PPP

اب تک وہ قوم کومحض وعدوں پر ہی ٹرخا رہے ہیں،کرکے تو ”کَکھ” نہیں دکھایا۔ ہمارے حکمرانوں کو تو اعلیٰ عدلیہ کی بھی کوئی پرواہ نہیں جسے یہ لکھ کر دے چکے کہ تین ماہ کے اندر ”اردو” قومی ودفتری زبان بن جائے گی اورہر کارروائی ”اردو” ہی میں ہوا کرے گی ۔وہ تین ماہ گزرے بھی تین ماہ ہوچکے لیکن یہ بھی پیپلزپارٹی کی طرح سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد سے گریز کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں حالانکہ پیپلزپارٹی کے ”گدی نشیں” وزیرِاعظم کا انجام اِن کے سامنے ۔اِنہیں بھی شاید اُس وقت ہوش آئے گا جب اِن کی مسندِ اقتدار زلزلوں کی زَد میں ہوگی ۔سچ کہا کسی نے ”ڈَنڈا پیر استاد اے وِگڑیاں تِگڑیاں دا”اور ”ڈنڈا ہمارے پاس ہے نہیں۔ اب کسی اورکو ہو توہو، ہمیں حکمرانوںکے وعدوںکا رائی کے دانے کے برابر بھی اعتبار نہیں کیونکہ ہم مزید بیوقوف بننا نہیں چاہتے ۔ مایوسی کے عالم میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں

تیرے وعدے پہ جیئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مَر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

اب تو اُردوکے چاہنے والوں کی نظریں باربار سپریم کورٹ کی طرف اُٹھتی ہیں جن میں بَس ایک سوال کہ کیا انتہائی محترم چیف جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے فیصلے کو حکمران ہوامیں اُڑا دیںگے؟۔ کیا سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کی توقیر بَس اتنی کہ اِدھر وہ ریٹائرہوئے اور اُدھر حکمرانوںنے نگاہیں پھیرلیں ۔ اگرایسا ہی ہے توپھر عدلیہ کے فیصلوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی ؟اُن پرکون اعتبار کرے گا؟۔

حکمرانوںسے جومایوسی ہوئی ،سوہوئی لیکن ہم ”اردو” کے مستقبل سے ہرگزمایوس نہیں کہ ابھی ارضِ وطن میں ایسے لوگ باقی ہیں جو اپنے خونِ جگر سے نخلِ اُردو کی آبیاری میں مصروف ۔سہ ماہی ”لوح” کے ممتاز احمدشیخ اُن میںسے ایک ۔ 646 صفحات پر مشتمل ”لوح” میرے سامنے ہے اور مَیں حیرتوں کے بھنور میں کہ کیا اتنے نامی گرامی اور جیّد لکھاریوں کو کسی ایک ”سہ ماہی ” کتاب میں بند بھی کیا جا سکتا ہے ؟۔ محترمہ بانوقدسیہ نے بھی لکھا ”حیران ہوںکہ اتنے بہت سے لکھنے والوں کو آپ نے اکٹھا کیسے کرلیا، آپ کی ہمت اورصلاحیت قابلِ دادہے”۔ سحرانصاری نے لکھا ”اتنا ضخیم اورمعیاری رسالہ آپ نے جس اہتمام اور سلیقے سے شائع کیا اُس کی جتنی تعریف کی جائے ،کم ہے۔ تمام مشمولات پر الگ الگ تبصرہ کیاجائے تو حرفِ تحسین و پذیرائی بجائے خود لوح کی ضخامت کے برابر ہوجائے گا”۔

Looh

Looh

حقیقت بہرحال یہی کہ ”لوح” نامی ”سبدِ گل” کو ممتاز احمد شیخ نامی گل چیں نے اردو ادب کی ہر شاخ سے چیدہ و چنیدہ گلوں کو چن کر تیار کیا ۔”لوح ” نظم و نثر کا ایسا حسیں امتزاج ہے جو محبانِ ادب کی ذہنی آبیاری کے لیے اگر کافی نہیں تو تشفی آمیز ضرور ہے ۔اِس لیے ممتاز احمد شیخ نے درست لکھا ”لوح کا معرضِ وجود میں آنا کسی معجزے سے کم نہیں” ۔ لیکن یہ شیخ صاحب کی محض کسرِ نفسی جو اُنہوں نے لکھا ”میں کسی طور پر بھی یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ ”لوح” بے مثل پرچہ ہے”۔ شاید وہ وقت کا عنصر درمیان سے نکال کر بات کر رہے ہوں ۔بھائی ! وہ دَور لَد چکا جب ”نخلِ اُردو” کی آبیاری کرنے والے موجود تھے ۔اب تو اُردو زبان کی بے بسی کا یہ عالم کہ اُسے اپنا وجود تک برقرار رکھنے کے لیے بھی سپریم کورٹ کا سہارا لینا پڑا۔

اِس لیے گزرے زمانوں کی ”ٹَکر” کا ”لوح” دیکھ کر بِلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ کارنامہ نہیں ،معجزہ ہے جو شیخ صاحب کو ودیعت کیا گیا اور اُنہوں نے اِسے اسیراںِ اُردو کے لیے عام کر دیا ۔میں نے ”لوح” کوحرف حرف پڑھااور داد وتحسین کے بے شمار جملے میرے ذہن میں یوں گَڈ مَڈ ہوئے کہ اُنہیںنوکِ قلم پہ لانا مشکل ہوگیا۔ ”لوح” واقعی اولڈ راوینزکی جانب سے اسیرانِ علم وادب کے لیے توشۂ خاص ہے ۔ سچ کہاہے ”لوح” کے مدیر ممتاز احمد شیخ نے”صاحبانِ دِل اپنی مصفّا نظروںسے غورکریں گے تو ”لوح” کے ہرصفحے پرمیری محنت کاخون جابجا نظرآئے گا”۔ ہماری دُعا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔

Prof Riffat Mazhar

Prof Riffat Mazhar

تحریر: پروفیسر رفعت مظہر