counter easy hit

’’بھارتی اداکارائوں کوکس شرمناک کام کا شوق ہے اور وہ اسے کس طرح پورا کرتی ہیں ؟‘‘ نامور پاکستانی اداکارہ ارمینہ خان نے بالی ووڈ انڈسٹری کا شرمناک پول کھول دیا

INDIAN, ACTRESSES, ARE, FOND, OF, SHAMEFUL, ACTS, SAYS, ARMEENA RANA KHAN

لاہور(ویب ڈیسک)برطانوی نژاد پاکستانی اداکارہ ارمینہ خان نے کہا ہے کہ جو عورت مرد حضرات کو دوسری خواتین کا ’گینگ ریپ‘ کرنے کے لیے اکسائے وہ شیطان سے بھی بڑھ کر ہے۔ارمینہ خان نے یہ بیان ایک بھارتی خاتون کی جانب سے ہندو نوجوانوں کو مسلمان خواتین کے ’گینگ ریپ‘ پر اکسانے کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

Armeena Khan

@ArmeenaRK

That a woman can call for the gang-rape of another woman is beyond evil. I do not know where this comes from but it certainly is sinister and worrying. She has since deleted the post and has been expelled but imagine the closet Nazis. https://www.tribuneindia.com/mobi/news/nation/bjp-mahila-morcha-leader-expelled-after-she-asks-hindu-men-to-gang-rape-muslim-women/795515.html 

BJP Mahila Morcha leader expelled after she asks Hindu men to gang-rape Muslim women

CHANDIGARH: Sunita Singh Gaur, the president of the BJP’s Mahila Morcha in Ramkola in Uttar Pradesh, has been expelled from the organisation over a Facebook post, in which she said that Hindu men…

tribuneindia.com

3,607 people are talking about this

ارمینہ خان نے ہندو خاتون کے بیان کی خبر ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’دوسری خواتین کے ’گینگ ریپ‘ کی دعوت دینے والی عورت ان کی نظر میں شیطان سے بڑھ کر ہے‘۔پاکستانی اداکارہ نے اپنے ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ انہیں نہیں پتہ کہ دوسری خواتین کے گینگ ریپ پر مرد حضرات کو اکسانے والی خاتون کہاں سے آئی ہے، تاہم انہوں نے خطرناک بیان دینے کے بعد اپنا بیان سوشل میڈیا سے ہٹا لیا ہے۔ارمینہ خان کے مطابق جس ہندو خاتون نے نوجوانوں کو مسلمان خواتین کے گینگ ریپ کی دعوت دی تھی اسے سیاسی جماعت کے عہدے سے بھی ہٹا لیا گیا ہے۔اداکارہ نے اپنے ٹوئیٹ میں جس خبر کو شیئر کیا اس کے مطابق بھارت کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خواتین ونگ ’محلا مورچا‘ کی خاتون سنیتا سنگھ نے کچھ دن قبل سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ہندو نوجوانوں کو مرد خواتین کا گینگ ریپ کرنے کے لیے اکسایا تھا۔سنیتا سنگھ غور نے اپنی پوسٹ میں ہندو نوجوانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ 10 سے 12 افراد پر مشتمل ایک گینگ بنائیں اور مسلمانوں کے گھر گھر جا کر خواتین کو گینگ ریپ کا نشانہ بنائیں۔سنیتا سنگھ کے مطابق بھارت کو بچانے کا اب ایک ہی حل بچا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہندو نوجوان مسلمانوں کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کا گینگ ریپ کرنے کے بعد انہیں بیچ بازار میں پھانسی پر لٹکادیں۔سنیتا سنگھ نے انتہائی اشتعال انگیز پوسٹ شیئر کرنے کے بعد فوری طور پر اسے ہٹا لیا تھا اور بعد ازاں محلا مورچا کی اعلیٰ عہدیدار خواتین نے ان کے بیان کا نوٹس بھی لیا تھا۔بعد ازاں اطلاعات آئیں کہ انہیں مقامی عہدے سے ہٹا لیا گیا ہے، تاہم ان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی گئی۔سنیتا سنگھ کی جانب سے مسلمان خواتین کے گینگ ریپ کرنے کے بیان کے بعد مسلمان خواتین میں خوف پھیل گیا تھا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website