counter easy hit

دھرنوں و جلسوں کی ناکامی کے بعد پلان سی

Maher Basharat Siddiqui

Maher Basharat Siddiqui

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنا پلان ‘سی’ عوام کے سامنے پیش کر دیا جس کے مطابق انہوں نے 4 دسمبر کو لاہور ، 8 دسمبر کو فیصل آباد ، 12 دسمبر کو کراچی جبکہ 16 دسمبر کو پورا ملک بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔16 دسمبر کو ملک بند کرنے کی دھمکی دینا انتہائی اہم تاریخ ہے۔پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر 1971ء مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے نہایت اہم ہے کیونکہ اسی تاریخ کو پاکستان کا ایک حصہ الگ ہو گیا تھا۔یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اسی تاریخ یعنی 16دسمبر 2009ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینچ نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں این آر او کو کالعدم قرار دیا تھا۔

اب عمران خان کی جانب سے عین اسی دن کی تاریخ کا اعلان کرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔عمران خان کا بھی اسی خاندان سے تعلق ہے جس نے پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار اداکیا تھا ۔اب اس تاریخ کے اعلان سے خان کے عزائم قوم کے سامنے واضح ہو چکے ہیں۔تیس نومبر کے جلسے کا بڑا شور مچا ہوا تھا ۔تحریک انصاف بہت دعوے کر رہی تھی کہ اس جلسے کے بعد حکومت نہیں چل سکے گی لیکن جلسہ ہو گا کچھ نیا نہ ملا۔صرف پلان سی میں شہر بند کرنے کا اعلان کیا گیا جو تحریک انصاف کے بس میں نہیں کیونکہ تحریک انصاف کے پاس برگر کھانے اور پیسی پینے والے جیالے و متوالے تو موجود ہیں لیکن مار کھانے والے نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آبادکے جلسے میںسب سے زیادہ وقت تقریر کی جس کا دورانیہ 34 منٹ 55 سیکنڈ تھا

جلسے سے دیگر رہنماؤں نے بھی تقاریر کیں جن میں تحریک انصاف کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 8منٹ،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے6منٹ،جہانگیر ترین نے5 منٹ جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے8منٹ تقریر کی۔عمران خان نے دھرنوں کے ایک سو زائد دنوں میں جو باتیں کیں وہیں اس جلسے میں کیں۔ خان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے دھرنا ختم کر دیا اور دھاندلی کی تحقیقات نہیں کروائیں تو اس ملک میں ووٹ کی قدر ہی ختم ہو جائے گی اور یہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپنی باریان لیتی رہیں گی

کبھی کسی شریف آدمی کو آ گے آ نے کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ اس نظام میں تو اس کو انصاف ہی نہیں ملے گا۔ نواز شریف نے آصف زرداری سے مل کے الیکشن میچ فکس کیا ، مجھے شدید غصہ ہے کہ سب مانتے ہیں دھاندلی ہوئی، جب ساری جماعتیں کہتی ہیں دھاندلی ہوئی تو صرف عمران خان تفتیش پر زور کیوں دے رہا ہے؟ ہمارے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں مگرسب جماعتیں متفق ہیں کہ دھاندلی ہوئی لیکن نواز شریف کو استعفیٰ نہیں دینا چاہیئے۔انہوں نے واضح کیاکہ دھاندلی کی تحقیقات نواز شریف کی موجودگی تک ممکن نہیں ہیںجس طرح شہباز شریف کی موجودگی میں سانحہ لاہور کی تحقیقات میں شفافیت ممکن نہیں ہے، اسی لئے نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا مگر اب لچک دکھائی ہے کہ نواز شریف وزیر اعظم بھی رہیں اور دھاندلی کی تحقیقات بھی ہو جائیں۔

آج کل ٹی وہ کھولو تو عمران خان کے خلاف اشتہاری مہم چل رہی ہے، یہ عوام کا پیسہ نواز شریف اپنی کرسی بچانے کے لیے استعمال کیوں کر رہا ہے، ہم اس معاملے پر بھی عدالت جا رہے ہیں تا کہ اس حکومت کے ان کارناموں کے خلاف قانونی جنگ بھی لڑیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دھاندلی کے الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ ہم نے تفتیش کی تو پتا چلا کہ دھاندلی کیسے ہوئی، الیکشن سے قبل 70 لاکھ جعلی بیلٹ چھپوائے گئے، سعد رفیق کے حلقے این اے 125 میں ایک لاکھ 24 ہزار جعلی بیلٹ پیپر بھجوائے گئے، نگران حکومت ان کے ساتھ تھی ، دھاندلی کا سلسلہ الیکشن کے بعد بھی ختم نہیں ہوا اور انہوں نے انصاف کے دروازے بند کر کے الیکشن کے بعد بھی دھاندلی کی۔

شرکاء سے خطاب میں انہوں کہا کہ اس وقت ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ایک تو خاموشی سے گھر چلے جائیں مگر اس صورت میں آپ کے ووٹ کی حیثیت کوئی نہیں ہو گی اور جو لوگ دھاندلی سے جیت کر آ ئیں گے وہ وسائل اس قوم پر خرچ نہیں کریں گے بلکہ لوٹ مار جاری رکھیں گے۔ انہوں نے حکومتی منصوبوں پر بھی کڑی تنقید کی کہ ایسے لوگ میٹرو بس بنا کر کرپشن کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف سرگودھا میں کتنے بچے مرے ہیں، یہ پیسہ تعلیم صحت اور انصاف پر نہیں لگنا چاہیئے تھا، اگر سڑکیں بنا کر ملک ترقی کرتے تو ملک ریاض کو وزیر اعظم بنا دیں۔ بلوچستان میں دھاندلی کے واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اشوک سینیٹ کا الیکشن لڑتے ہیں کل ووٹ ہوتا ہے65 ، 61 ووٹ کا الیکشن ہوتاہے اور پھر آج اڑھائی سال گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن ان 61 ووٹوں کی دوبارہ قنتی نہیں کر سکا، اس ملک میں انصاف کیسے مل سکتا ہے؟

ہم نے یونہی دھرنے کا علان نہیں کیا بلکہ ہر دروازہ کھٹکھٹایا اور انصاف مانگا، میں نے ہسپتال کے بسترسے کہا کہ چار حلقے کھول دو، پھر یہی بات اسمبلی میں کہی، سپریم کورٹ ھا کر بھی یہی کہا مگر مجھے کیا پتا تھا کہ سب میچ فکسگ میں ملوث تھے اور پھر جلسے کئے اور اگست میں دھرنا شروع کیا۔ 14 کو لاہور سے نکلا اور 109 دن ہو گئے پر امن دھرنا دیا ہوا ہے حکومتی مظالم جاری ہیں ، لوگوں کو مرتے دیکھا، کئی لوگ گرفتار کیے، کیا دھرنے میں شرکت کرنا جرم تھا؟ 31 اگست کو اپنے سامنے خواتین کو زخمی دیکھا، حکمران سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایسے ہی چلتا رہے گایہ سمجھتے ہیں

جو طاقتور ہے اسے کوئی کچھ نہیںکہ سکتا، شاہ محمود اور ترین پر ایف آئی آر کٹی ہوئی ہے لیکن کرپٹ لوگ آزاد ہیں۔ مجھے کہا گیا میں تمیز سے بات نہیں کرتا، مگر میں ڈاکو کو ڈاکو نہیں تو کیا کہوں؟ میاں صاحب! اس ملک میں 4 لاکھ بچہ مرتا ہے، 30 ہزار خواتین حمل کے دوران مر جاتیں ہیں، ڈھائی کروڑ بچہ سکول سے باہر بیٹھا ہے اور 11 کروڑ لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں ہے مگر 109 دن ہو گئے اور پاکستان جاگتا جا رہا ہے اور ہم سب کو نیا پاکستان نظر آ رہا ہے۔ کپتان نے جلسے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ان سے اپیل کی کہ وہ انصاف کے حصول کیلئے تحریک انصاف کا ساتھ دیتے رہیں اور ان کے پلان سی کو کامیاب بناتے ہوئے شہروں کو بند کریں اور پھر بھی انصاف نہیں ملا تو ہم پلان ڈی کا اعلان کریں گے

جس سے اس حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگر سابق چیف جسٹس ، سابق آرمی چیف اور سابق وزیر اعظم پر مقدمہ چل سکتا ہے تو نواز شریف پر کیوں نہیں چل سکتا۔ سانپ کی چال اور نواز شریف کی سیاست میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا بڑا جلسہ نہ کبھی کیا ہے نہ کبھی دیکھا ہے۔پاکستان کی عوام نے گو نواز گو کا فیصلہ سنا دیا ہے۔عمران خان مجھے حکم دیں میں عوام کے ساتھ وزیر اعظم ہائوس چلا جاتا ہوں۔ایک سو دن کے دھرنے میں تحریک انصاف کا ایک مطالبہ بھی نہیں مانا گیا۔عوامی تحریک تو دھرنوں و جلسوں سے فارغ ہو چکی اب تحریک انصا ف کا پلان سی بھی آخری رائوند لگ رہا ہے۔

اس کے بعد خاموشی ہو جائے گی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت پانچ سال پورے کر لے گی ۔وزیراعظم کا دوسرے مہینے پھر پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان خوش آئند ہے جسے عوام نے سراہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اشیائے خوردو نوش،بجلی و گیس کے نرخ بھی کم کرے تا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے اور درھرنے دینے والوں کو بھی ہوش آئے کہ حکومت صرف دعوے نہیں بلکہ عملی کام کر رہی ہے۔

تحریر:مہر بشارت صدیقی