counter easy hit

نفرتوں کے گہرے ہوتے سائے

Tolerate exploitation

Tolerate exploitation

تحریر: محمد آصف ا قبال، نئی دہلی
کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اکثریت اقلیت سے ڈر کر رہے یا لوگوں میں اقلیت کی شبیہ کچھ اس طرح کی بنائی جائے کہ اکثریت میں ڈر اور خوف خود بہ خود پیدا ہو جائے۔لیکن خبر سننے والے کو پہلے مرحلہ میں سوال یہی کرنا چاہیے کہ آپ جبکہ اکثریت میں ہیں ،اقلیت سے خود کو کیوں غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔باالفاظ دیگر اقلیت کا کیا ڈر اور کون سا خوف جبکہ آپ وسائل اور گنتی ہر لحاظ سے بے پناہ طاقت رکھتے ہیں؟غالباً اس کا آسان جواب یہی ہونا چاہیے کہ اکثریتی طبقہ کا وہ گروہ جو اقتدار میں ہے،وہ اقتدار کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔لہذا ایک ایسا مصنوعی ماحول پروان چڑھایا جاتا ہے جس کی بنیاد پر یا معدود چند واقعات کی بناپر اکثریتی طبقہ اقلیتوں کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرے۔یعنی اکثریتی طبقہ کا وہ گروہ جسے لفظ عام میں عوام کہا جاتا ہے،برسر اقتدار طبقہ کا استحصال برداشت کرنے اور مختلف طرح کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے باوجود اُنہیں کو اپنا سب سے بڑا ہمدرد اور محافظ سمجھنے لگتا ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون بھی دیتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں ہر دور میں بڑے پیمانہ پر انسانیت کے دشمن اور متشدد عناصرپروان چڑھتے ہیں۔اور یہ وہ عناصر ہیںجنہیں نظم و نسق کا کوئی ڈر اور خوف نہیں ہوتا کیونکہ اہل اقتدار بلاواسطہ اُن کی پشت پناہی میں مصروف ہوتے ہیں یا انہیں چھوٹ فراہم کرتے ہیں،جو در اصل امن و امان کے حقیقی دشمن ہیں۔

وطن عزیز میں ایک طویل عرصہ سے شک اورقیاس کی بنیاد پر مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔اس کے مختلف مراحل رہے ہیں۔پہلے پڑوسی ملک کی متشدد تنظیموں کے نام سے یہ کام ہوتا رہا۔پھر ملک ہی کی ایک خاص تنظیم پر سوال کھڑے کیے گئے۔اور اب معاملہ یہ ہے کہ متشدد عالمی تنظیم کے ملک میں موجود نیٹ ورک کے نام پر پکڑ دھکڑ جا ری ہے۔یہ صحیح ہے کہ وطن کی سلامتی اور اس کی بقا وتحفظ کے لیے ایسے لوگوں پر نظر رکھی جائے جو انتشار و افتراق پیدا کرنا چاہیے ہیں یا غلط کاموںمیں مصروف ہیں ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نظم و نسق عوام خود اپنے ہاتھ میں لے لیں۔یا ایسا ماحول پروان چڑھائیں جس سے ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے باضابطہ نفرت پیدا ہو جائے۔پھر وہ بلاسوچے سمجھے اور حقیقت کو جانے بغیر ایک گروہ خود ہی دوسرے سے نمٹنے کی تیار ی میں مصروف ہو جائے۔ایسے حالات میں ہونا تو یہ چاہیے کہ نظم و نسق کو چلانے والے ایمانداری،سچائی اور حقیقت پر مبنی معلومات پر کارروائی کریں،اس بات کا لحاظ رکھتے ہوئے کہ ان کی یہ کارروائی نفرت کے فروغ کا حصہ نہ ہو کر امن و محبت کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنے گی ۔

اس لیے جب تک ملزم کا جرم ثابت نہ ہوجائے،اس کی شبیہ خراب ہونے سے بچائی جائے۔فائدہ یہ ہوگا کہ شہریوں کے دوگروہ آپس میں ایک دوسرے سے نہیں لڑیں گے ،ماحول خوشگوار ہوگا،مسائل کم سے کم تر ہوں گے،اور ایک مثالی معاشرہ اور مثالی ملک دنیا کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا جا ناممکن ہوگا۔خصوصاًآج کے حالات میں جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کہیں سرد تو کہیں حقیقی جنگیں جاری ہیں۔شاید یہی بات صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی نے راجستھان سرکار کے اشتراک سے انڈیا فائونڈیشن کی جانب سے منعقدہ انسداد دہشت گردی کانفرنس 2016 کے افتتاحی خطاب میں کہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امن نہ صرف ہماری قومی بیداری اور آفاقی اخلاق کے نصب العین کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اسے تہذیب کی بنیاد اور معاشی کامیابی کی حیثیت حاصل ہے۔مزید کہا کہ دہشت گردی ،مہمل مقاصد اور شدید نفرت کے ماحول میں پروان چڑھتی ہے۔ایسی صورت میں محض سیاسی اور جنگی حکمت عملی اس مسئلہ کے حل کے لیے کافی نہیں ہے۔ہمیں اس کے سماجی ،معاشی ،مذہبی اور نفسیاتی پہلوئوں پر غور و خوض کرنا ہوگا۔اور یہ بھی کہا کہ ہندوستان جیسے اجتماعی اور مجموعی سماج نے ہمہ ثقافتی طریقہ زندگی کے متعدد نمونے پیش کیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عالمی دہشت گرد گروہ ہندوستان میں اپنی جڑیں نہیں جما پائے ہیں۔ہم نے ایک قوم کی حیثیت سے اجتماعیت کو اس طرح مستحکم کیا ہے کہ وہ بنیادپرست نظریات کے خلاف جم کر کام کر سکیں۔

صدر جمہوریہ کی گفتگو موجودہ حالات میںبہت معنی خیز ہے ۔اور اس میں کھلا پیغام شاید یہی دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وطن کی سالمیت کے لیے اندرون ملک رہنے والے ایک دوسرے کے درمیان نفرت کا ماحول پروان نہ چڑھائیں۔اس کے باوجود نفرت کا ماحول منظم اور منصوبہ بندانداز میں جاری ہے۔پھر یہ معاملہ صرف مسلمانوں کے تعلق ہی سے نہیں ہے بلکہ شرمناک حد تک دیگر مذاہب اور اقوام کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے۔معاملہ یہ ہے کہ نفرت کا زہرجب پلا ہی دیا گیا تو پھر اُس کے اثرات بھی کسی نہ کسی شکل میں سامنے آنے ہی ہیں۔فی الوقت ہم جس واقعہ کا تذکرہ کررہے ہیں وہ تنزانیہ کی طالبہ کے ساتھ شہر بنگلور میں حد درجہ شرمناک واقعہ ہے۔ جہاں ہجوم نے افریقی طالبہ کو پہلے مارا پیٹا،رسوا کیا اور بعد میں برہنہ کیا ۔طالبہ جس پر حملہ کیا گیا وہ اکیس سال کی کالج اسٹوڈنٹ ہے۔جس ویگن آر کار سے وہ سفر کر رہی تھی ،اس کو قریب دوسو لوگوں نے اس وقت روک لیا تھا جبکہ روکے گئے مقام پر ٹھیک آدھے گھنٹے پہلے وہاں سے گزری گاڑی نے سڑک پر چل رہی ایک خاتون کو کچل دیا تھا۔مشتعل ہجوم کو جب کچلنے والی گاڑی پر غصہ نکالنے کا موقع نہیں ملا تو انہوں نے اُس ویگن آر گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں یہ افریقی طالبہ سفر کر رہی تھی۔پہلے گاڑی رکوائی گئی،ہجوم نے طالبہ کو مارا پیٹا اور برہنہ کیا،پھرطالبہ کو جان بچانے کے دوران مزید تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں،یہاں تک کہ گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔اس موقع پر ایک لحمہ ٹھہریئے ! اور غور کیجئے کیا یہ معاملہ صرف ایک طالبہ اور مشتعل ہجوم کے درمیان کا تھا؟سوال یہ ہے کہ یہ اشتعال انگیزی اور وہ بھی حد درجہ اشتعال انگیزی،ہمارے فکر و نظر اور اعمال میں کس نے پیوست کی ہے؟وہ لوگ کون ہیں جو نفرتوں کی آگ لگا کر ،اذیتیں اور تکلیفیں دے کر،عزت نفس سے کھلواڑکرتے ہوئے،انسانوں کو جھلستا دیکھ کرنہ انہیں اپنے کیے پر شرمندگی ہوتی ،نہ وہ اس میں سدھار کے خواہش مند ہیں بلکہ محظوظ بھی ہوتے ہیں۔کیا ان انسان نما حیوانوں سے کسی خیر کی توقع کی جاسکتی ہے؟

نفرتوں کا بازار ایک اور مسئلہ کو بنیاد بنا کر تیزی سے سجایا جا رہاہے۔وہی بازار جس کا تذکرہ ہم نے مضمون کے آغاز میں کیا تھا یعنی مسلم نوجوانوں کی قیاس اور شک کی بنیا د پر کی جانے والی گرفتاریاں۔فی الوقت جو گرفتاریاں جاری ہیں وہ داعش اور اسلامک اسٹیٹ سے رابطہ کے شک میں یا اس کوتعاون فراہم کیے جانے کے قیاس پر مبنی ہیں۔اوراس شک و قیاس کی بنیاد پر کی جانے والی گرفتاریوں کے دو پہلو سامنے آرہے ہیں ۔ایک عمومی طور پر اسلام اور مسلمانوں کو رسوا کرنا تو دوسرا مسلمان جن لوگوں کے درمیان اپنے سماجی رابطہ بنائے ہوئے ہیں،ان سماجی رابطوں میں پہلے دراڑ ڈالنا،پھر دوریاں پیدا کرنا،نفرت کا بازار سجانا اور آخر میں نظم و نسق کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام کے ذریعہ بڑے پیمانہ پر کشت وخون بہانا۔شگاف ڈالنے ، دوریاں قائم کرنے اور نفرت کا بازار سجانے کامرحلہ کسی حد تک طے کیا جاچکا ہے ،اور آخری مرحلے کی منظم تیاریاںجاری ہیں۔اِنہیں کوششوں کا ایک سرسری جائزہتہلکہ ہندی نے اپنے ایک خاص مضمون “ہندتو کے نئے ٹھیکدار”کے نام سے شائع کیا ہے۔

جسے یکسوئی اور تندہی کے ساتھ نرسنہا نند جو سوامی کے نا م سے مشہور ہیںسینا کی شکل میں چلا رہے ہیں۔مقصد جو بتایا گیا وہ یہ کہ ملک کے تحفظ اور بقا کے لییغیر ملکی متشدد تنظیموں اور افراد سے لوہا لینا ہے۔برخلاف اس کے مضمون کے آغاز ہی میں گائوں کے ایک بچہ کو بری طرح پیٹتے ہوئے بتایا گیا ہے جو اُسی گائوں کا بچہ ہے جہاں سوامی اور ان کی سینا موجود ہے۔اور پیٹنے والا بچے کو صرف اس لیے پیٹ رہا ہے کہ اسے ،بچے اور اس کی کمیونٹی سے حد درجہ نفرت ہوچکی ہے۔مضمون تو آپ پڑھ ہی لیں گے ۔اس کے باوجود دیکھنا یہ چاہیے کہ نفرت کے خاتمہ اور آپسی محبت و ہمدردری کے ماحول کو پروان چڑھانے میں ،ہم نے عملی میدان میں کیا خدمات انجام دی ہیں یا کیا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ نفرتوں کے سائے جو گہرے ہوتے جارہے ہیں ان کا خاتمہ ہو۔ اس نفرت کے خاتمہ میں اسلامی تعلیمات اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔اوربحیثیت مسلمان آپ پر ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے!!

Mohammad Asif Iqbal

Mohammad Asif Iqbal

تحریر: محمد آصف ا قبال، نئی دہلی

maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com