counter easy hit

گھر میں پیش آنے والے حادثات کے لئے فرسٹ ایڈ ٹپس

First Aid Tips for Home Accidents

بچے جب چلنا سیکھ جاتے ہیں تو ان کا بہت زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے کیونکہ وہ گھر میں ہر جگہ گھس جاتے ہیں اور اکثر چوٹ بھی کھا لیتے ہیں ۔آپ کی لاکھ کوشش کے باوجود ایک آدھ مرتبہ تو ان کو چوٹ لگ ہی جاتی ہے۔اگر گھر میں بچے کو کوئی حادثہ پیش آجائے توآپ پریشان ہونے کے بجائے فوری طبی امداد دیں ۔اس طرح کا اقدام کرکے ناصرف بچے کی تکلیف کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے بلکہ زیادہ نقصان سے بھی بچایا جاسکتا ہے ۔اگر کٹ یا رگڑ لگ جائے: اگر چوٹ کی وجہ سے خون نکل رہا ہو تو زخم پر صاف کپڑا رکھ کر چند منٹ دبا کر رکھیں تاکہ خون رک جائے۔نیم گرم پانی سے دھو کر ہلکا سا خشک کر لیں ۔اگر رگڑ پر مٹی لگی ہو یا جانور کے پنجہ مارنے کی وجہ سے چوٹ لگی ہو تو اسے صابن کے جھاگ اور پانی سے دھو لیں۔اگر جلد پھٹ گئی ہے تو اس پر اینٹی بائیوٹک مرہم کی موٹی تہ لگاکر پٹی باندھ دیں۔اگر آپ کی کوشش کے باوجود خون بہنا بند نہ ہو تو بچے کو ایمرجنسی میں لے جائیں۔اگر کھال کا بڑا ٹکڑا کٹ کر الگ ہو گیا ہے تو اسے گیلے کپڑے میں لپیٹ کر برف پر رکھیں اور اپنے ساتھ ہاسپٹل لے جائیں کیونکہ ڈاکٹر اس کھال کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کر سکتا ہے۔اگر جانور کے کاٹنے کی وجہ سے گہرا کٹ لگا ہے تو ڈاکٹر کو دکھانا نہایت ضروری ہوگا۔بعد کی احتیاط: زخم کو روزانہ صاف کرکے مرہم لگائیں اور پٹی کریں ۔اگر زخم گہرا ہو تو اس کے پکنے کا خطرہ ہوتا ہے لہٰذااگر زخم میں پس پڑ جائے ،سوجن یا سرخی آجائے تو اس انفیکشن کو ختم کرنے کے لئے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔اگر جل جائے: اگرجل جائے تو جلا ہوا حصہ فورا پانی کے نیچے کردیں یاگیلا تولیہ رکھ دیں تاکہ درد کم ہو جائے۔چھالوں پر ڈھیلی پٹی باندھ دیں ۔اگر چہرہ ہاتھ یا جسم کا کائی اور نازک حصہ جلا ہو تو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں ۔اگر زخم گہرا ہو تو جلد سفید ،برائون اور خشک نظر آئے گی ۔ایسی صورت میں ایمرجنسی میں لے جائیں ۔اس پر گیلا ٹھنڈا کپڑا نہ لگائیں اور بچے کو صاف چادر یا کمبل سے ڈھانپ لیں۔بعد کی احتیاط: چھالوں کو پھوڑنے کی کوشش نہ کریں۔اگر جلد ہٹ جائے تو اس پر اینٹی بائیوٹک کریم لگا کر پٹی کریں ۔کسی قسم کی سرخی،سوجن اور پس پڑنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ناک سے خون آنا: ناک سے خون آنے کی صورت میں بچے کو سیدھا بٹھائیں اور سر پیچھے کی طرف نہ جھکانے دیں۔گردن کے گرد تنگ کپڑوں کو ڈھیلا کر دیں۔ناک کو نتھنوں کے پاس سے پکڑ کر دبائیں۔بچے کو آگے جھکاکر ناک کو پانچ سے دس منٹ کے لئے دبا کر رکھیں ۔ناک چھوڑے بغیر چیک کریں کہ خون آنا بند ہوا یا نہیں۔بعد کی احتیاط: اگر خون چوٹ لگنے کی وجہ سے نکلا تھا تو سوجن ختم کرنے کے لئے ناک کی ہڈی پر برف سے سکائی کریں۔اگر دس منٹ بعد بھی ناک سے خون آنا نہ بند ہو یا دوبارہ آنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں یا اسے ایمرجنسی میں لے جائیں۔اگرپھانس یا شیشہ چبھ جائے : متاثرہ جگہ کو صابن اور پانی سے دھوئیں ۔ٹوئزر کو الکوحل سے صاف کرکے پھانس کو آرام سے نکال لیں ۔اگر پھانس نکلنا مشکل ہو تو اسے ایک دن کے لئے چھوڑ دیں وہ خود ہی باہر آجائے گی۔اگر بچے کے پیر میں شیشہ چبھ گیا ہے اور آپ اسے پوری طرح نکال نہ پائیں تو پیر پر صاف کپڑا لپیٹ کر بچے کو ایمرجنسی میں لے جائیں ۔اگر آپ نے شیشہ نکال بھی لیا ہے تو پھر بھی احتیاط کے طور پر ایکسرے کروا لیں تاکہ پیر میں مزید شیشے ہونے کی وجہ سے انفیکشن سے بچا یا جاسکے۔بعد کی احتیاط: اگر پھانس کچھ دنوں میں بھی نہ نکلے اور اس جگہ سرخی یا پس یا درد ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ وہ اس پھانس کو نکال سکے۔ آنکھ میں چوٹ لگ جانا : اگر آنکھ میں کچھ چبھ جائے یا چوٹ لگ جائے اور بچے کی آنکھ میں شدید تکلیف ہو،مسلسل آنسو بہ رہے ہوں ،روشنی کم ہو جائے یا دھندلا نظر آئے تو ٹھنڈا گیلا کپڑا آنکھ پر رکھ کر ایمرجنسی میں لے جائیں۔ہوسکتا ہے اس کی آنکھ کے اندر چوٹ آئی ہو جس کے لئے مرہم یا ڈراپس کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسے زخم ۴۸ گھنٹوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔اگر آنکھ میں کیمیکل چلا گیا ہے تو آنکھ کو کھولے رکھیں اس میں نیم گرم پانی ڈالیں اور ایمرجنسی میں لے جائیں ۔ بعد کی احتیاط: آنکھ میں کچھ چبھنے کی وجہ سے ہونے والی تکلیف اور بینائی پر نظر رکھیں ۔اگر یہ تکلیف کئی ہفتوں تک رہے تو اس کا مطلب کہ چوٹ سے پتلی متاثر ہوئی ہے یا زخم بہت گہرا ہے۔کیڑے کا کاٹا یا ڈنک: اگر کیڑے کا ڈنک جلد میں رہ گیا ہے تو جلد کو ناخن سے کھرچ کر ڈنک باہر نکال لیں ۔ٹوئزر استعمال کرنے کی صورت میں ڈنک سے زیادہ زہر نکل سکتا ہے۔اگر بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو،کھانسی ہو جائے ،جلد پر دانے نکل آئیں یا ہونٹ یا زبان سوجھ جائیں تو اسے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website