counter easy hit

ہندو مذہب کا وسیع علم ،مسلمان لڑکی نے تمام ہندوؤں کو شرمندہ کر دیا، مات دے دی

Extensive knowledge of Hindu religion, Muslim girl shamed and defeated all Hindus

بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان بچی نے مذاہب کے بارے میں حیرت انگیز معلومات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندومت کے بارے میں منعقد ہونے والے ایک مقابلے میں ہزاروں ہندوبچوں کو شکست دے کر تاریخ رقم کردی۔ اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق ”گیتا چیمپیئنز لیگ“ نامی مقابلے میں ہندومت کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کے بارے میں 100 سوالات پر مبنی تحریری ٹیسٹ لیا گیا۔ اس مقابلے میں تین ہزار سے زائد سٹوڈنٹس نے شرکت کی لیکن جب فاتح کے طور پر چھٹی جماعت کی مسلمان طالبہ مریم صدیقی کا نام پکارا گیا تو سب کے منہ حیرت سے کھلے رہ گئے۔ کاسمو پولیٹن ہائی سکول کی طالبہ مریم کا کہنا ہے کہ انہیں معلومات عامہ کا شوق ہمیشہ سے رہا ہے لیکن جب ان کے والدین نے گیتا کے متعلق مقابلے کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اس کی تیاری بھی شروع کردی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی کامیابی میں ان کے والدین کا بہت بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے سخت محنت کے ساتھ انہیں تیاری کروائی۔ مریم صدیقی کو مقابلے میں فتح کا اول انعام 15 مارچ کو دیا گیا۔ دوسری جانب اگرچہ پاکستان اور ہندوستان کو جدا ہوۓ نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اس کے باوجود ان کے رابطوں اور تنازعات کی شدت میں کمی نہیں آسکی .ہنوستان کے اندر اس وقت بھی ایک بڑی تعداد مین مسلمان آباد ہیں . جن کے ساتھ ہندوستان کے ہندووں کا سلوک انتہائی جاہلانہ اور ظالمانہ ہے . ہندوو کا یہ ماننا ہے کہ جب مسلمانوں نے اپنے لیۓ اسلام کے نام پر وطن حاصل کر لیا ہے تو وہ وہیں جا کر اباد کیون نہیں ہو جاتے جب کہ دوسری جانب مسلمانوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ صدیوں سے جس علاقے میں رہائش پزیر ہیں اس کو کیوں چھوڑیں .دونوں مزاہب کے بیچ اس تفاوت کے سبب مزہبی شدت پسندی میں بہت اضافہ ہوا ہے . اسی سبب ایک چھوٹا سا عمل بھی جو کہ دوسرے مزہب کے رجحان یا جھکاؤ کی طرف اشارہ دے دونوں جانب کے مزہبی رہنماؤں کو غصب ناک کر دیتا ہے .ایسے ہی کچھ واقعات ہندوستان کی دو لڑکیوں کو بھی پیش آۓ ان میں سے ایک لڑکی مریم جو کہ چھٹی جماعت کی طالبہ تھی اس نے ہندؤں کی مذہبی کتاب گیتا کے بارے میں ایک معلوماتی مقابلے میں حصہ لیا اور ایک ہزار ہندو طالب علموں میں پہلا انعام حاصل کیا .

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website