counter easy hit

راستے بھول کر سفر کرنا

Travel

Travel

تحریر: شفقت عاصمی
” عجب گونگی ہوا کی سرسراہٹ،راستے بھول کر سفر کرنا
آہٹوں کے لہجے میں لمس کی تمازت سے۔۔۔۔۔۔
کوئی سورج زمیں کو چھو جائے،سانسوں میں خدا کے لمس کے لیے۔۔۔۔۔۔
اس شہر میں کسی سے دوستی سی تھی، راستے بھول کر سفر کرنا
نظر کی روشنائی سے تمھاری روح پہ لکھنا
سمندر کے کنارے ڈوبتے سورج کے چہرے پر
راستے بھول کر سفر کرنا

ہر طرف دھند ہے ہر طرف ہے دھواں۔۔سورجوں کی ضیا، چاند کی روشنی
۔۔۔۔۔۔۔ہم نے دیکھی نہیں ہے کبھی زندگی
ہم نے دیکھی نہیں ہے کبھی زندگی
راستے بھول کر سفر کرنا
سوچ کے شبستاں میں اک خیال گھر بھی تھا
کھڑکیاں بھی کھلتی تھیں اور ایک در بھی تھا
ہجر تھا تو آنکھوں میں خواب کا سفر بھی تھا
اک کمرہ اور چند کتابیں ہر سو پھیلی تنہائی
رات کمرے میں ہی دیر تک روئی، نیند میں رات کا ابہام رہا
کسی تعبیر کے یقیں کے بغیر
آو سانسوں کی اوٹ میں بیٹھیں عمر کی زندگی کو فرض کریں
آج اپنی کمی کو فرض کریں۔۔۔۔۔۔۔۔راستے بھول کر سفر کر
ایک ہچکی کا تصور کرکے،تیرے سائے کو سُنا تھا میں نے
وہاں ملبے کی بولی لگ رہی تھی۔۔میں گرچہ شام کو گھر آگیا تھا

Sad

Sad

مجھ کو یہ معلوم ہے زرناپ لے گا تیرا حُسن۔۔اور میرے عشق کی سچائیاں رہ جائیں گی،
میری تنہائی پاگل ہوچکی ہے۔۔یہ میرا شہر کیوں سوتا نہیں
راستے بھول کر سفر کرنا، عجب سکتے میں آنسو آگئے ہیں۔۔۔۔
بچھڑ کے کوئی بھی روتا نہیں ہے
مجھ کو توڑنے کی ضد اک جنون ہے اُس کا۔۔کرچیوں کے لہجے میں آئینہ دکھاتا ہے،
راستے بھول کر سفر کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت قریب رہے تجھ سے سانولی لیکن۔۔بڑے وقار سے کچھ فاصلوں کے ساتھ رہے
قناعتوں کے کنول خواہشوں کے ساتھ رہے
مجھ کو یہ معلوم ہے اب ہر خوشی چھن جائے گی،
اور دیونے سے اس کی سانولی چھن جائے گی۔۔۔۔۔۔
ایک آہٹ گمان کر کے ہم۔۔آس نظریں سجائے پھرتے رہے۔۔۔۔۔
یکایک لمحے مسکائے بہت ہیں

ایک گھر تھا انہی گلیوں میں کہیں۔۔ڈھونڈتا ہوں کہ پتا یاد نہیں،
راستے بھول کر سفر کرنا،
ہم نے قسطوں میں خود کشی کی ہے،لوگ کہتے ہیں شاعری کی ہے۔۔۔۔۔
لوگ کہتے ہیں شاعری کی ہے،
راستے بھول کر سفر کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Evening

Evening

وہ ٹھنڈی سڑک کہ جس پہ کبھی۔۔ہم نے ڈھلتی شام سایوں میں۔۔کیا خوش تھے خراماں پھرتے تھے
دھوئیں کو سوچنا ہوگا،دھوئیں کو دیکھنا ہوگا۔۔۔
دھواں لمحے کی اک تصویر کا صد رنگ معنی ہے،
دھوئیں کو سوچنا ہوگا،دھوئیں کو دیکھنا ہوگا
سڑکوں کے تارکول میں اب بھی خلوص ہے۔۔۔۔۔۔
راستے بھول کر سفر کرنا۔۔۔۔۔منزل آگہی کو سر کرنا۔۔۔۔۔۔۔
راستے بھول کر سفر کرنا۔۔۔۔راستے بھول کر سفر کرنا۔

تحریر: شفقت عاصمی