counter easy hit

نامور پاکستانی سیاستدان نے اپنے سپورٹرز اور شہریوں کے لیے خصوصی ہدایت جاری کر دی

Eminent Pakistani politicians have issued special instructions to their supporters and citizens

کراچی (ویب ڈیسک) میئر کراچی وسیم اختر کا کراچی والوں کو پیغام میں کہا ہے کہ کراچی کے عوام حکومت سندھ کو ٹیکس دینا بندکردیں،اپنا ٹیکس وفاق یا کے ایم سی کو دیں، کراچی کی صورتحال کی سندھ حکومت ذمہ دارہے۔تفصیلات کے مطابق میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کراچی کی عوام سےکہتاہوں سندھ حکومت کوٹیکس دینا بند کردیں، ہم کبھی بحریہ ٹاؤن سے درخواست کرتے ہیں تو کبھی کسی اور سے، علی زیدی کراچی کے مسائل کے حل کیلئے چندہ جمع کر رہے لیکن چندے سے کب تک مسائل حل ہوں گے، وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔میئر کراچی کا کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری سےدرخواست کروں گا واٹربورڈکودیکھیں، پانی نہ ہونےکی وجہ سےکراچی کےلوگ مشکل میں ہیں، ایم پی اے ایم این اے واٹر بورڈ سے بات کرنے جارہے ہیں۔وسیم اختر نے کہا ہم ایف ڈبلیو او اور بحریہ ٹاؤن سے مدد لے رہے ہیں، سیوریج کا پانی پورے شہر میں ابل رہاہے، ساراملبہ نالوں میں پھینکاجارہا ہےاس طرح نالے صاف نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی فیڈرل اورسندھ حکومت کوجوپیسہ دیتاہےوہ کہاں جاتاہے، کوئی نہیں آتاکراچی کیلئےکوئی نہیں پوچھتا، میرےاستعفیٰ دینے سے کچھ نہیں ہوگا، کراچی کےلوگ ٹیکس دیتےہیں لیکن سہولتیں نہیں مل رہیں۔میئر کراچی نے کہا اپیل کرتاہوں کہ ہرپارٹی کاکارکن ہمارےساتھ کھڑاہو، آئیں ہم سب ملکرکراچی کوصاف کریں، شہرکوپانی دینااورسیوریج صاف رکھنا سندھ حکومت کا کام ہے ، وسائل نہیں ہیں اس لئےڈسٹرکٹس پوراکام نہیں کرسکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کی صورتحال کی سندھ حکومت ذمہ دارہے، کراچی ہرجماعت کواقتدارمیں لیکرآیالیکن شہرکوکسی نےنہیں پوچھا، لوگوں سے کہوں گاکہ کراچی کےمسائل کیلئے آواز اٹھائیں۔وسیم اختر نے کہا سندھ حکومت کیخلاف آوازاٹھائیں جوٹیکس کھارہےہیں، میرےپاس3کروڑکامینڈیٹ ہےمیں میئرہوں کراچی کا، اب تک کراچی کے مسئلے پر سندھ حکومت نہیں بیٹھی۔ نھوں نے کہا کہ کےالیکٹرک اگرفیل ہوگئی توبجلی کاکام کون کرے گاان کوفکرنہیں، سندھ حکومت نےتاحال کوئی بی پلان نہیں بنایا، میں ناصرحسین شاہ سے کہتاہوں کہ خدارا سنجیدہ ہوجائیں سندھ کے شہری علاقوں میں شہری مسائل پر سیاست کا آغاز ہوچکا ہے تمام سیاسی جماعتوں کی نگاہیں کراچی اور حیدرآباد کی بلدیاتی قیادت سنبھالنے پر جمی ہوئی ہیں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر بحری امور علی حیدرزیدی نے کراچی کے بڑے مسئلے کچرے کی جانب توجہ دی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ دوہفتوں میں کراچی کو کچرے سے پاک کریں گے اس ضمن میں انہیں میئرکراچی سمیت، ایف ڈبلیو اوراین ایل سی کی معاونت کے علاوہ دیگر اداروں اور شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ ایک نجی بینک اور کے الیکٹرک نے صفائی مہم میں فنڈ بھی دیئے ہیں کراچی کو کچرے سے پاک کرنا مشکل ترین کام ہے کراچی روزانہ 16 ہزارٹن کچرا پیدا کرتا ہے پلاسٹک بیگ کچرے کی بڑی صورت میںہر جگہ بکھرے پڑے ہیںشہر میں 12اداروں کی عملداری ہے اس کے علاوہ چھ کنٹونمنٹ بورڈ بھی موجود ہیں کراچی میں 38 بڑے نالوں کے ساتھ ساتھ 200 چھوٹے نالے بھی ہیں جو کچرے سے اٹے ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی گلیوں سے کچرا ٹھانا جان جوکھو کا کام ہے اس کے باوجود علی زیدی نے اس مشکل کا م کا بیڑااٹھایا اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبائی حکومت اور میئرکراچی کس حدتک ان کا ساتھ دیتے ہیں تاہم کچرااٹھانا مشکل کام ہے ایک بار کچراٹھانے سے کراچی صاف نہیں ہوگا کراچی صفائی مہم کے ضمن میں بلدیہ عظمی کراچی اور وفاقی حکومت کے اشتراک سے کلین کراچی مہم کا آغازاتوار سے کردیا گیا۔ وفاقی وزیر پورٹ اینڈشپنگ علی زیدی اور میئرکراچی وسیم اختر نے کے پی ٹی ہیڈآفس میں ایک بڑے جلسہ عام میں اس مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علی زیدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کے دوران کراچی کے ٹیکسز کی رقم دبئی منتقل کی گئی۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ صفائی توروز کا مسئلہ ہے آپ شہر صاف کرکے چھوڑدیں گے تو بعد میں کیا ہوگا۔ ہم ایک مرتبہ شہر کومکمل صاف کرکے بتاناچاہتے ہیں کہ کوشش کی جائے تو شہر صاف ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میئرکراچی وسیم اختر، ان کی جماعت اور بلدیاتی نمائندوں کے تعاون کے بغیر مہم کی کامیابی ممکن نہیں، ہماری نیت صاف ہے، اس لیے اللہ کی مدد بھی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اس مہم میں ایف ڈبلیو او کا تعاون حاصل رہے گا۔15ہزار رضاکار، بلدیاتی اداروں ، منتخب نمائندوں اور ممبران پارلیمنٹ بھی تعاون کریں گے ۔ ہم ان ضاکاروں کو ڈسٹرکٹ کی سطح پر تقسیم کریں گے ۔ میئرکراچی وسیم اختر کا کہناتھا کہ صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث وفاقی حکومت سے تعاون کی درخواست کی، علی زیدی کا شکریہ، انہوں نے میرے خط کے جواب میں تعاون کیا، میں موجودہ اختیارات اور وسائل کے ساتھ کراچی کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ ہمیں سیاست نہیں، کام کرنا ہوگا، اگر اس میں سیاست شامل ہوئی تو نتائج صفر ہوں گے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website