counter easy hit

زلزوں کی آمد

Earthquake

Earthquake

تحریر : سلطان حسین
پاکستان میں 26 اکتوبر کے بعد سے زلزلوں کا ایک نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہوچکا ہے 26 اکتوبر کے بعد سے اب کوئی دوسو سے زائد چھوٹے بڑے زلزلے آچکے ہیںپاکستان میں زیادہ زلزلے شمال اور مغرب کے علاقوں میں آتے ہیں جہاں زمین کی سطح کے نیچے موجود غیر یکساں تہیں یعنی انڈین ٹیکٹونک پلیٹ ایرانی اور افغانی یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے ساتھ ملتی ہیں۔زیر زمین تہہ جسے انڈین پلیٹ کہا جاتا ہے بھارت، پاکستان اور نیپال کے نیچے سے گزرتی ہے۔ انڈین پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے ٹکرا ؤکے نتیجہ میں ہی ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے تھے۔پاکستان میں جن علاقوں میں زلزلہ آنے کا سب سے زیادہ امکان ہے وہ کوئٹہ سے افغانستان کی سرحد تک پھیلا ہوا علاقہ اور مکران کے ساحل کا علاقہ ہے جو ایرانی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کوہ ہندوکش میں آنے زلزلے شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کو متاثر کرتے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں کے نیچے سے گزرنے والی متحرک فالٹ لائنز کو دیکھتے ہوئے ملک کو زلزلے کے اعتبار سے انیس زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ انیس میں سے سات ایسے زون ہیں جہاں کسی بھی وقت زلزلے کے شدید جھٹکے آ سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرناک زون میں شمالی علاقے، مکران، کوئٹہ ریجن اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اکثر علاقے شامل ہیں۔ان زونز میں آنے والے بڑے شہروں میں کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ گلگت اور چترال شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کم خطرناک زون میں اسلام آباد اور سالٹ رینج کے علاقے آتے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ ہیں اور اس کے علاوہ تقریبا سارے ملک کے نیچے سے زلزلے کا باعث بننے والی فالٹ لائنز گزرتی ہیں۔پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سو سال کے دوران پاکستانی علاقوں میںکئی ہولناک زلزلے آئے جن میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا۔پاکستان کی حالیہ تاریخ میں زلزلے میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان آٹھ اکتوبر سال دو ہزار پانچ کے آنے والے زلزلے میں ہوا۔ شمالی علاقوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزلے سے 73000 افراد ہلاک ہوئے اور وسیع علاقے میں املاک کو نقصان پہنچا اور اب تک ان علاقوں میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل 2008 میں اکتوبر کے مہینے میں بلوچستان ہی چھ اعشاریہ چار شدت کے زلزلے کا نشانہ بنا اور اس قدرتی آفت سے 300 افراد جانوںسے ہاتھ دھو بیٹھے۔

گوگل نے پاکستان، افغانستان اور ہندوستان میں زلزلے کے پیش نظر ایک سروس متعارف کروائی ہے جس کے ذریعے متاثرین کو ریسکیو کرنے میں مدد ملے گی گوگل نے ‘پرسن فائنڈر’ کے نام سے سروس متعارف کروائی ہے جس سے گمشدہ افراد کے اہلخانہ کو انہیں ڈھونڈنے میں مدد مل سکتی ہے کمپنی نے اس سروس کا آغاز پہلی مرتبہ 2010 میں کیا تھا تاہم جنوبی ایشیا میں اسے پہلی مرتبہ استعمال کی جارہا ہے۔یہ سروس اسی طرح کام کرتی ہے جیسا فیس بک کی ایک سروس نے نیپال کے زلزلے کے دوران کردار ادا کیا تھا جس میں متاثرہ افراد سے پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ محفوظ ہیں اور جواب موصول ہونے پر یہ پیغام ان کے پیاروں تک پہنچا دیا جاتا تھا۔اس سے قبل کہ ہم پاکستان میں زلزلوں کی تباہیوں پر ایک نظر ڈالیں آئیے دیکھتے ہیں کہ دنیا میں زلزلے کب اور کہاں سے شروع ہوئیتاریخ کا قدیم ترین زلزلہ کب اور کہاں آیا، یہ تو وثوق سے نہیں کہا جاسکتا

البتہ وہ پہلا زلزلہ جو انسان نے اپنی تحریر میں ریکارڈ کیا تقریبا تین ہزار برس قبل 1177 قبل مسیح میں چین میں آیا تھا۔ اس کے بعد قدیم ترین ریکارڈ 580 قبل مسیح میں یورپ اور 464 قبل مسیح میں یونان کے شہر اسپارٹا کے زلزلے کا ملتا ہے۔ مورخین کا خیال ہے یہ زلزلہ اسپارٹا اور ایتھنس کے درمیان لڑی جانے والی پولینیشین جنگ کے دور میں آیا تھا۔پورے شہر کو ملیا میٹ کردینے والا زلزلہ 226 قبل مسیح یونان کے جزیرے رہوڈس میں آیا تھا۔ جس نے یہاں کے شہر کیمر یوس کو نیست و نابود کردیا اور ساتھ ہی اس شہر کے ساحل پر نصب عظیم الشان مجسمہ ہیلوس بھی تباہ ہوگیا جس کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتا ہے۔63 عیسوی میں اٹلی کے شہر پومپائی میں زبردست زلزلہ آیا جس سے اس کی تمام عمارتیں خاک میں مل گئیں۔ پھر اس شہر کی ازسِر نو تعمیر میں 16 سال لگ گئے مگر 24 اگست، 79یہاں دوبارہ زلزلہ آیا اور اس شہر کے پہاڑ کوہ وسیوس کا آتش فشاں پھٹ پڑا چنانچہ پومپائی اور ہرکولینم شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق تقریبا 25 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔365میں یونان کے جزیرہ کریٹ میں زلزلہ آیا جس سے اس کا شہر کنوسس کل 50 ہزار نفوس کے ساتھ برباد ہوگیا۔ اس زلزلے کی شدت کا اندازہ 8.1 میگنیٹیوڈ لگایا گیا ہے۔ تاریخ میں اسی سال لیبیا کے شہر سیرین Cyrene میں بھی ایک زلزلہ کا تذکرہ ملتا ہے۔20 مئی، 526 کو شام کے شہر انطاکیہ Antiochia میں خوفناک زلزلے سے ڈھائی لاکھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ 844 میں دمشق شہر میں شدید زلزلہ آیا جس سے تقریبا 50 ہزار جانیں ضائع ہوئیں، ماہرین کا خیال ہے کہ ریکٹر اسکیل کے مطابق اس کی شدت 6.5 رہی ہوگی۔ 847 میں دمشق میں دوبارہ زلزلہ آیا۔ 70 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور تقریبا نصف شہر تباہ ہوگیا، سائنسدن اس زلزلہ کی شدت 7.3 میگنیٹیوڈ سے زیادہ بتاتے ہیں۔

اسی سال عراق کے شہر موصل میں بھی زلزلہ آیا جس سے 50 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ 22 دسمبر، 856کو ایران میں زلزلے سے تباہی ہوئی جس سے دمغان اور قومیس شہر کو نقصان پہنچا اور کل دو لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی سال یونان کے شہر کورنتھ میں بھی زلزلے سے 45 ہزار جانیں ضائع ہوئیں۔893 میں تاریخ کے تین بڑے زلزلے آئے۔ ایک کائوکاسس Caucasus شہر میں جس سے 84 ہزار نفوس ہلاک ہوئے،دوسرا ایران کے شہر ارادبِل میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ جانیں ضائع ہوئیں اور تیسرا زلزلہ ہندوستان میں وادی سندھ کے قدیم شہر دے پور Daipur یعنی دیبل میں آیا اور تقریبا ایک لاکھ اسی ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تاریخ ابن کثیر میں تحریر ہے کہ اس وقت سندھ پر عبداللہ بن عمر ہباری کی حکومت تھی جو خلیفہ بغداد معتضد باللہ کی جانب سے مقرر کردہ تھے۔ یہ زلزلہ 14 شوال 280 ہجری میں برپا ہوا اور اس دوران چاند گرہن اور تیز آندھی کے آثار بھی روایتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ ابن کثیر کے مطابق نصف شب یکے بعد دیگرے پانچ زلزلے آئے اور بمشکل سو مکان ہی سلامت رہ سکے۔ طبری اور ابن کثیر نے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار بتائی ہے۔گیارہویں صدی عیسوی کے دوران 1036 میں چین کے شہر شانکسی میں زلزلہ سے 23 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1042 میں شام میں تبریز، پالرا اور بعلبک کے مقام پر زلزلے سے 50 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے اور تبریز شہر کی نصف آبادی ختم ہوگئی۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ زلزلہ 7.3 میگنیٹیوڈ کی شدت کا رہا ہوگا۔ 1057 میں چین کے شہر چیہلی Chihli میں 25 ہزار افراد زلزلے کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔بارہویں صدی عیسوی کے سال 1138 میں شام میں گنزہ Ganzah اور الیپو Aleppo کے مقام پر خوفناک زلزلہ آیا اور تقریبا 2 لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے، اس کی شدت کا اندازہ ریکٹر اسکیل پر 8.1 میگنیٹیوڈ کے برابر لگایا گیا ہے۔

1156 اور 1157 کے دوران بھی شام میں زبردست زلزلے سے تیرہ شہر برباد ہوگئے۔ 1169میں شام میں شدید زلزلہ آیا اور کل 80 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ 1170 میں سسلی میں زلزلے سے 15 ہزار افراد موت کا شکار ہوئے۔تیرہویں صدی عیسوی میں 5 جولائی 1201کے دوران بالائی مصر اور شام میں تاریخ کا بدترین زلزلہ برپا ہوا جس میں کل گیارہ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ 1268میں ترکی کے شہر اناطولیہ اور سلسیہ Cilcia میں زلزلے سے 60 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ 27 ستمبر 1290چیہلی(چین) میں 6.7 میگنیٹیوڈ کا زلزلہ آیا جس سے ایک لاکھ انسانوں کی اموات ہوئیں۔ اس کے تین سال بعد 20 مئی 1293میں جاپان کے شہر کاماکورا میں آنے والے زلزلہ سے تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ چودھویں اور سترھویں صدی کے دوران 6 بڑے زلزلے آئے۔ 18 اکتوبر 1356میں سوئٹرزلینڈ کے علاقے باسِل میں زلزلے سے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی تاریخ کا سب سے قدیم ترین زلزلہ 1471میں پیرو میں آیا تھا۔ مگر اس کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ 26 جنوری1531میں پرتگال کے علاقے لِسبن میں زلزلے سے تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تاریخ کا دوسرا بڑا زلزلہ 23 جنوری 1556کو شانکسی (چین) میں آیا، جس سے 8 لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ نومبر 1667میں شماکھاآذربائیجان80ہزار افراد زلزلے سے جاں بحق ہوئے۔ 17 اگست 1668میں اناطولیہ ترکی میں زلزلے سے 8 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔اٹھارہویں صدی میں تقریبا 13 بڑے زلزلے آئے۔ 26 جنوری 1700میں امریکہ کی پلیٹ کاسکاڈیا میں حرکت کی وجہ سے زلزلہ آیا جس کا اثر نارتھ کیلیفورنیا سے وان کودر آئی لینڈ تک پہنچا۔

یہ زلزلہ 9 میگنیٹیوڈ کا تھا۔ 1703میں جاپان کے شہر جے ڈو Jeddo میں زلزلہ سے ایک لاکھ 90 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1707میں جاپان میں زیرِسمندر زلزلہ سونامی آیا جس سے تیس ہزار افراد کی اموات ہوئیں۔ 30 ستمبر 1730کو جاپان کے ہوکائیڈو آئی لینڈ کے ایک لاکھ 37 ہزار افراد زلزلہ کی زد میں آئے اور اگلے سال چین کے شہر بیجنگ میں زلزلے سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ 11 اکتوبر 1737میں کلکتہ شہر میں خوفناک زلزلہ سے 3 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے پانچ دن بعد ہی کمچاٹکا(روس) میں 9.3 میگنیٹیوڈ کا زلزلہ آیا۔ 7 جون 1755کو شمالی ایران میں زلزلے سے 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے ایک ہفتے بعد 18 نومبر کو بوسٹن میساچوسٹس میں بھی زلزلہ آیا تھا مگر خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 28 فروری 1780میں ایران میں زلزلہ سے دو لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔ فروری 3 مارچ 1783میں اٹلی کے شہر کلبریا Calabria میں زلزلے سے 35ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ 4 فروری 1797میں ایکواڈور اور پیرو میں زلزلے سے 41 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ایک ہفتہ بعد 10 فروری کو ایسٹ انڈیز(موجودہ انڈونیشیا) کے صوبہ سماٹرا میں زلزلہ آیا جس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 300 تھی، اس زلزلے کی شدت 8.4 میگنیٹیوڈ تھی۔انیسویں صدی میں دسمبر 1812کے دوران کیلیفورنیا میں ریکٹر اسکیل پر 7.0 کی شدت کے زلزلے سے 40 افراد کی اموات ہوئی۔ 23 جنوری 1855میں نیوزی لینڈ میں زلزلے سے 4 افراد اور 4 جنوری 1857میں کیلیفورنیا میں ایک فرد ہلاک ہوا۔ اسی سال اٹلی میں زلزلہ سے 11 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ 1868میں ہوائی (امریکہ) میں زلزلے سے 77 اور کیلیفورنیا میں 30 افراد ہلاک ہوئے۔ 1872کیلیفورنیا(امریکہ) میں 27، 1888کیلیفورنیا(امریکہ) میں 60 اور 1892کیلیفورنیا میں ایک فرد ہلاک ہوا۔ اس کے علاوہ جاپان کے علاقے مینو۔اوواری Mino-Owari میں 1891کے دوران زلزلے سے 7273 افراد ہلاک ہوئے اور آسام(انڈیا) میں 1897میں زلزلہ سے ڈیڑھ ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی صدی میں امریکہ میں 17 مزید زلزلے بھی آئے جن کی شدت کا اندازہ ماہرین نے 6 سے 8 میگنیٹیوڈ کے درمیان لگایا ہے اور ایسٹ انڈیز(انڈونیشیا) میں 2 زلزلے آئے مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

برصغیر میں بھی اس صدی کے دوران 5 بڑے زلزلے آئے۔ 1819میں پنجاب اور کچھ Kutch کے مقام پر 32 ہزار افراد زلزلے کا شکار ہوئے۔ 1838میں نیپال میں زلزلہ آیا جس سے 2 ہزار اموات ہوئیں۔ کشمیر میں 1885میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے اور آسام میں ڈھائی ہزار افراد 1897میں لقمہ اجل بنے۔ 1827میں لاہور میں زلزلے سے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1827سے 1931تک بلوچستان میں 9 زلزلے آئے لیکن ان کی تفصیل نہیں ملتی۔بیسویں صدی کا پہلا بڑا زلزلہ ہمالیہ پٹی پر کانگڑہ کے مقام پر آیا جس میں 20 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ 1906میں 3 زلزلے آئے جس میں کولمبیا اور ایکواڈور کے ایک ہزار، سان فرانسسکو کے تین ہزار اور چلی میں 20 ہزار افراد کی جانیں گئیں۔ 1908میں تاریخ کے بدترین زلزلوں میں سے ایک زلزلہ اٹلی میں آیا تھا جس میں ایک لاکھ 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں 1918میں پورٹوریکو(براعظم امریکہ) میں 116 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ 1920میں تاریخ کا نواں بڑا زلزلہ آیا جس میں چین کے علاقے ننگشیر اور گنسو کے 2 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔ اس زلزلے کی شدت 8.6 میگنیٹیوڈ تھی۔ 1923میں جاپان میں زلزلے سے ایک لاکھ 43 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1927میں کیلیفورنیا میں زلزلے سے صرف 13 اموات ہوئیں۔ مگر 1927میں دو بڑے زلزلے بھی آئے جس سے جاپان کے 3 ہزار اور چین کے دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔1931میں نیوزی لینڈ میں زلزلے سے 258 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں۔ 1932اور 1933کا سال دوبارہ چین و جاپان کے لئے برا ثابت ہوا جس میں دو زلزلوں سے چین کے 70 ہزار اور جاپان کے تقریبا 3 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 1933میں ہی کیلیفورنیا میں معمولی شدت کے زلزلے سے 115 افراد موت کا شکار ہوئے۔ 1934میں ہندوستان کے صوبہ بہار میں زلزلے سے 13 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ 1935میں تائیوان میں زلزلے سے 3279 افراد ہلاک ہوئے۔ 1935میں پاکستان کے شہر کوئٹہ میں تباہ کن زلزلہ آیا، جس سے کوئٹہ شہر بری طرح تباہ ہوگیا۔ یہ زلزلہ 7.8 میگنیٹیوڈ کی شدت کا تھا، جس سے مستونگ، لورالائی، قلات، پشین اور چمن کے علاقے بھی متاثر ہوئے تھے۔

زلزلہ کا مرکز چمن فالٹ کا مقام تھا۔ اس زلزلے نے 30 سیکنڈ میں پورے شہر کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا۔ اس زلزلے سے ہونے والی اموات کی تعداد اندازا 60 ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ 1939میں ترکی میں زلزلے سے 32 ہزار 7 سو افراد کی جانیں گئیں۔1940میں کیلیفورنیا میں غیرمعمولی یعنی 7.1 شدت کے زلزلے سے صرف 9 افراد ہلاک ہوئے۔ 1944میں جاپان میں زلزلہ آیا جس سے 1223 افراد کی ہلاکتیں نوٹ ہوئیں۔ اس زلزلے کا اندازہ ریکٹر اسکیل پر 8.1 لگایا گیا ہے۔ 1945میں مکران کے ساحلی علاقوں میں سمندری زلزلہ سونامی آیا جس کے باعث اٹھنے والی سمندری لہریں کراچی، ممبئی اور کچھ تک گئیں۔ مغربی محقق سینچ رے کی کتاب ورلڈ میپ آف نیچرل ہیزرڈ کے مطابق اس سونامی سے کل 4 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1946میں تین زلزلے الآسکا، ڈومنین اور جاپان میں آئے جس سے تقریبا 1600 افراد ہلاک ہوئے۔ 1949میں واشنگٹن میں زلزلے سے صرف 8 افراد موت کا شکار بنے۔ 1950میں امریکہ، یونان اور منگولیہ میں معمولی شدت کے 6 زلزلے آئے۔ جس میں یونان کے 476، امریکہ کے 46 اور منگولیہ کے 30 افراد ہلاک ہوئے۔1960کے دوران مراکش میں زلزلے سے 10 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ اسی سال چلی میں بھی زلزلے سے 5700 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں۔1964میں الآسکا(امریکہ) میں 9.2 شدت کا زلزلہ آیا لیکن صرف 125 افراد ہلاک ہوئے۔ جاپان میں اسی سال زلزلے سے 26 افراد ہلاک ہوئے۔ 1967میں واشنگٹن میں زلزلے سے 7 افراد کی جانیں گئیں۔ اسی سال ہندوستان کے علاقے کویانا میں زلزلے سے 900 افراد ہلاک ہوئے۔ 1969میں کیلیفورنیا میں زلزلے سے ایک فرد کی جان ضائع ہوئی۔ 1970میں پیرو(امریکہ) میں زلزلے سے 66 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اسی سال بھڑوچ(انڈیا) کے مقام پر زلزلے میں 900 افراد جاں بحق ہوئے۔

1971میں کیلیفورنیا میں زلزلے سے 65 افراد ہلاک ہوئے۔ 1974میں پاکستان کے علاقے مالا کنڈ اور پتن میں زلزلے سے کل 6 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1975میں چین کے علاقے ہائی چنگ میں زلزلے سے 10 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اسی سال جزیرہ ہوائی میں اس سے زیادہ شدت کے زلزلے نے صرف 2 افراد کی جانیں لی۔ 1976میں گوئٹے مالا میں زلزلے سے 23 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی سال تانگ شان(چین) میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے اندازا 6 لاکھ 55 ہزار افراد ہلاک ہوئے، یہ تاریخ کا تیسرا بڑا زلزلہ تھا۔ 1977کے دوران رومانیہ میں زلزلے سے پندرہ سو افراد لقمہاجل بنے۔1980میں نیپال میں زلزلے سے 1500 افراد ہلاک ہوئے۔1981میں گلگت میں زلزلے سے 220 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں۔ 1983میں امریکہ کے علاقہ رہیو میں 2 افراد زلزلے سے جاں بحق ہوئے۔ اسی سال پاکستان کے شمالی علاقے میں زلزلے سے 14 افراد ہلاک ہوئے۔ 1984میں بھارت کے علاقے کاچھر میں زلزلے سے 500 افراد ہلاک ہوئے اور 1985میں پاکستان میں سوات و چترال میں زلزلے سے 5 اموات ہوئیں۔ 1985میں میکسیکو (امریکہ) میں زلزلے سے 9 ہزار 5 سو افراد ہلاک ہوئے۔ 1987میں کیلیفورنیا میں 8 افراد زلزلے سے جاںبحق ہوئے۔ 1988میں آرمینیا(ترکی) میں 25 ہزار افراد زلزلے کے باعث ہلاک ہوئے۔ 1989میں کیلیفورنیا میں زلزلے سے 63 افراد کی جانیں گئیں۔ 1990میں ایران میں زبردست زلزلہ آیا جس سے 35 ہزار(بعض اندازوں کے مطابق 50 ہزار) افراد ہلاک ہوئے۔ 1991میں ہندوکش سے افغانستان تک زلزلے میں 500 افراد ہلاک ہوئے، اسی سال بھارت کے علاقے اترکاشی (بنارس) میں زلزلے سے 3 ہزار جانیں ضائع ہوئیں اور کیلیفورنیا میں آنے والے زلزلے سے 3 افراد لقمہ اجل بنے۔ 1993میں بھارت میں لاٹر کے مقام پر زلزلے سے 9748 افراد ہلاک ہوئے۔ 1994میں کیلیفورنیا میں زلزلے سے 60 افراد لقمہ اجل بنے۔ ایک زلزلہ بولویہ میں بھی آیا اور 5 افراد ہلاک ہوئے۔ 1995میں جاپان کے علاقے کوبے میں آنے والے زلزلہ سے 5582 افراد ہلاک ہوئے۔

1997میں بھارت کے علاقے جے پور اور جبل پور میں زلزلہ آیا۔ اسی سال پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بھی زلزلہ آیا اور ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد تقریبا ایک ہزار تھی۔ 1998میں نیوگینیا میں زلزلہ سے 2183 افراد لقمہ اجل بنے۔ 1999میں 4 بڑے زلزلے آئے، جس میں کولمبیا کے 1185، ترکی کے 17118، تائیوان کے 2400 اور ترکی ہی کے 895 افراد ہلاک ہوئے۔ 1999ہی میں بھارت کے علاقے چمولی میں زلزلے سے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔26 جنوری 2001میں بھارت کے علاقے گجرات میں زبردست قسم کا زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.7 تھی۔ اس زلزلے کی شدت پاکستان میں بھی محسوس کی گئی۔ اس زلزلے سے بھارت کے 25 ہزار اور پاکستان کے کل 20 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی سال پیرو میں زلزلے سے 75 افراد جاںبحق ہوئے۔ 2002میں افغانستان میں زلزلے سے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اسی سال الجیریا میں بھی زلزلہ آیا تھا جس سے 2266 اموات ہوئیں۔ 2002میں پاکستان کے شہر گلگت میں 3 زلزلے آئے جس سے کل 41 افراد ہلاک ہوئے۔ 2003میں کیلیفورنیا میں آنے والے زلزلے سے 2 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی سال ایران میں زلزلے سے 31 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ 2004میں جاپان، تیمور(انڈونیشیا)، ڈومینکا اور کوسٹاریکا (امریکہ) میں معمولی شدت کے زلزلے آئے جس سے کل 61 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی سال مراکش میں بھی زلزلے سے 500 افراد ہلاک ہوئے۔

2004میں سب سے بڑی تباہی 26 دسمبر کو انڈونیشیا کی ریاست سماٹرا میں زیرِ سمندر زلزلے سونامی سے آئی۔ جس سے اٹھنے والی لہریں انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، بھارت، تھائی لینڈ، سری لنکا، مینمار (برما)، مالدیپ، صومالیہ، کینیا، تنزانیہ، سیشلز(مدغاسکر) اور جنوبی افریقہ تک گئیں۔ اس تباہی سے ہونے والی اموات 5 لاکھ سے زائد ہیں جبکہ سرکاری طور پر ہلاکتوں کا اندازہ 2 لاکھ 83 ہزار ایک سو چھ لگایا گیا ہے۔ 2005میں انڈونیشا میں زلزلے سے 1313افراد ہلاک ہوئے۔ اسی سال ایران میں بھی زلزلہ آیا جس میں 790 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ جاپان میں ایک اور چلی میں گیارہ افراد اسی سال زلزلے سے جاں بحق ہوئے۔قدرتی آفات سے دنیا میں ہمیشہ ہولناک تباہی آتی رہی ہے جس سے لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنتے رہے ہیں لیکن ان آفات میں خوفناک زلزلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی نے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیں اور چند لمحوں میں لاکھوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور شاید ہی دنیا کا کوئی خطہ اس تباہی سے متاثر ہوئے بغیر رہا ہوگا۔2008 چین میں: 12 مئی کو آنے والے اس ہلاکت خیز زلزلے میں 85 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جب کہ اس زلزلے نے بنگلا دیش، تائیوان، تھائی لیند اور ویتنام کو بھی متاثر کیا۔2010 ہیٹی میں: 12 جنوری 2010 میں ہیٹی میں آنے والا زلزلہ ہلاکتوں کے لحاظ سے دنیا کا خوفناک ترین زلزلہ ہے جس کی شدت 7 تھی جبکہ اس میں 3 لاکھ 16 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد گھروں سے محروم ہوگئے 8 اکتوبر 2005کو اب تک کا شدید ترین زلزلہ پاکستان کے شمالی علاقے میں آیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.6 تھی۔ اس زلزلے سے کشمیر، اسلام آباد، بالاکوٹ، مانسہرہ، ہزارہ سمیت بہت سے چھوٹے بڑے دیہاتوں اور قصبے صفحہ ہستی سے مٹ گئے پاکستان کے شمالی علاقہ سمیت افغانستان اور ہندوستان میں 26 اکتوبر کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے

امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 تھی جس سے ملک کے کئی شہر لرز اٹھے، جبکہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 8.1 تھی اس زلزلے سے ملک کے کئی شہر لرز اٹھے، جبکہ اس کا مرکز کوہ ہندوکش تھا تاہم بعض خبروں میں اس کا مرکزافغانستان میں 212.5 کلو میٹر زیر زمین بتایا جارہا ہے اگر موجودہ شدت کے ساتھ یہ بالاکوٹ کی گہرائی یعنی 91 کلومیٹر گہرائی سے آتا تو اس سے بڑی تباہی ہوتی آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے کو گزرے ہوئے دس سال ہی گزرے کہ26 اکتوبر کو ایک بار پھر زلزلے نے تباہی مچادی ماضی میں دیکھیں تو پاکستان میں زلزلے اور اس سے جانی و مالی نقصانات کوئی نئی بات نہیں پاکستان کے متعدد علاقے سیسمک زون پر واقع ہیں جس کے سبب پاکستان زلزلوں کی زد میں آتا رہتا ہے پاکستان کے وجود سے قبل کوئٹہ تباہ کن زلزلے کی لپیٹ میں آیاپاکستان بننے سے قبل تیس مئی انیس سو پینتیس میں کوئٹہ میں زلزلے سے تیس ہزا ر سے زائد افراد ہلاک ہوئے جس کی شدت سات اعشاریہ پانچ ریکارڈ کی گئی تھی انیس سو باسٹھ میں کوئٹہ ، ہرنائی، قلات، مستونگ، پشین اور چمن میں زلزلے سے دو سو افراد لقمہ اجل بنے۔ انیس سو اٹھانوے میں زلزلے نے بلوچستان کے ایک سو تیس سے زائد شہریوں کی جان لے لی۔ زلزلے اپنے پیچھے تباہی کی کئی داستانیں چھوڑ جاتا ہے آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو اسلام آباد ،آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں زلزلہ آیاجسمیں اسی ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں زخمی ہوئے۔ انتیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کو قیامت خیز زلزلے نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کا رخ کیا۔ کوئٹہ قلعہ عبداللہ، پشین، لورالائی، ہرنائی، زیارت، سبی، مستونگ سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے سے ایک سو سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سینکڑوں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے جبکہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ پانچ ریکارڈ کی گئی تھیپاکستان میں ماہرین ارضیات نے متنبہ کیا ہے کہ زیر زمین قدرتی تبدیلیوں کے باعث ملک کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں طاقتور زلزلوں کے امکانات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ممکنہ زلزلوں سے متعلق اس دعوے کی بنیاد وہ تازہ ترین اعداد و شمار ہیں جو زمین پر کسی شے کے مقام کی درست نشاندہی کے لیے استعمال ہونے والے جی پی ایس آلات جیسی جدید ٹیکنالوجی سے حاصل کیے گئے ہیں۔پاکستان میں اعلی تعلیم کے تین بڑے اداروں کی سرپرستی میں ہونے والی جدید تحقیق میں شامل بلوچستان یونیورسٹی کے ماہر ارضیات پروفیسر دین محمد کاکڑ نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اس خطے میں چٹانوں کے ٹکرا اور دبا میں اضافے کی وجہ سے کوئٹہ میں 7.5 شدت تک کا زلزلہ آ سکتا ہے۔ اس فالٹ(زیرِ زمین دراڑ) پر مسلسل حرکت ہو رہی ہے۔ اب تک 77 سال ہو چکے ہیں (سال 1935 کے) زلزلے کو، تو اس فالٹ پر خاصی انرجی جمع ہو چکی ہے اور جتنی تاخیر ہوتی جائے گی(ممکنہ)زلزلے کی شدت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا۔پاکستان جو زلزلے آئے اس کی تاریخ ہمیں کچھ یوں ملتی ہے ۔تین ستمبر 1971 کو راولپنڈی میں دو منٹ کے وقفے کے دوران سات زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم اس کے نتیجے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔چار ستمبر 1971 کو ایبٹ آباد میں چھ مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔دس ستمبر 1971کو گلگت کے کچھ علاقوں میں شدید زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد مکانات تباہ ہو گئے تھے۔

یکم اکتوبر 1971 کو راولپنڈی میں درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا تاہم اس میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔دو اکتوبر 1971 کو ایبٹ آباد اور ہزارہ کے چند حصوں میں زلزلے کے پانچ جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اٹھائیس دسمبر 1971 کو پشاور اور راولپنڈی میں شدید نوعیت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔یکم جنوری 1972 کو اسلام آباد، راولپنڈی، ایبٹ آباد، لاہور اور ملحقہ علاقوں میں اٹھارہ سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور اس کے بعد، سیالکوٹ میں بھی پچاس سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔چھ مئی 1972 کو راولپنڈی، اسلام آباد، ایبٹ آباد اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے کئی سیکنڈز تک محسوس کیے گئے جس کے بعد لوگ عمارتوں سے باہر آ گئے تھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اسی طرح تیرہ مئی 1973 کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اٹھارہ مئی 1974 کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے ایبٹ آباد میں محسوس کئے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔تیس جون 1974 کو پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک انتہائی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور اس کے نتیجے میں چار ہلاک اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔اٹھائیس دسمبر، 1974 کو ریکٹر اسکیل پر 7.4 کی شدت کے زلزلے سے ہزارہ، ہنزہ، سوات اور خیبر پختونخواہ میں پانچ ہزار تین ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ سترہ ہزار افراد زخمی اور چار ہزار چار سو مکانات بھی تباہ ہو گئے تھے۔

ستائیس جنوری، 1975 کو مری بگٹی میں بھی ایک درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کا مرکز کوئٹہ سے ایک سو چالیس کلومیٹر جنوب میں کوہ سلیمان میں تھا۔ تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔بیس اکتوبر 1975 میں کوئٹہ میں ایک انتہائی شدید زلزلہ آیا تھا تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔سولہ جنوری 1978 کو پشاور میں ایک درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کا مرکز پشاور سے تین سو کلومیٹر شمال میں کوہ ہندوکش میں تھا۔ اس زلزلے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اکتیس مئی، 1995 کو نصیر آباد ڈویژن کے بگٹی پہاڑوں کے دامنی علاقوں میں آنے والے 5.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک درجن مکانات تباہ اور تین بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔اٹھائیس فروری، 1997 کو ریکٹر اسکیل پر 7.2 کی شدت کا زلزلہ پورے پاکستان میں محسوس کیا گیا جبکہ اس کا دورانیہ تیس سے نوے سیکنڈز تک تھا۔ پاکستان کے تقریبا تمام علاقوں میں محسوس کیے جانے والے اس زلزلے کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔بیس مارچ، 1997 کو ریکٹر اسکیل پر 4.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں باجوڑ کے قبائلی علاقے کے گاں سلارزئی میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔چھبیس جنوری، 2001 کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں صوبہ سندھ میں پندرہ افراد ہلاک جبکہ ایک سو آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.5 نوٹ کی گئی تھی۔تین اکتوبر، 2002 کو ریکٹر اسکیل پر 5.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں تیس افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔چودہ فروری، 2004 کو ریکٹر اسکیل پر 5.7 اور 5.5 کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے تھے۔

آٹھ اکتوبر، 2005 کو ریکٹر اسکیل پر 7.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی۔ زلزلے کے نتیجے میں اسی ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت، دو لاکھ سے زائد افراد زخمی اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ زلزلے کے بعد آنے والے 978 آفٹرشاکس کا سلسلہ ستائیس اکتوبر تک جاری رہا تھا۔اٹھائیس اکتوبر، 2008 کو ریکٹر اسکیل پر 6.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک جبکہ تین سو ستر افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کئی عمارتیں بھی تباہ ہوئی تھیں۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے ساٹھ کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔اٹھارہ جنوری، 2010 کو 7.4 کی شدت سے والا زلزلہ کراچی میں محسوس کیا گیا، جس کا دورانیہ تقریبا ایک منٹ تھا۔ اس زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچپن کلومیٹر مغرب میں تھا تاہم اس سے کسی بڑے نقصان کی اطلاعات نہیں ملی تھی۔اٹھائیس اکتوبر، 2010 کو خیبر پختونخواہ، پنجاب، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔اٹھارہ جنوری، 2011 کے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کئی افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زائد عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.2 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچاس کلومیٹر مغرب میں تھا۔بیس جنوری، 2011 کو 7.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز بلوچستان کا ضلع خاران میں تھا۔ اس کے نتیجے میں دو سو سے زائد مکانات تباہ ہوئے تھے۔

بائیس جنوری، 2011 کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کا مرکز اسلام آباد سے ایک سو اٹھاسی کلومیٹر شمال میں ضلع فیض آباد تھا، لیکن اس کے نتیجے میں بھی کسی فوری جانی نقصان کی اطلاعات نہیں تھیں۔تین اپریل، 2011 کو سات گھنٹوں کے وقفے کے دوران کراچی میں 2.8 اور 4.7 شدت کے دو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم ان سے بھی کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔نیس جنوری، 2012 کو ریکٹر اسکیل پر 4.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور متاثرہ علاقوں کوئٹہ، زیارت، خانوزئی، پشین، ہرنائی، قلعہ عبدللہ اور ٹوبہ اچکزئی شامل تھے۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے نوے کلومیٹر جنوب میں ضلع زیارت کا علاقہ ٹوبہ اچکزئی تھا، تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

انیس جنوری، 2012 کو ریکٹر اسکیل پر 4.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور متاثرہ علاقوں کوئٹہ، زیارت، خانوزئی، پشین، ہرنائی، قلعہ عبدللہ اور ٹوبہ اچکزئی شامل تھے۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے نوے کلومیٹر جنوب میں ضلع زیارت کا علاقہ ٹوبہ اچکزئی تھا، تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔بارہ مئی، 2012 کو کوئٹہ کے علاقے سہراب میں درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پچیس مئی، 2012 کو ایک درمیانی شدت کا زلزلہ کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیا گیا تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔بارہ جولائی، 2012 کو 6.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، روالپندہ اور پنجاب میں محسوس کیے گئے اور اس کا مرکز بھی کوہ ہندوکش میں تقریبا 194 کلومیٹر زیرزمین تھا اور اس کے نتیجے میں نقصانات کا اطلاع نہیں۔اٹھارہ جولائی، 2012 کو 5.7 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے ملک کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز محکمہ موسمیات کے مطابق کوہ ہندوکش تھا تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

انتیس دسمبر، 2012 کو افغانستان کے ہندوکش علاقے میں 5.8 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے پاکستان کے بھی کچھ حصوں میں محسوس کیے گئے، تاہم اس کے نتیجے میں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصانات کی اطلاع نہیں۔سترہ فروری، 2013 کو 5.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول فاٹا کو ہلا دیا تھا، جن میں نوشہرہ، پشاور، ملاکنڈ، شانگلہ، گلگت بلتستان کے مختلف علاقے، لوئر دیر اور خیبر کے قبائلی علاقے شامل ہیں۔ اس زلزلے میں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔چار اپریل، 2013 کو پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول فاٹا کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، ریکٹر اسکیل پر ان جھٹکوں کی شدت 5.4 ریکارڈ کی گئی تھی۔

مذکورہ زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔کوئٹہ میں سولہ اپریل 2013 کو ریکٹر اسکیل پر 7.9 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے پاکستان، ایران، ہندوستان اور چند خلیجی ملکوں میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔ اس زلزلے کا مرکز پاک ایران سرحد کے قریب واقع ایران میں سروان کا علاقہ تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں چونتیس افراد کی ہلاکت جبکہ اسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ دوسری جانب ایک لاکھ کے قریب مکانات زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہوئے تھے۔چوبیس ستمبر، 2013 کو بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک 328 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ زلزلے سے جنوب مغربی صوبے میں ہزروں گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔قدرتی آفات کب کہاں اور کیسے آتے ہیں کسی کو معلوم نہیں اب تک سائنس بھی اس کی درست پیشگی اطلاع دینے میں ناکام رہی یہ آفات تباہی و بربادی لے کر آتی ہیں لیکن احتیاتی تدابیر سے اس کے اس کے نقصانات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔

SULTAN HUSSAIN

SULTAN HUSSAIN

تحریر : سلطان حسین