counter easy hit

ڈاکٹر یا قاتل

Doctors Or Killer

Doctors Or Killer

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
لاہور کے معروف سرکاری ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ مریضوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ زخمیوں اور بیماروں کی چیخ و پکار نے ماحول کو بہت درد ناک اور سوگوار بنایا ہوا تھا۔ وارڈ مریضوں سے بھرچکا تھا لیکن نئے مریض تواتر سے آئے جارہے تھے بعض بستروں پر دو دو مریض لیٹے ہوئے تھے، کچھ زمین پر کچھ کرسیوں پر بھی آہ بکا کر رہے تھے، نوجوان ڈاکٹروں کی تعداد بہت تھوڑی تھی جبکہ مریض بہت زیادہ تھے۔ میں بھی گائوں سے آئے ہوئے اپنے دوست کے والد صاحب کے ساتھ ایمرجنسی وارڈ میں آیا ہوا تھا میرے دوست کا باپ عارضہ جگر میں مبتلا تھا جو اَب آخری اور لاعلاج مرحلے میں داخل ہو چکا تھا مریض کے پیٹ میں پانی بھر چکا تھا اور اُس نے پچھلے تین دن سے کچھ بھی نہیں کھا یا تھا۔

مریض نیم بے ہوشی کی کیفیت میں تھا مقامی ڈاکٹروں نے جب جواب دے دیا تو وہ مریض کو لے کر یہاں آگئے ‘میں نے دو تین ڈاکٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے میری بات نہ سنی تو میں مدد کے لیے ایمر جنسی انچارج ڈاکٹر کے کمرے میں گھس گیا۔ اندر کے منظر کے لیے میں بلکل تیار نہ تھا، اندر نوجوان ڈاکٹر صاحب اپنے سامنے دو نرسوں کو بیٹھائے خوش گپیوں میں مصروف نظر آیا۔ میری آمد اُنہیں بہت زیادہ ناگوار گذری، میرے آنے کے بعد اُن کے گپ شپ سیشن میں تعطل ہوگیا، میری موجودگی اُن کو بہت ناگوار محسوس ہو رہی تھی۔ اب ڈاکٹر صاحب نے جان بوجھ کر مجھے نظرانداز کرنے کا طریقہ یہ ڈھونڈا کہ اپنے ٹچ موبائل پر کسی کو Message کرنا شروع کر دیے میں نے جرات کر کے بولنے کی کو شش کی تو ڈاکٹر صاحب نے اشارے سے مجھے روک دیا کچھ دیر تک وہ اِسی شغل میں مصروف رہے۔

Doctor

Doctor

جب ڈاکٹر صاحب نے دیکھا کہ میں بھی ڈھیٹ ہوں تو ایک نظر میری طرف دیکھا اور اشارے سے پوچھا’ کیا بات ہے تو میں نے درخواست کی کہ میرے مریض نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا پیٹ میں پانی بھر چکا ہے تو ڈاکٹر صاحب نے غصے سے میری طرف دیکھا اور بولا جناب اگر مریض نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا تو وہ زندہ کس طرح ہے یہ بات کر کے وہ پھر اپنے موبائل کے بٹنوں سے کھیلنے لگا، میں نے پھر مہذب لہجے میں درخواست کی کہ ہمارے مریض کو دیکھ لیا جائے، میرے بار بار کہنے پر ڈاکٹر صاحب نے اپنے اٹینڈنٹ (Attendant) سے کہا کہ اِن کو ایمر جنسی وارڈ لے جائو۔اب Peon نے غصے سے میری طرف دیکھا اور غصے سے پھنکار تے ہوئے مجھے اشارہ کیا کہ میں اُس کے پیچھے آئوں، اب میں اُس کے پیچھے چل پڑا اُس نے دور سے اشارہ کیا کہ وہ ایمرجنسی وارڈ ہے اور واپس بھاگ گیا۔

میں پھر بے یارو مدد گار بے چارگی اور لاچارگی کے آخری درجے پر تھا مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اِس عوام کُش نظام میں زندہ رہنے کے لیے کسی طاقتور آدمی کی دوستی یا غلامی کیوں ضروری ہے، لہٰذا مجبور ہو کر میں نے ایک دو فون کئے اﷲ نے مدد کی اور بااثر دوست سے رابطہ ہوگیا۔ میرے دوست نے مجھے کہا آپ اِسی جگہ پر انتظار کریں انہوںنے میرا نمبر کسی کو دیا اور چند لمحوں کو بعد وہی انچارج ڈاکٹر تیزی سے کمرے سے نکلتا نظر آیا، ساتھ ہی میرے فون کی گھنٹی بجی تو اُسی ڈاکٹر کی گھبرائی ہوئی آواز آئی سر آپ کدھر ہیں تو میں نے کہا ابھی آپ کے کمرے میں تھا لیکن آپ اپنے فون پر مصروف تھے اِسی دوران وہ میرے پاس آگیا مجھے پہچان لیا اور کہا سرآپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا اب وہ مجھے لے کر تیزی سے ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھا، اُس کو دیکھ کر نوجوان ڈاکٹر بھی الرٹ ہو گئے۔

Old Man

Old Man

انچارج صاحب نے جاتے ہی حکم صادر فرمایا کہ فوری طور پر کوئی بیڈ خالی کرو کیونکہ سارے بیڈوں پر مریض تھے نوجوان ڈاکٹر کہنے لگے سر یہ بابا جی صبح سے بے ہوش پڑے ہیں کسی نے اِن کو نشہ آور چیز کھلا کر لوٹ لیا ہے سارے کاغذات شناختی کارڈ بھی ساتھ لے گئے ہیں، بابا جی مسلسل بے ہوش ہیں اِن کو کسی وارڈ میں دھکیل دیتے ہیں تا کہ پروٹوکول مریض کو اِن کے بیڈپر لٹاسکیں، بوڑھا مریض سڑک پر بے ہوش دیکھ کر 1122 والے ہسپتال چھوڑ گئے تھے جب وہ با با جی کو بیڈ سے اٹھانے لگے تو مجھے بہت برا لگا میں نے آگے بڑھ کر اُن کو روکا کہ یہ ظلم نہ کریں، میرے روکنے پر وہ رک گئے اور میرے مریض کو کسی دوسرے مریض کے ساتھ لٹا کر اُس کی طرف متوجہ ہوئے اب ساری توجہ میرے مریض کو دی جارہی تھی، مجھے یہ بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا میں بہت شرمسار اور ندامت محسوس کر رہاتھا لیکن میرے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔

میرے مریض کا علاج شروع ہوگیا تو انچارج ڈاکٹر نے مجھے کہا لو جناب اب آپ خوش ہیں، میں نے شکریہ ادا کیا لیکن وہ اب اور پروٹوکول کے چکر میں تھا کہنے لگا آئیں اب MS صاحب کے پاس چلتے ہیں، لہٰذا ہسپتال کی مختلف گلیوں سے گذرتے ہوئے اب ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے، کمرے کا منظر بہت عجیب تھا ایم ایس صاحب کے سامنے خوشامدی ڈاکٹروں کا ٹولا بیٹھا تھا اور کمرہ اُن کے بلند قہقہوں سے گونج رہا تھا۔کوئی نوجوان ڈاکٹر مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا اور ایم ایس صاحب اور اس کا حمایتی ٹولا اُس کی بے عزتی کررہا تھا کہ تم نے ہمارے مخالف گروپ کا ساتھ کیوں دیا تھااب تم سزا بھگتو گے، نوجوان ڈاکٹر کی خوب بے عزتی کرنے کے بعداُسے کہا جائو دوبارہ حماقت کی تو نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔

Flattery

Flattery

اس کے بعد ایم ایس صاحب اپنے خوشامدی ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ اُس کے بیٹے کا مسئلہ حل ہو گیاہے تو خوشامدی ڈاکٹر نے قصیدہ نگاری شروع کر دی کہ سر آپ نے تو کمال کر دیا ہے میرے بیٹے کا پروفیسر جو میرے بیٹے کو فیل کر نے پر تلا ہو ا تھااب اُس نے نہ صرف اچھے نمبروں سے پاس کیا ہے بلکہ روزانہ مجھے شکریہ کا سلام بھیجتاہے۔اُن کی باتوں سے یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر کا بیٹا یونیورسٹی میں پڑھتا تھا نا لائق تھا فیل ہونے کا خطرہ تھا والد ڈاکٹر جانتا تھا کہ میرا بیٹا آوارہ اور نالائق ہے’ اپنے بیٹے کے پروفیسر سے ملا اور اُسے کہا کہ آپ دونوں میاں بیوی چیک اپ کے لیے تشریف لائیں، پروفیسر صاحب معصوم آدمی تھے اگلے دن معمول کے چیک اپ کے لیے اِن درندوں کے پاس آگئے پروفیسر صاحب کو طے شدہ پلان کے مطابق خوب پروٹوکول دیاگیا اُن کے بہت سارے ٹیسٹ VIP طریقے سے لیے گئے اِسی دوران پروفیسر کی بیوی نے کہا کہ اُس کا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔

بس اِن کو اشارہ مل گیا اور کہا کہ اِن کے پتے میں پتھری ہے اور پتا پھٹنے والا ہے’ فوری طور پر مریضہ کو داخل کر لیا گیا VIP کمرہ الاٹ کر دیا گیا’ نرسوں اور ڈاکٹروں کی ڈیوٹی لگ گئی، ہسپتال کا سارا عملہ خدمت پر معمور ہوگیا’ ٹیسٹوں کے ڈرامے کے بعداگلے دن اُس بچاری کا تندرست پتا نکال دیاگیا۔پروفیسر بیچارہ اصل ڈرامے سے بے خبر شکریہ اور دعائیں دے رہا تھا کہ میری بیوی کی جان بچ گئی اُس کو بتایا گیا کہ آج آپریشن نہ ہوتا تو بیوی کا بچنا مشکل تھا وہ دن اور آج کا دن پروفیسر بیچارہ نالائق کو اچھے نمبر بھی دیتا ہے اور شکریہ بھی ادا کرتا ہے کہ تمھارے والد کی وجہ سے میرا گھر بچ گیا۔

اِس شرم ناک واقعہ کو قہقہے مار مار کر انجوائے کر رہے تھے’ پھر ایک ڈاکٹر دوسرے سے بولاکہ تمھارے پرائیویٹ کلینک میں تو نارمل ڈیلیوری تم جان بوجھ کر آپریشن میں تبدیل کر دیتے ہو یعنی اگر بچہ نارمل پیدا ہو رہا ہو تو وہ جان بوجھ کر آپریشن کر کے لوٹ مار کرتا تھا، ڈاکٹرز ایک دوسرے کے ڈرامے اور شرم ناک قِصے قہقہے ما کر سنا رہے تھے وہ میری موجودگی سے بے خبر ہو چکے تھے۔ میرا سانس گھٹنا شروع ہو گیا میں تیزی سے اٹھا اور ہسپتال سے باہر آگیا میں با ر باریہی سوچ رہا تھا کہ یہ شفا خانہ ہے یا مقتل خانہ۔

Professor Mohammad Abdullah Bhatti

Professor Mohammad Abdullah Bhatti

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
help@noorekhuda.org
03004352956