counter easy hit

وہائٹ ہائوس میں کیا چل رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رخصتی اور بائیڈن کی آمد ہنگامہ خیز

اسلام آباد(ایس ایم حسنین) امریکہ میں انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد اقتدار کی منتقلی کے آخری مرحلے کی تشکیل اس مرتبہ انتہائی غیر معمولی حالات میں ہورہی ہے۔ حالیہ انتخابات کو امریکہ کے تنازع ترین انتخابات اس حوالے سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک نئے صدر جوبائیڈن کو صدر تسلیم نہیں کیا ہے۔ وائٹ ہائوس میں ہونے والی تبدیلیوں کے مناظر کے بارے میں برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک رپورٹر جو وائٹ ہائوس کی کوریج پر مامورہیں ان کے مناظر کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس سے ٹرمپ کی صدارت کے آخری نقوش بھی مٹائے جا رہے ہیں تاکہ نو منتخب صدر جو بائیڈن حلف اٹھانے کے بعد اقتدار سنبھالتے ہی یہاں منتقل ہو سکیں۔ وائٹ ہاؤس کی تمام دفتری میزیں خالی کر دی گئی ہیں، کمروں کی اچھی طرح صفائی ستھرائی کر دی گئی ہے تاکہ نو منتخب صدر اپنے معاونین اور مشیروں کی نئی ٹیم کے ساتھ فوری طور پر اپنا کام شروع کر سکیں۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد اقتدار منتقلی کے عمل کا یہ بہت بڑا حصہ ہے جس سے نئی حکومت کو اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے میں مدد ملتی ہے۔وائٹ ہاؤس کا مغربی حصہ جو عام طور پر کافی پررونق اور مصروف رہتا ہے سنسان نظر آ رہا تھا۔ فون بند تھے۔ تمام دفاتر میں میزوں پر کاغذات اور بغیر کھلے خطوط بکھرے ہوئے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان دفتروں میں کام کرنے والے افسران جلدی میں سب کچھ چھوڑ کر نکل گئے ہیں اور واپس آنے والے نہیں۔حلف برداری کے دن ملر کے دفتر کو صاف ستھرا اور تمام نشانیوں سے پاک ہونا چاہیے تاکہ بائیڈن کی ٹیم یہاں اپنا کام شروع کر سکے اور انھیں ایسا محسوس نہ ہو کہ ان سے پہلے یہاں کسی اور نے کبھی کام کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مغربی حصے کی ہر چار سال بعد اس انداز میں صفائی، امریکہ میں اقتدار منتقلی کی دو صدیوں سے زیادہ عرصے پر محیط سیاسی روایات کا ہمیشہ سے اہم جز رہی ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس میں ہمیشہ گرمجوشی شامل نہیں ہوتی۔ سنہ 1869 میں ایک اور ڈیموکریٹ صدر اینڈریو جانسن جن کا مواخذہ کیا گیا تھا انھوں نے یولیسس ایس گرانٹ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ گرانٹ جنھوں نے جانسن کو اقتدار سے الگ کرنے کی حمایت کی تھی وہ اس رد عمل پر قطعی طور پر حیران نہیں تھے۔ اس سال اقتدار منتقلی کا سارا عمل بہت تلخیوں کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ عمل عموماً انتخابات کے فوراً بعد ہی شروع ہو جاتا ہے لیکن اس مرتبہ یہ عمل تاخیر کا شکار ہو گیا کیونکہ صدر ٹرمپ نے انتخاب کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

DEPARTURE, OF, DONALD, TRUM, AND, ARRIVAL, OF, JO BIDEN, IN, WHITE HOUSE

صدر ٹرمپ نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا ہے اور ممکن ہے کہ وہ فلوریڈا میں مار لاگو کلب چلے جائیں۔ لیکن جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے اس وقت بھی اقتدار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہو رہا ہے۔ امریکی یونیورسٹی پرنسٹن میں تاریخ کے پروفیسر سین وینلٹز کا کہنا ہے کہ ’نظام چل رہا ہے۔ راستہ بڑا ناہموار ہے، بہت جھٹکے لگ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اقتدار کی منتقلی ہونے جا رہی ہے۔‘لیکن انتہائی خوشگوار وقتوں میں بھی اقتدار کی منتقلی ایک بڑا کام ہوتا ہے جس میں تمام تر معلومات اور سرکاری عملے کا بہت بڑے پیمانے پر منتقل ہونا شامل ہوتا ہے۔ سٹیفن ملر ان چار ہزار سے زیادہ سیاسی تقرریوں میں سے ایک تھے جو ٹرمپ انتظامیہ نے کی تھیں جن کی نوکریاں اب ختم ہو جائیں گی اور جو بائیڈن اپنے لوگ لے کر آئیں گے۔ واشنگٹن میں قائم سینٹر فار پریزیڈینشل ٹرازیشن کے مطابق امریکہ میں اقتدار کی منتقلی کے دوران ڈیڑھ سے تین لاکھ افراد نوکریوں کے لیے درخواستیں دیتے ہیں۔ ان میں گیارہ سو کے قریب ایسی تقرریاں بھی ہوتی ہیں جن کی توثیق کے لیے سینیٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ان سب آسامیوں پر بھرتیوں میں کئی ماہ اور بعض اوقات سال بھی لگ جاتے ہیں۔ چار سال کی پالیسی دستاویزات، بریفنگ کے کتابچے اور دیگر حساس نوعیت کی چیزوں کو بکسوں میں بند کر کے ’نیشنل آرکائیوز میں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں انھیں بارہ سال تک خفیہ رکھا جاتا ہے تاوقتکہ صدر خود ہی یہ فیصلہ کریں کہ ان میں سے کچھ دستاویزات عام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری کیلی میکنینی کے دفتر کا دروازہ گزشتہ ہفتے کی ایک شام کو آدھا کھلا ہوا تھا۔ میکنینی صدر کا دفاع کرنے والے سرکردہ لوگوں میں شامل تھیں۔ انتہائی تربیت یافتہ، بولنے میں محتاط اور سخت اور تلخ ترین سوالات کا سامنا کرتے وقت بھی اپنے غصے کو قابو میں رکھنا جانتی تھیں۔گو کہ وہ بھی جانے کی تیاریاں کر رہی تھیں لیکن پھر بھی ان کا دفتر انتہائی منظم دکھائی دے رہا تھا۔ وائٹ ہاؤس پر ایک کتاب کی مصنفہ کیٹ اینڈرسن برور کا کہنا ہے کہ عام طور پر آخری کچھ دنوں میں ایک ’منظم سا ہنگامہ نظر آتا ہے۔وائٹ ہاؤس کا فرنیچر جن میں اوول آفس کا ریزولوٹ ڈیسک بھی شامل ہے، دیواروں پر لگی بہت سی تصاویر، چینی کے ظروف اور دیگر بہت سی اشیا سرکاری ملکیت میں آتی ہیں اور وہ کہیں نہیں جاتیں۔ لیکن دیگر بہت سے چیزیں جن میں صدر کی تصاویر جو راہداریوں میں لٹکائی جاتی ہیں انھیں ہٹا لیا جاتا ہے تاکہ نئے مکینوں کے سامان کی گنجائش پیدا کی جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے عملے میں شامل ایک خاتون اہلکار مشرقی حصے سے خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی تصاویر نکال کر لا رہی تھیں۔ یہ دیو قامت تصاویر جنھیں اپنے سائز کی وجہ سے ’جمبو‘ کہا جاتا ہے اس خاتون کے مطابق نیشنل آرکائیوز میں رکھوا دی جائیں گی۔ صدر ٹرمپ اور ان کی فیملی کی ذاتی اشیا جن میں کپڑے، زیورات اور دیگر چیزیں شامل ہیں انھیں فلوریڈا میں مار آلگو منتقل کر دیا جائے گا۔اس مرتبہ واہٹ ہاؤس کی خصوصی صفائی کی جائے گی۔ صدر اور ملر سمیت وائٹ ہاؤس کے عملے کے درجنوں افراد گزشتہ کئی ماہ میں کورونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے جس کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کی عمارت کی چھ منزلوں اور 132 کمروں کی اچھی طرح صفائی کی جائے گی اور ان کو جراثیم سے پاک کیا جائے گا۔ وفاقی ادارے جرنل سروسز ایڈمنسٹریشن کی ترجمان کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاوس میں لگی لفٹس کے بٹنوں، دروازوں کے ہینڈل سے لے کر ہر چیز کو صاف کیا جائے گا اور ان کو جراثیم سے پاک کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں منتقل ہوتے ہی سب سے پہلے امریکہ کے مقبول ترین صدر اینڈریو جیکسن کی تصویر اوول آفس میں لگوائی تھی۔ انھوں نے پردے، صوفے اور قالین بھی تبدیل کیے تھے۔ حلف برداری کے دن نائب صدر مائیک پینس بھی نو منتخب نائب صدر کمالا ہیرس کے لیے سرکاری رہائش گاہ کی انیسویں صدی کی عمارت کو، جو وائٹ ہاؤس سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے، خالی کریں گے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website