counter easy hit

کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

Asadullah Khan Ghalib

Asadullah Khan Ghalib

تحریر : سجاد گل
اسد اللہ خان غالب کے محبوب نے غالب کو قتل کرنے کے بعد توبہ کر لی تھی، جس پر مرنے کے بعد غالب نے یہ شعر ارشاد فرمایا،

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

غالب ،میر،ذوق، ساغر، درد ،آتش ، انشائ ، فراز ،ْقتیل اور دیگر عظیم شاعروں کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تواس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ محبوب وہی ہوتا ہے جو ،قاتل،ستم گر،بیوفا،خائن،جھوٹا، وعدہ خلاف ،احسان فراموش، بے انصاف،خون پینے والا،دل پہ تیر چلانے والا،جگر زخمی کرنے والا،دن میں ستانے والا،راتوں کو جگانے والا، باغی بنانے والا، وحشی بنانے والا،جوگی بنانے والا،روگی بنانے والا ، اور اچھے بھلے آدمی کو شاعر بنانے والاہوتا ہے اور دنیا جہاں کی یہ خوبیاں محبوب میں پائی جاتی ہیں مگر ہمیں ابھی اتنی ہی یاد ہیں،جو آپ کویاد ہیں وہ بھی اس فہرست میں شامل کر لیں۔

مجھے یقین ہے جودل جلے شاعری کا ذوق رکھتے ہیں یا انکی زندگی میں کسی محبوب کا دخل ہے تو میرے اس جائزے کو من وعن قبول کر لیں گے، محبوب کی ان خوبیوں کا ذکر کرنے کے بعد ہمیں محسوس ہو رہا ہے کو ہمارا بھی محبوب ہے بلکہ جو محبوب کی جمع ہوتا ہے یا ہوتی ہے وہ ہے،یعنی بہت سارے محبوب ہیں، غالب صاحب اس معاملے میں ہم سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

Asadullah Khan Ghalib-Poetry

Asadullah Khan Ghalib-Poetry

غالب کے حالات زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا محبوب صرف ایک عدد ہی تھا اور وہ بھی خالص صنفِ نازک ،جبکہ ہمیں یہ شرف حاصل ہے کہ ہمارے محبوبوں کی فہرست میں صرف صنفِ نازک کا ہی دخل نہیں بلکہ صنفِ سخت بھی شامل ہیں،جی جی معاملہ الجھ گیا ناں،ابھی گتھی سلجھاتے ہیں،جناب عالیٰ دراصل جو محبوب کی خوبیاں اوپر بیان ہوئی ہیں الحمد للہ یہ ساری خوبیاں ہمارے سیاست دانوں میں بھی پائی جاتی ہیں،بلکہ آج اگر کوئی عظیم شاعر ہو تاتو وہ محبوب کی جدید خوبیوں کا بھی تذکرہ کردیتامثلاََ، کرپشن،مانامہ لیکس،ڈکٹیٹرشپ، بدمعاشی ،منی لانڈرنگ ،دہشتگردی ،اجارہ داری،وغیرہ،چونکہ ان محبوبوں کی ستم ظریفیوں کا شکار ہم ہی ہوتے ہیں لہذا یہ سیاست دان ہمارے محبوب ہوئے۔

اب صنفِ نازک اور صنفِ سخت کی وضاعت، ظاہری بات ہے ان سیاست دانوں میں صرف صنف ِ نازک شیری رحمان ،شیریں مزاری، یا فردوس عاشق اعوان ہی تو نہیں بلکہ اس کارِ خیر میں صنفِ سخت نوازشریف ،آصف علی زرداری ،عمران خان، فضل الرحمان، وغیرہ کا حصہ بھی شامل ہے، لہذا ہمارے محبوب صرف صنفِ نازک ہی نہیں، بلکہ صنف سخت بھی ہیں۔

امید ہے اب آپ کو بات سمجھ آ گئی ہو گی،ان محبوبوں کی صفات کی تھوڑی تھوڑی وضاعت مندرجہ ذیل ہے،قاتل محبوب، اپنے مقاصد کے لئے کسی بھی انسان کا قتل جائزسمجھتے ہیں”سانحہ ماڈل ٹائون اور١٢ مئی کراچی” کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

Wrongdoing

Wrongdoing

ستم گر محبوب، ظلم کی کوئی قسم ایسی نہیں جو انہوں نے عوام پر نہ آزمائی ہوئی”نابینا افراد پر لاٹھی چارج،مظلوموں پر پولیس سے تشدد”لاہور نابینا افراد کا احتجاج”
جفائیں بہت کیں بہت ظلم ڈھائے
کبھی اک نگاہِ کرم اس طرف بھی
بیوفا اور خائن محبوب، عوام ان کے نعرے لگا ئے اور یہ عوام کو بنیادی حقوق تک نہ فراہم کر سکیں”ملک میںکوئی ایک ہسپتال ایسی نہیں جو اس قابل ہو کہ اس میں یہ ظالم اپنا علاج کروا سکیں،
بے وفا کوئی ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے
میرا قاتل میرا رہبر بھی تو ہو سکتا ہے
وعدہ خلاف اور جھوٹے محبوب،کوئی ایک وعدہ نہیں جو انہوں نے پورا کیا ہو،”روٹی کپڑا مکان،کہاں گئی وہ دوکان” لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے”
اک وعدہ ہے کسی کا جو وفا نہیں ہوتا
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا نہیں ہوتا
احسان فراموش محبوب،الیکشن میں کیا نہیں ہوتا عوام کی جانیں تک چلی جاتی ہیں ان لوٹوں کو منتخب کرنے کے لئے”مگر صلہ کیا ملتا ہے” ہم نے جن کے لئے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں
بے انصاف ،خون پینے والے محبوب،پولیس وعدالت کا نظام دیکھ کر گھِن آتی ہے”یہ نظامِ انصاف ہے یا سنگین مذاق”

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصب ہوتو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
دل پہ تیر چلانے والے اور جگر زخمی کرنے والے محبوب،پاکستان جیسی عظیم ریاست کے منصب اعلیٰ یہ ڈاکو،دل کرب آلود اور جگر زخمی ہوتا ہے یہ سوچ کر،
کوئی تیر دل میں اتر گیا کوئی بات لب پہ اٹک گئی
اے جنوں تو نے بُرا کیا،مری سوچ رہ سے بھٹک گئی
باغی ،وحشی ،جوگی ،اورروگی بنانے والے محبوب،ان کے اندازِ حکمرانی کے باعث لوگ بغاوت پر اترے ہوئے ہیں،جرائم بڑھنے کی وجہ یہ حکمران ہیں،اور ان حکمرانوں کے دئیے روگ میں عوام کی حالت قابلِ رحم ہے، انشا جی اٹھو اب کوچ کرو،اس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کا سکوں سے کیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
دن میں ستانے والے راتوں کو جگانے والے،دن بھر پسینے میں شربور آدمی بغلیں کھجاتا رہتا ہے اور رات بھر بجلی نہ ونے کے باعث بندہ سونہیں سکتا ،
پریشاں رات ساری ہے،ستاروتم تو سو جائو
سکوتِ مرگ طاری ہے،ستارو تم تو سو جائو
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان محبوبوں سے رتی برابر محبت نہیں ،جیسے غالب یا ساغر کو تھی ،نجانے پھر یہ کس جرم کی سزا ہے۔

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

Sajjad Gul

Sajjad Gul

تحریر : سجاد گل