counter easy hit

کرکٹ ، زیارت اور مینگو کے بعد ‘ماسک ڈپلومیسی’ کا آغاز

سفارت کاری یا ڈپلومیسی اگرچہ ایک مشکل اور پیچیدہ کام سمجھا جاتا ہے لیکن سفارت کاری کی دنیا میں کئی مواقع ایسے بھی آئے ہیں کہ مشکل سے مشکل صورت حال میں اسی سفارت کاری کے ذریعے بہتری کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔
اس طرح کی سفارت کاری کو سفارتی زبان میں پبلک ڈپلومیسی کہا جاتا ہے۔ اس پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے وہ کام کیے یا لیے جاتے ہیں جس سے ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب آ سکیں اور ان کے دل میں باہمی احترام کا جذبہ پیدا ہو اور ملکی تشخص میں بھی بہتری آئے۔
پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچئن ٹرنر نے کورونا کی موجودہ صورت حال میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باہمی تعاون اور دوستی کو اجاگر کرنے کے لیے فیس ماسک پہن کر اپنی تصویر ٹویٹر اپ لوڈ کی ہے۔
اس فیس ماسک کو انھوں نے ڈپلومیٹک فیس ماسک قرار دیا ہے جبکہ صارفین نے اسے ‘ماسک ڈپلومیسی’ قرار دیا ہے۔
سابق پاکستانی سفارتکار عبد الباسط کا کہنا ہے کہ ‘دیکھنے میں ماسک ڈپلومیسی ایک چھوٹا سا عمل ہے لیکن اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے پاکستان میں برطانیہ کا تشخص تو بہتر ہوگا ہی برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی اور برطانوی عوام کے درمیان بھی تعلقات بہتر ہوں گے۔’
اردو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ‘سفارت کار آج کل اس طرح کی چیزیں کرتے رہتے ہیں۔ کورونا کی صورت حال کا اندازہ نہیں ہے کہ کب تک چلے گی۔ اس میں ایک دوسرے کو یقین دلانا ہوگا کہ ہم مل کر کام کرسکتے ہیں۔’
پاکستان کے تناظر میں اس طرح کی ڈپلومیسی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان نے اپنے قیام کے سات سال بعد 1954 میں لاہور میں ہونے والے پاک بھارت کرکٹ میچ میں بڑی تعداد میں انڈین شائقین کو ویزے جاری کرکے ‘کرکٹ ڈپلومیسی’ کا آغاز کیا تھا۔ اس میچ کو دیکھنے والوں میں بڑی تعداد ان انڈین شہریوں کی تھی جو تقسیم ہند کے وقت لاہور سے ہجرت کر کے گئے تھے۔
تاریخ سے تعلق رکھنے والے بتاتے ہیں کہ پاکستان کی اس ڈپلومیسی سے 1947 میں انڈین پنجاب سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ہونے والے فسادات کی تلخیوں کو کم کرنے میں بڑی مدد تھی۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ ڈاکٹر آمنہ محمود کہتی ہیں کہ ‘تقسیم ہند کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان پنجاب سے ہجرت کر کے انڈیا جانے والے سکھوں کے اندر ہجرت کے فیصلے اور وہاں سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مسلمانوں پر مظاپم پر پشیمانی کے جذبات پیدا کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔’
کرکٹ ڈپلومیسی کا یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ بعد میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کے تناظر میں کئی بار استعمال کیا گیا۔
1987 میں جنرل ضیاء الحق کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے باوجود انڈیا کے شہر جے پور میں پاک انڈیا کرکٹ میچ دیکھنے کا فیصلہ، راجیو گاندھی کے ساتھ مکالمہ اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کو بھی ‘کرکٹ ڈپلومیسی’ کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔


سابق سفارت کار عبد الباسط کہتے ہیں کہ ‘پاکستان نے کرکٹ ڈپلومیسی کا بہت استعمال کیا ہے۔ یہ دراصل پبلک ڈپلومیسی کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ کئی بار کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے کشیدگی کے حالات میں برف پگھلنے میں مدد ملی ہے۔ کرکٹ ڈپلومیسی قیادت کے درمیان ملاقات کو موقع فراہم کرتی ہے جس سے بہتری کے راستے نکلتے ہیں’
صرف کرکٹ ڈپلومیسی ہی نہیں پاکستان کی جانب سے ‘مینگو ڈپلومیسی’ کو بھی باہمی تعلقات کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عبدالباسط کے مطابق کرکٹ کے مقاملے میں ‘مینگو ڈپلومیسی’ کا استعمال کم ہوا ہے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف علی زرداری کا تعلق چونکہ آم پیدا کرنے والے علاقوں سے ہے تو اپنے دور حکومت میں انہوں نے غیر ملکی سربراہان مملکت، وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ کو آموں کی پیٹیاں بطور تحفہ بھیجنے کی مقامی روایت کو بین الاقوامی سطح تک پہنچایا ہے۔
ایک موقع پر جب جاپان نے پاکستانی آموں کی درآمد پر پابندی عائد کی تو صدر زرداری نے جاپانی وزیر اعظم اور شہنشاہ کو بھی آموں کا تحفہ بھیجا۔ جس کے بعد جاپان نے عارضی طور پر پاکستانی آم پر سے پابندی ہٹا لی تھی۔
جولائی 2010 میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے جب پاکستان کا دورہ کیا تو اس وقت کے وزیر خارجہ نے آموں سے ان کی تواضع کی۔ جس کے بعد سے انہوں نے پاکستانی آموں کی امریکہ کی منڈیوں تک رسائی کے لیے ذاتی کاوش کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی اور اس حوالے سے عملی کام بھی کیا۔ جس کے بعد پاکستانی پھلوں کی امریکہ و یورپ برآمدگی میں بہت آسانی ہوئی۔
پاکستان کے سابق مشیر قومی سلامتی نے ڈپلومیسی کی دنیا میں ایک نیا رجحان متعارف کرایا۔ 2017 میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے ہمراہ ترکی کے دورے پر ترک وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران ترک وزیر وزیر اعظم نے ناصر جنجوعہ کی سبز ٹائی کی تعریف کی تو انہوں نے اپنی ٹائی اتار کر ترک وزیر اعظم کو تحفے میں پیش کر دی۔ ترک وزیر اعظم بھی پیچھے نہ رہے اور انہوں نے فوراً اپنی ٹائی اتار کر ناصر جنجوعہ کو دی۔ ٹائی کے تبادلے پر باضابطہ فوٹو بنوائے گئے اور یوں سفارت کاری کی دنیا میں ‘ٹائی ڈپلومیسی’ متعارف ہوئی۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website