counter easy hit

حضور کی سیرت و حیات مبارکہ

Muhammad SAW

Muhammad SAW

تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔”لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَة”حَسَنَة”۔ ترجمہ:”بے شک تمہیں رسول اللہۖ کی پیروی بہترہے ”۔سورة الاحزاب آپۖکی ولادت باسعادت آپۖکے والدماجد حضرت عبداللہ کی وفات کے بعدبارہ ربیع الاول کوہوئی ۔آپۖکے داداحضرت عبدالمطلب کو یتیم پوتے کی پیدائش پربے حدخوشی ہوئی اورانہوں نے آپۖکانام احمدۖرکھا۔وقت کے دستورکے مطابق آپۖاپنی ولادت کے کچھ عرصہ بعدقبیلہ سعدکی ایک دیہاتی خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ کے سپردہوئے ۔تاکہ دیہات کی کھلی فضاء میں تندرست رہنے کے علاوہ خالص عربی بولناسیکھ لیں۔کیونکہ بنوسعداپنی فصاحت میں مشہورتھے اللہ کے محبوبۖخوداس بات پرفخرکرتے تھے کہ ان کی زبان بنی سعدکی زبان ہے۔عاشق رسول فاضل بریلوی امام احمدرضاخان کی روح تڑپی اوربول اٹھے۔تیرے سامنے تھے دبے لچے فصحاء عرب کے بڑے بڑے گویاان کے منہمیں زباں نہیں،نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیںحضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس آپۖچارسال تک پرورش پاتے رہے۔ اس کے بعداپنی والدہ محترمہ کے پاس آگئے ۔حضرت عبداللہ کی وفات کے بعدحضرت آمنہ اپنے شوہرکی قبرمبارک کی زیارت کے لئے ہرسال مدینہ جایاکرتی تھیں جب آپۖچھ سال کی عمرمبارکہ چھ سال کی تھی۔تو آپۖکی والدہ ماجدہ آپۖکواپنے ہمراہ مرحوم شوہرحضرت عبداللہ کی قبرکی زیارت کے لئے لے گئیں ۔واپسی مقام ابواء پرآپۖکی والدہ بیمار ہوگئیں اوروہیں انتقال فرماگئیں۔آپۖچھ سال کی عمرمیںماں اورباپ دونوں کی محبت وشفقت سے محروم ہوگئے ۔والدہ کے انتقال کے بعدآپۖکے داداحضرت عبدالمطلب نے اپنے یتیم پوتے کودامن ِ تربیت میں لے لیا۔دوسال بعدآپۖکے داداحضرت عبدالمطلب دنیا فانی سے رحلت فرماگئے ۔داداکی وفات کے بعدآپۖکی پرورش کاذمہ جناب ابوطالب نے لے لیا۔بارہ سال کی عمرمیں آپۖنے جناب ابوطالب کے ہمراہ شام کاتجارتی سفرکیا۔آپۖنے اپنے چچاکے زیرسایہ پرورش پاکرآہستہ آہستہ جوانی کی عمرکوپہنچے۔

جب آپۖکی عمرپچیس سال کوپہنچی تو جناب ابوطالب کی اجازت سے حضرت خدیجہ سے نکاح ہوااسوقت حضرت خدیجہ کی عمرچالیس سال تھی۔چالیس سال کی عمرمیں آپۖنے اعلانِ نبوت کیا۔تبلیغ کایہ سلسلہ جاری وساری رہاجب کفارومشرکین نے ظلم وستم کی انتہاکردی تواللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ منورہ کوہجرت فرمائی ۔آپ ۖنے کئی غزوات میں حصہ لیا۔ آپۖنے زندگی میں ایک بارحج اورچارمرتبہ عمرہ کیا۔ذی قعدہ ١٠ہجری میں آقاۖنے حج کاارادہ کیایہ حضورۖ کا پہلااورآخری حج تھا ۔ وہاں پرایک تاریخ سازخطبہ پیش کیاجسے تاریخ عالم میں ”خطبہ حجة الوداع”کے نام سے جاناجاتاہے ۔حجة الوداع سے فارغ ہوکرآپۖمدینہ منورہ تشریف لے آئے۔چونکہ اب کارِنبوت تقریباًپایہ تکمیل کوپہنچ چکاتھاقرآن مجیدکی آخری آیات میں تکمیل دین کی بھی اطلاع مل چکی تھی۔بالآخر63سال کی عمرمبارکہ پانے کے بعد اس دنیاسے ظاہراًپردہ فرماکرخالق حقیقی سے جاملے ۔حضرت علی ،فضل بن عباساور اسامہ بن زید نے غسل دیااورحضرت طلحہ نے قبرانورمبارک کھودی۔آپۖکے جسداطہرمبارک کوحجرہ عائشہ( آجکل جہاں پرروضہ مبارک ہے )میں دفن کردیاگیا۔محسن انسانیت ،خاتم پیغمبراں ،رحمتِ ہرجہاں ،انیس بیکراں،آقائے دوجہاں سرورکائنات، فخرموجودات،نبی اکرم،شاہ بنی آدم،نورمجسم، سروردوعالم، جناب احمدمجتبیٰ محمدمصطفیۖ کاحقیقی عشق ہی بندہ مومن کاقیمتی سرمایہ ہے۔آپۖکی محبت سے دلوں میں نورپیداہوتا ہے۔آپۖکاذکرقرب الٰہی حاصل کرنے کابہترین ذریعہ ہے۔ خالق کائنات،مالک ِ ارض وسماوات اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپۖکو تمام جہانوں کے لئے باعث ِرحمت بناکربھیجا آپۖوجہ تخلیق کائنات ہیں اورآپۖہی کے ذکرسے یہ دنیاآبادہے آپۖکاذکر ایساافضل ترین ذکرہے جوخالق کائنات خوداپنے نورانی فرشتوں کے ساتھ ملکرفرماتاہے۔آپۖکی ذات بابرکات پر کثرت سے درودشریف پڑھنے سے دکھوں سے نجات ملتی ہے اورروحانی درجات بلندہوتے ہیں۔

آج کے پُرفتن دورمیںنفرتوں ،کدورتوں کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ محبت رسولۖکے دیپ روشن کیے جائیں ۔آپۖسے محبت کاتقاضابھی یہی ہے کہ ہم سیرت مصطفیۖاورتعلیمات مصطفیۖکواپنااوڑھنابچھونابنائیں۔عشق مصطفیۖکاعملی ثبوت دینے کے لئے یہ لازم ہے کہ ہم آپۖکے لائے ہوئے نظام ِزندگی کواپنے اوپرنافذکریں تاکہ دین دنیاوآخرت میں کامیاب ہوسکیں۔ اسلام ہمیںاخوت اوربھائی چارے کادرس دیتاہے ۔حقوق اللہ اورحقوق العباداداکرنے کاحکم دیتاہے ۔آج کے پُرفتن دورمیں یہودی لابی طاغوتی اسلام دشمن قوتیں متحدہوکردینِ اسلام،قرآن اورمسلمانوں کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔استعماری سازشوں کے باوجوددنیابھرمیں دین اسلام کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے ۔جوق درجوق غیرمسلم کلمہ پڑھ کردامنِ اسلام میں پناہ لے رہے ہیں۔سیرتِ مصطفیۖاورحیاتِ مبارکہ کامطالعہ کرنے سے یہ بات ہم پرروزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہرمعاملہ میں حضورۖکاطرزِعمل مبنی بررحمت اورمبنی بر شفقت رہا ہے۔آپۖنے اپنی حیات ِ مبارکہ میں تمام کام اپنے ہاتھ اورہمیشہ محنت ومشقت سے سرانجام دیے ہیں۔اللہ کے محبوبۖنے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کام کرنے میں عارمحسوس نہیں کی ۔توآج ہم کلمہ پڑھنے والے امتی کیوں عارمحسوس کرتے ہیں۔ہمیںاپنی زندگیوں کوبدل کرتعلیمات مصطفیۖکے سانچے میں ڈھالنے ہوگا۔کیونکہ آپۖکی حیاتِ مبارکہ میں روزمرہ کی زندگی غریبوں اورمسکینوں کی سی تھی ۔اہل خانہ کے کاموں کے علاوہ آپۖپھٹے پرانے کپڑوں کوخودپیوندلگالیتے ۔بازارسے خودسوداسلف خریدلاتے۔ خدام اورغلاموں کے ساتھ اچھاسلوک کرتے یہاں تک کہ غلاموں کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پربیٹھ کرکھاناتناول فرماتے ۔اوریہی حکم دیتے کہ جوخود کھاتے ہووہ انہیں بھی کھلائو،جیسالباس خودپہنتے ہوویساہی انہیں پہنائو،ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئوان کی غلطیوں کومعاف کرنے کی تلقین فرمائی ۔ آپۖاپنے خدام حضرت زیدبن حارثہ اورحضرت انس کواپنے گھرکافرد سمجھتے تھے۔

حضرت زیدبن حارثہ غلام تھے۔آپۖنے ان کوآزادکردیاان کے والداورچچالینے آئے اورہرقیمت اداکرنے کے لئے تیارتھے۔آپۖنے ان کے ساتھ جانے یانہ جانے کامعاملہ زیدبن حارثہ پرہی چھوڑدیا۔ انہوں نے جانے سے انکارکردیاتھا۔اورآپۖکے آستانہ رحمت کووالدین کے سایہ عاطفت پرترجیح دی۔اسی طرح زیدکے بیٹے اسامہ سے آپۖ اس قدرمحبت کرتے تھے آپۖفرمایاکرتے تھے کہ اسامہ بیٹی ہوتی تومیں اُسے زیورپہناتاآپۖاس کی خودناک صاف کرتے تھے۔ آپۖ مویشیوں کی دیکھ بھال اورچارہ خودڈال لیتے ۔اوراپنی بکری کاخوددودھ دوہتے ۔جوتوں کی مرمت خودکرلیتے ۔ایک مرتبہ آپۖکی نعلین مبارک کابندٹوٹا ہواتھاصحابہ کرام میں سے کسی نے عرض کیایارسول اللہۖ!مجھے عنایت فرمائیے میں اسے درست کرلوں آپۖنے فرمایا”میں نہیں چاہتامیں ممتازہوکر رہوں اورکسی کواپنے کام کے لئے فرمائوں”۔ایک مرتبہ آپۖسفرمیں تھے ۔آپۖنے صحابہ کرام علہیم الرضوان کوایک دنبہ تیارکرنے کاحکم فرمایاصحابہ کرام اٹھے اورایک کہنے لگامیں ذبح کروں گا۔دوسرے نے کہاکہ میں اس کی کھال اتاروں گا۔تیسرے نے کہامیں اسے پکائوں گا۔پھرآپۖنے فرمایا”لکڑیاں جمع کرنامیراکام ہے”صحابہ کرام علہیم الرضوان نے عرض کیا۔یارسول اللہۖہم کافی ہیں۔آپۖکواس کی کیاضرورت ہے ۔فرمایا”میں جانتاہوںتم کافی ہولیکن میں اسے ناپسندکرتا ہوں کہ میں تم سے ممتازوجدارہوں اورتمہارے درمیان متمیزہوکربیٹھارہوں ۔اللہ تعالیٰ اسے ناپسندفرماتاہے کہ کوئی بندہ اپنے ساتھیوں کے درمیان ممتاز ہوکربیٹھے”۔ایک روایت میں ہے کہ ”میں پسندکرتاہوں کہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائوں اوربیشک اللہ کے پیغمبردائودعلیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے”۔آپۖدشمنوں سے انتقام لینے کی بجائے انہیں معاف کردیتے ۔ام المومنین سیدتناحضرت عائشہ الصدیقہ سے روایت ہے کہ رسول ِخداۖ نے کبھی بھی اپنے ذاتی معاملہ اورمال ودولت کے سلسلہ میں کسی سے انتقام نہ لیامگراس شخص سے جس نے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کاارتکاب کیاتواس سے اللہ کے لئے بدلہ لیا۔(بخاری شریف،کتاب الاداب)

آپۖکی قوت وبرداشت اورضبط وتحمل مثالی تھاآپۖکی پوری حیات مبارکہ عفودرگرز،رحمت ورافت،حلم وتحمل،صبروضبط،رحم وترحم اوربرداشت ورواداری سے عبارت ہے ۔صبر،بردباری اوردرگزرکرنے کی عظیم صفت نبوت کی عظیم صفتوں میں سے ہے ان صفتوں کی قوت کے بغیربارِنبوت نہیں اٹھایا جاسکتا۔ایک روایت میں ہے۔”مَااُوْذِی نَبِیّ” مِثْلَ مَآ اُوْذِیت اَوْکَمَاقَال،کسی نبی کواتنی ایذانہیں پہنچائی گئی جتنی ایذامجھے پہنچائی گئی۔یہ اس لئے کہ اللہ کے محبوبۖامت کے اسلام لانے پرسب سے بڑھ کرخواہشمندتھے ۔آپۖکاسب سے زیادہ اشدوسخت صبرغزوہ احدکے موقع پرتھاجب کفار نے آپۖکے ساتھ جنگ ومقابلہ کیااورآپۖکوشدیدترین رنج والم پہنچایامگرآپۖنے ان پرنہ صرف صبروعفوپرہی اکتفاکیابلکہ ان پرشفقت ورحمت فرماتے ہوئے ان کواسی جہل وظلم میں معذورگردانااور فرمایا”اے میرے اللہ!میری قوم کوراہِ ہدایت پرلاکیونکہ وہ جانتے نہیں”ایک روایت میں ہے۔”اے اللہ !انہیں معاف فرمادے ”صحابہ کرام علہیم الرضوان نے عرض کیایارسول اللہۖ!کاش آپ ان کے لئے بددعافرماتے کہ وہ ہلاک ہوجاتے ۔ آپۖ نے فرمایا”میں لعنت کے لئے مبعوث نہیں ہوابلکہ میں حق کی دعوت اوجہان کے لئے رحمت بن کرمبعوث ہواہوں”۔

ایک مرتبہ عمروبن ہشام نے حضرت عمرفاروق کی مجلس میں احنف بن قیس کومخاطب کرکے کہاتھا”ایک وہ وقت تھاجب ہم دونوں جہالت کی دنیامیں بستے تھے اس وقت عزت کامستحق وہ سمجھاجاتاتھا۔جوزیادہ جاہل اوروحشی ہوتااورجہالت یہ تھی کہ ہم نے تمہاراخون بہایااورتمہاری عورتوں کوقیدی بنایاآج ہم اسلام کے گھرمیں بیٹھے ہیں آج عزت کاوہ مستحق ہے جوزیادہ بُردباراورحلیم ہے پس اللہ تعالیٰ ہمیں اورتمہیں معاف فرمائے”۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ۖاپنی مجلس مبارک سے اٹھے توہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے توکیا دیکھتے ہیں کہ حضورۖکے قریب ایک اعرابی آیااس نے حضورۖکی گردن مبارک سے چادرکواس سختی سے کھینچاکہ چادرکی درشتی سے آپۖکی گردن مبارک چھیل گئی پھرحضورۖنے اس اعرابی کی طرف نظراُٹھائی کہ وہ کیا کہتاہے اس نے کہامیرے پاس دواونٹ ہیں اس پرمال لادوکیونکہ میں بال بچے رکھتاہوںاورآپ نہ اپنامال لادیں گے اورنہ اپنے باپ کا۔اس پر حضورۖنے فرمایا”میں ہرگزاس وقت تک مال نہیں دوں گاجب تک مجھے اس چادرکی گرفت سے نہ چھوڑے گاجسے تونے کھینچے رکھاہے”اعرابی نے کہا”خداکی قسم!میں ہرگزچادرکوڈھیل نہ دوں گاجب تک آپ میرے ان دونوں اونٹوں کونہ لدوادیں گے”پھرحضورۖنے کسی شخص کوبلاکرفرمایا”اس کے ایک اونٹ پرکھجوریں اورایک اونٹ پرجولاددو”۔(ابودائود)حضرت انس سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضورۖکے ساتھ جارہاتھااورحضورۖ کی گردن مبارک میں نجرانی سخت حاشیہ دارچادر تھی۔ایک اعرابی نے قریب آکرچادرکوپکڑکرحضورۖکوکھینچااورچادرکوسخت لپیٹنے لگا۔

حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمۖ کی گردن مبارک کی طرف دیکھاتو سخت حاشیہ دارچادرکی لپیٹ نے آپۖکی گردن مبارک کوچھیل دیاتھااس کے بعداعرابی کہنے لگا۔”اے محمدۖ!خداکے اس مال میں سے جوآپۖ کے پاس ہے مجھے دینے کاحکم فرمادیںپھرحضورۖنے اس کی طرف ملاحظہ فرمایااورتبسم فرمایااورمجھے اس کے دینے کاحکم فرمایا”(بخاری)آپۖنے لبیدبن الاعصم کوجس نے جادوکیاتھااور اس یہودیہ کوخیبرکی تھی جس نے زہرآلودبکری کی ران دی تھی معاف فرمادیا۔ایک مرتبہ آپۖ قیلولہ فرمارہے تھے کہ جب اپنی چشم مبارک کھولی تودیکھاکہ ایک اعرابی تلوارکھینچے آپۖکے سرہانے کھڑاہے اورکہہ رہاہے کہ آپۖکوکون بچائے گا۔اورمجھ سے آپۖکوکون محفوظ رکھے گا۔آپۖنے فرمایا”اللہ”اس کے بعداس کے ہاتھ سے تلوارگر پڑی اورحضورۖنے تلواراٹھالی اورفرمایا ”اب بتا!تجھے کون بچائے گا”پھروہ کانپنے اورلرزنے لگاآپۖنے اسے چھوڑدیااورمعاف فرمادیا۔اس کے بعدوہ اپنی قوم میں آیااورکہنے لگاکہ میں تمہارے پاس سب سے بہترشخص کے پاس سے آیاہوں۔رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے کوجومخلص مسلمان تھے اپنے باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کاحکم فرمایاتھا۔

جب وہ مرگیاتوحضورۖ نے اپناپیرہن مبارک جسم اطہرسے اُتارکراس کوکفن بنایااورنمازِ جنازہ پڑھنے کاارادہ کیااس وقت حضرت عمربن خطاب نے آپۖ کا دامنِ اقدس پکڑکرعرض کیا۔ یارسول اللہۖ!ایسے منافق پرنمازپڑھ رہے ہیں۔جوتمام منافقوں کاسردارتھا۔اس پرحضورۖنے اپنا دامنِ اقدس چھڑاکرفرمایا۔”اے عمر!تم دوررہو”۔ تب سورة التوبہ کی 84نمبریہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔”اے محبوبۖ!آپ کسی منافق کی موت پرکبھی نمازنہ پڑھیں اورنہ ہی اس کی قبرپرکھڑے ہوں”۔ اس وقت آپۖنے یہ ارادہ ترک فرمایاکیونکہ بارگاہ الٰہی سے ممانعت جوآگئی۔بعض علماء کرام فرماتے ہیںکہ عبداللہ بن ابی منافق کوقمیص مبارک پہنانااس بناپرتھاکہ اس نے آپۖکے چچاحضرت عباس کواس وقت قمیص پہنائی تھی کہ جب وہ بدرکے قیدیوں میں برہنہ اسیرہوئے تھے ان کے جسم پر طویل القامت ہونے کی وجہ سے کوئی قمیص نہ آسکی۔(مدارج النبوت)عبداللہ بن ابی الحسماء بیان کرتے ہیں کہ بعثت سے پہلے میں نے حضورۖسے کوئی چیزخریدی تورقم باقی رہ گئی۔

میں نے حضورۖسے وعدہ کیاکہ اسی جگہ رقم لیکرحاضرہوتاہوں۔پھرمیں بھول گیاتین دن کے بعدمجھے یادآیاجب میںوہاں پہنچاتوکیادیکھتاہوں کہ حضورۖ اُسی جگہ تشریف فرماہیں۔ حضورۖ نے مجھ سے فرمایا”تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیاتین دن سے اسی جگہ انتظارکرتارہا ہوں”۔ (ابودائود)آپۖاپنی ازواج مطہرات کے ساتھ بہت بہترسلوک فرماتے ان کی پاسداری کرتے ان کے ساتھ استراحت فرماتے اورانصارکی بچیوں کوحضرت عائشہ کے پاس چھوڑدیتے ۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ایک مرتبہ گھرمیں تشریف فرماتھیں کہ حضرت ام سلمہ نے کھانابھیجا۔حضرت عائشہ صدیقہ کاہاتھ کھانے کے برتن میں لگ گیااوربرتن گرکرٹوٹ گیااورکھانازمین پربکھرگیاحضورۖنے برتن کے ٹکڑوںکوچنااورکھانااٹھاکربرتن میں رکھااورمعذرت خواہی کے طورپرحاضرین سے کہا”ہمیں تمہارے اس رشک کے معاملے میںافسوس ہے ”بیتابی کااظہارہواپھرحضرت عائشہ صدیقہ کے گھرسے درست پیالہ لیکراورایک روایت میںہے کھانابھی لیکران کے گھرخادم کے ہاتھ بھجوایااورفرمایا”پیالہ کے بدلہ میں پیالہ اورکھانے کے بدلے میں کھاناہے”۔

اسی طرح دیہاتیوں میںایک شخص جس کانام ”زاہر”تھاوہ کبھی کبھی آپۖکی بارگاہ اقدس میں دیہات کی ایسی ترکاریاں ہدیہ میں لایاکرتاتھاجوحضورۖ کوپسندتھیں اورحضورۖاس کی واپسی پرشہرکی چیزیں(کپڑاوغیرہ)عنایت فرمایاکرتے تھے ۔آپۖاس کودوست رکھتے تھے اورفرمایاکرتے تھے کہ ”زاہر”سے ”ہمارادوستانہ ہے”۔ہم اس کے شہری وہ ہمارادیہاتی دوست ہے۔ایک مرتبہ آپۖبازارتشریف لے گئے توحضرت ”زاہر”کووہاں موجود دیکھا آپۖنے اس کی پشت سے اپنادست ِ مبارک اس کی آنکھوں پر رکھااوراپنی جانب کھینچااورلپٹالیااپناسینہ مبارک اس کی پشت سے ملادیاوہ آپۖکونہیں دیکھ سکاتھاکہنے لگایہ کون ہے؟جب آپۖ کوپہچان لیاتوا س نے اپنی پشت کوحضورۖکے سینہ مبارک سے اورملادیااورنہیں چاہاکہ وہ جداہوں ۔پھرآپۖنے فرمایاکہ کوئی ہے جواس غلام کوخریدے ۔زاہر نے عرض کیایارسول اللہۖ!آپ نے مجھے کھوٹااورکم قیمت مال تصورکرلیاہے ۔ آپۖنے فرمایا”تم خداکے نزدیک کھوٹے تونہیں ہواورنہ کم قیمت بلکہ گراں بہاہو۔

آپۖکے حیاء کی یہ شان تھی کہ کسی کے چہرے پربھرپورنظرنہ ڈالتے تھے۔آپۖلوگوں کی دلجوئی فرماتے ۔جوکوئی آپۖکادستِ مبارک تھام لیتا توآپۖاپنادست مبارک ڈھیلاچھوڑدیتے ۔ایک مرتبہ حضورۖبغیرپالان کے درازگوش پرسوارہوکرقباکی طرف تشریف لیے جارہے تھے اورحضرت ابوہریرہ پیدل رکاب میں تھے ۔آپۖنے فرمایا ”اے ابوہریرہ میں تمہیں سوارکرلوں ”عرض کیایارسول اللہۖجیسے آپ کی مرضی ہو۔فرمایا”سوار ہوجائو”انہوں نے سوارہونے کے لئے زقندلگائی مگرچنگل آپۖپرلگااوردونوں زمین پرآگئے ۔پھرآپۖسوارہوئے اورفرمایا”کیامیں تمہیں بھی سوارکرلوں”عرض کیا۔یارسول اللہۖجیسے آپ کی مرضی ہو۔وہ پھرسوارہونے کی قدرت نہ پاسکے اورآپۖسے چمٹ گئے اوردوبارہ پھر زمین پردونوںآگئے ۔جب تیسری مرتبہ آپۖنے سوارہونے کے لئے ان سے کہاتووہ عرض کرنے لگے قسم ہے اس خداکی جس نے آپۖکوحق کے ساتھ بھیجا۔اب میں نہیں چاہتاکہ حضورۖکوتیسری مرتبہ سواری سے زمین پرلائوں۔(بحوالہ طبری)آپۖکی قوت وبرداشت ،ضبط وتحمل ، عفودرگرز،رحمت ورافت،حلم وتحمل،صبروضبط،رحم وترحم اوربرداشت ورواداری کے یہ چندواقعات ہیںورنہ اس پہلوسے سیرت طیبہ کادامن بھراپڑاہے۔

میرے مسلمان بھائیو!ہم نے آپۖکی حیات ِ مبارکہ کاان واقعات سے بغورمطالعہ کرلیاہے۔ا ب ہم اپنے گریباں میں جھانکیں اوردیکھ لیں کہ ہم عشق مصطفیۖکے دعویدارتوہیں کیاحقیقت میں بھی آپۖکی تعلیمات پرعمل پیراہیں یانہیں۔کیونکہ ان واقعات کوپڑھ کاانسان ورطہ حیرت میںپڑجاتاہے اورتسلیم کئے بغیرکوئی چارہ نہیں کہ طاقت اورظاہری وباطنی اختیارات کی بلندترین چوٹی پرفائزہونے کے باوجوداس قسم کے صبروتحمل کامظاہرہ اللہ کریم کامحبوب اورفرستادہ ہی کرسکتاہے کسی دوسرے انسان کے بس کاروگ نہیں ۔اللہ پاک ہم سب کوعمل پیراہونے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین

Hafiz Kareem Ullah Chishti

Hafiz Kareem Ullah Chishti

تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی
03336828540