counter easy hit

آخری سانس لینے سے پہلے پولیس کو ایسا بیان ریکارڈ کروا گئی کہ پورے شہر میں ہلچل مچ گئی

Before the last breath, the police recorded a statement that caused a stir throughout the city.

سوات (ویب ڈیسک ) سوات میں مقامی گلوکارہ ثناء کو بھائی نے چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا۔ سوات کے علاقے مینگورہ میں گلوکارہ کو اس کے بھائی نے چھریوں کے وار کرکے زخمی کردیا، جو اسپتال میں دوراج علاج چل بسی، ثناء نے مرنے سے قبل پولیس کو بیان ریکارڈ کروادیا۔پولیس کے مطابق مقتولہ کا کہنا تھا کہ میں صحن میں سو رہی تھی، والدین کے درمیان طلاق کی وجہ سے بھائی نے مجھ پر حملہ کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گلوکارہ کا قاتل بھائی قاسم فیصل آباد سے آیا تھا، جس نے چھری کے وار کرکے بہن کو قتل کیا، واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کردی گئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل قندیل بلوچ کا قتل بھی اسی کے بھائی کے ہاتھوں ہوا تھا 16 جولائی کو جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں سوشل میڈیا کی سلیبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ متنازع بیانات اور پاکستان میں قابل اعتراض فوٹیج کی وجہ سے قندیل بلوچ میڈیا کی حد تک کافی مقبول شخصیت تھیں۔قتل کی اس واردات کے کچھ دیر کے بعد پولیس نے اگرچہ قندیل بلوچ کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی ہسپتال تو ضرور پہنچا دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار مقتولہ کے والد محمد عظیم کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔قندیل کے بھائی نے انھیں غیرت کے نام پر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔اس واقعے کے چند گھنٹے کے بعد ہی ڈی آئی جی ملتان رینج ڈاکٹر سلطان اعظم تیموری کا کہنا تھا کہ قندیل بلوچ کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس کے علاوہ مقتولہ کی گردن پر زخم کے نشان بھی ہیں تاہم وقوعہ کے 12 گھنٹے گزرنے کے بعد ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی کہ قندیل بلوچ کی موت اس کے منہ اور ناک پر تکیہ وغیرہ رکھنے کی وجہ سے ہوئی۔قندیل بلوچ کے قتل کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیر بحث لائے جانے کے بعد یہ واقعہ بین الاقوامی میڈیا پر بھی آیا اور پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافے کی وجہ اس ضمن میں مناسب قانون سازی نہ ہونے کو قرار دیا گیا تو پھر پولیس نے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے ضابطہ فوجداری کی دفعہ311 سی کا اضافہ کردیا جس سے اب اس مقدمے کا مدعی چاہتے ہوئے بھی ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔پولیس نے مقتولہ کے والد کے بیان پر دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور جن دو افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا وہ کوئی اور نہیں بلکہ قندیل بلوچ کے دو حقیقی بھائی ہیں۔اس مقدمے میں نامزد ایک ملزم وسیم کو پولیس نے گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے پیش کردیا جبکہ دوسرا ملزم اسلم شاہین، جو فوج میں نائب صوبیدار ہیں، کی گرفتاری یا اُنھیں اس مقدمے میں شامل تفتیش کرنے کے لیے ملتان کی پولیس کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ملزم وسیم نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے قتل کرنے سے پہلے قندیل بلوچ کو نشہ آور چیز پلائی اور پھر اس کے بعد اس کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کو قتل کر دیا۔قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم اس مقدمے میں مدعی ضرور ہیں لیکن پولیس نے اُنھیں بھی شامل تفتیش کیا اور اس واقعے سے متعلق پوچھ گچھ کی۔ حالیہ پیش رفت کے مطابقمعروف ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں نیا موڑ سامنے آ گیا، قندیل کے والدین نے اپنے بیٹوں کو معاف کرنے کا بیان حلفی عدالت میں جمع کرا دیا۔معروف ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس میں قندیل کے والد عظیم بلوچ نے اپنے دونوں سگے بیٹوں مرکزی ملزمان وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کر دیا ہے اور عدالت میں معافی کا بیان حلفی جمع کرا دیا ہے ۔قندیل کے والد نے عدالت سے استدعا کی ہے وہ ان کے بیٹوں کو باعزت بری کر دے بیان حلفی کے مطابق قندیل بلوچ کے قتل میں غیرت کی کہانی بنائی گئی ہے جو حقائق کے خلاف ہے ۔ قندیل کے والد کا بیان حلفی میں کہنا ہے کہ قندیل قتل کا مقدمہ 16 جولائی 2016 کو درج ہوا جبکہ غیرت کے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر 2016 میں ہوئی، غیرت کے قانون 311 میں ترمیم بعد میں ہوئی ہے لہذا اس کیس پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ضابطہ فوجداری کے زیر دفعہ 345 کے تحت ملزمان کو بری کیا جائے۔ماڈل کورٹ کے جج نے صلح نامہ کے بیان حلفی پر بحث کے لیے پراسیکیوشن اور وکلا کو طلب کر لیا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website