counter easy hit

افغانستان کو ایک اورخطرہ لاحق، افغان مہاجرین واپسی پرکیا مہلک ہتھیار ساتھ لے جارہے ہیں؟

اسلام آباد(نامہ نگارخصوصی) اقوامِ متحدہ کی مہاجرین سے متعلق ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور ایران سے افغانستان واپس آنے والے ہزاروں مہاجرین سے صحت کے نظام پر دباؤ بڑھنے اور کرونا کی وبا پھیلنے کا خدشہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان اور ایران میں 24 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مقیم ہیں اور حالیہ چند ہفتوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندوں نے اپنے وطن واپسی کی ہے۔یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے سے اپریل کے دوسرے ہفتے تک پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین واپس افغانستان آئے ہیں جب کہ ایران سے واپس آنے والے مہاجرین کی تعداد بھی 60 ہزار کے قریب ہے۔ادارے کے ترجمان بابر بلوچ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں یومیہ 1500 مہاجرین کی واپسی ہو رہی ہے اور موجودہ صورتِ حال میں کرونا وائرس افغانستان کے تباہ حال صحت کے نظام کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔مہاجرین کی بڑی تعداد میں واپسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ وبا سے صحت کے نظام اور دیگر سماجی خدمات پر دباؤ بہت زیادہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ کرونا وائرس سے پاکستان اور ایران کے صحت کے نظام پر ایک جانب جہاں دباؤ بہت زیادہ ہو چکا ہے وہیں دونوں ملکوں کی معیشت بھی نشانہ بنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے وہ شہری جو ایران اور پاکستان میں مقیم تھے، وہ دونوں ممالک کے خراب معاشی حالات کے باعث انتہائی بنیادی ضروریات سے بھی محروم تھے۔بابر بلوچ کے مطابق افغانستان کے دونوں پڑوسی ممالک میں موجود افغان مہاجرین زیادہ تر یومیہ اجرت پر کام کر رہے تھے۔ ان ممالک میں لاک ڈاؤن کے باعث افغان مہاجرین کی آمدن بھی ختم ہو چکی تھی۔کرونا وائرس سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے والی ویب سائٹ ‘کوئڈ’ کے مطابق افغانستان میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 784 ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website