counter easy hit

۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوران پریس کانفرنس میڈیا کے سامنے کیا کچھ کہہ ڈالا ؟ جانیے

۔ What did the DGISPR say in front of the press conference media during this time? Learn

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) پریس کانفرنس رتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مجھے شوبز سے بڑا لگاؤ ہے اور اس معاملے پر میڈیا کی خبریں دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے جیسا کہ کچھ روز قبل لیجنڈ اداکار عابد علی کی موت کی خبر چلائی گئی جو بعد میں ان کی بیتی کی تردید کے بعد خبر واپس لی گئی ، میرا میڈیا والون کو مشورہ ہے کہ وہ خبروں کی تصدیق ضرور کر لیا کریں  ۔ میجر جنرل آصف غفور اج کشمیر ایشو پر انتہائی اہم پریس کانفرنس کر رہے تھے جس پر انہوں نے دشمنوں اور پراپیگنڈا کرنے والوں کو سیر حاصل جواب دیئے ۔ دوران پریس کانفرنس ایک صحافی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال پوچھا کہ کہ افوہیں ہیں کہ پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات استوار ہونے جا رہے ہیں، اس بارے میں کیا کہیں گے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت سے شگوفے چھوڑے جاتے ہیں، قوم کو اس وقت متحد ہونے کی ضرورت ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک ریاستی فیصلہ ہے، دوسری بات یہ کہ پاکستان اس بات پر پچھلے 72 سالوں سے قائم ہے اور پاکستانی پاسپورٹ دنیا کا وہ واحد پاسپورٹ ہے جس پر واضح الفاظ میں لکھا جا چکا ہے ، یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے، میرا نہیں خیال کہ قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے اور ایسی افواہوں پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اینکر فریحہ ادریس کو جواب دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مودی جو کام مقبوضہ کشمیر میں کر بیٹھا ہے اسکو سمجھ ہی نہیں ہے، پوری دنیا میں نریندر مودی کے خلاف آواز اُٹھ چکی ہے، جس دن مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹا لیا گیا سچ ساری دنیا کے سامنے آجائے گا، اقوام عالم کشمیر ایشو پر ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور یہ بھار ت جانتا ہے۔ اینکر و سینئر صحافی عمران خان نے سوال کیا کہ بھارت کی جانب سے بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے دریغ نہیں کریں گے، پاکستان کب جا کر اپنے ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا ستعمال پالیسی کے مطابق ہی ہوگا، ہم اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، کشمیر حاصل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے، اگر پاکستان کو ضرورت پڑی تو ایٹمی ہتھیاروں کا بھی استعمال کریں گے لیکن ہمیں اس سے پہلے دشمن کے ایکشن کو دیکھنا ہوگا، کشمیری مسئلے پر پوری قوم ایک ساتھ کھڑی ہے۔ حامد میر نے سوال کیا کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہوجاتا ہے تو پھر یہ بتائیے گا کہ ہماری افواج جو ہیں وہ مشرقی سرحد پر آجائیں گی تو اس میں پاک فوج کی کیا سٹریٹجی ہوگی؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد کے فیصلے اور جنگی مسائل کا حل پریس کانفرنسوں میں نہیں بتائی جاسکتی، کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، وہ ہم پر چھوڑ دیں، آپ بس یہ سوچیں کہ کرنا کیا ہے۔ سلیم صافی نے سوال پوچھا کہ ماضی میں بھی ہمیں بلیک کرنے کی کوششیں کی گئیں ،ہمارے وزراء کہتے ہیں ہمارے پاس پاؤ اور آدھے پاؤ کے بم ہیں، یہ بتائیے کہ ہمارے اسٹیٹ اور افواج پاکستان کی نیوکلیئر پالیسی کیا ہے، ہم اس کو کس حد تک ، کس جگہ پر استعمال کریں گے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایسس پی آر میجر جنرل آآصف غفور کا کہنا ہے تھا کہ صافی صاحب آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے لیکن اسکا جواب میرے قد سے بھی 12 فٹ اونچا ہے، یہ پالیسی پریس بریفنگ اور جلسے جلوسوں میں نہیں بتائی جاسکتی، یہ آُ جانتے ہیں، جو ذمہ دار ریاست ہوتی ہے وہ نیوکلئیر پالیسی کے بارے میں بات نہیں کرتی، جو آپ کے لیے سمجھنے کی بات ہے وہ صرف یہ ہے کہ جذبہ ہی سب کچھ ہے، قابلیت ہی سب کچھ ہے، آپ ان چیزوں کو سمجھے، میری درخواست ہے کہ ان موضوعات کو چھوڑ دیں، جب ملک کو خطرہ ہوگا ہم ہر قسم کا آپشن استعمال کریں گے۔ علاوہ ازیں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پوری دنیا یہ جان چکی ہے کہ پاکستان کو نظرانداز کر کے اپنے مقاصد کو پورا نہیں کر سکتے، ہمارے مشرق میں انڈیا ہے، ایک بڑی آبادی والا ملک ہے، وہاں پر آج کل ہٹلر کے پیروکار مودی کی حکومت ہے، اس سوا ارب والی آبادی کے ملک سے پوری دنیا کے مفادات منسلک ہیں، چائینہ ہمارے مغرب میں ہے جو کہ ہمارا دوست ہے، چائینہ کے انڈیا کے ساتھ بہت سارے معاملات ہیں لیکن چائینہ اور انڈیا اقتصادی مفادات کی خطر ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا، ہمارے ویسٹ میں افغانستان ہے، چالیس سالوں میں افغانستان نے شہادتوں اور محرومیوں کی علاوہ کچھ نہیں دیکھا، افغاننستان کی وار نے پاکستا کو بھی متاثر کیا، ایران ہمارے جنوب مغرب میں ہے انکے ساتھ ہامرے بھائیوں والے تعلقات ہیں، لیکن مڈل ایسٹ کے ساتھ متنازعہ تعلقات ہونے کے باوجود ایران برصغیر میں امن کے لیے کوششیں نہیں بلائی جا سکتی ، ہندوستان میں ایسی حکومت ہے جس نے عیسائی، سکھ ،دلت اور مسلمانوں کے لیے زندگی تنگ کر دی گئی، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے گاندھی کو قتل کیا، مودی حکوت نہرو کے نظریے کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے حرکات نے خے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ پاکستان پچلے 40 سالوں سے دہشت گردی کے ناسور سے لڑھ رہا ہے، ان حالات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام ایک جنگ کا بیج بو رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی پہلی تقریر میں بھی امن کی بات کی گئی لیکن بھارت نے جنگی جہاز بھیجے اور منہ توڑ جواب حاصل کیا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ دو نیوکلیئر پاور میں جنگ کی گنجائش نہیں، لیکن بھارت پھر بھی ہمارے ساتھ جنگ کرنا چاہات ہے، کلبھوشن یادیو ایک اسکی مثال ہے جو پوری دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے ایک فعال کردار ادا کیا ہے، افغانستان میں امن سے مغرب کی سرحد محفوظ ہوگی ، انڈیا یہ چاہتا ہے کہ اگر پاک فوج مغرب کے بارڈ سے فارغ ہوجاتی ہے تو وہ انڈیا کے لیے خطرہ بن جائے گی اس لیے انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستانی فوج کو مغرب سے فراغت ملتے ہی کوئی ایسا کام کیا جائے کہ پاکستان بھرپور جواب نہ دے سکے۔ میں بھارت کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں ، جنگیں معیشتیں اور ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی، جنگیں جذبوں اور قوموں سے لڑی جاتی ہیں، اگر کوئی حرکت کی تو 2؎7 فروری سے بڑھ کر جواب دیا جائے گا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ تکیلف کے باوجود پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردودوں کے ذریعے حل کیا جائے، 5 اگست کو مودی سرکار نے گیر اخلاقی اقدام نے کشمیر کی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ اب یہ مسئلہ پاکستان کے درمیان جغرافیہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ پچھلے ایک مہینے سے کشمیری عوام 72 سالوں سے سے زیادہ تکلیف میں ہیں، سیاسی لیڈر قید ہیں، ہر چیز پر پہرہ ہے، کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، بھارت اپوزیشن لیڈران بھارت کے کو سر نگر کا دوریہ نہیں کرنے دیا گیا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جو کشمیر کے لیے جو اقدامات کیے ہیں انکے کیا اثرات نکلے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website