ڈاکٹر نبیحہ چاہتی تھیں میں ان کو باہر ہر میٹنگ میں لے کر جاؤں، مردوں کی ہر میٹنگ میں تو بیوی کو نہیں بٹھا سکتا، اسے وہم کی بیماری ہے، حارث کھوکھر نے اہلیہ سے اختلافات کی وجہ شک کو قرار دیا
فضا کے شو میں جو کچھ ہوا وہ سب نے دیکھاـــ فضا کا بھونڈے انداز میں حیران ہونے اور رونے کی ناقابل برداشت ایکٹنگ بتارہی تھی کہ یہ سب جانتے بوجھتے کیا جارہا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ زور و شور سے مسلسل اپنی بھڑاس نکال رہی تھیں تو دوسری طرف فضا صاحبہ مسلسل رونے کی ناکام ایکٹنگ کررہی تھیں۔ یہ کوشش اتنی زیادہ ہوئی کہ دو آنسو ڈاکٹر صاحبہ کی آنکھوں سے بھی نکل آئے۔
اب فضا کا شو تو سب نے دیکھ لیا لیکن اصل میں ایک شو اور بھی ہے جس کی وجہ سے یہ سارا تماشا ہوا ہے۔
جی ہاں فضا کے انٹرویو سے پہلے ایک ریسٹورنٹ میں ڈاکٹر صاحبہ اور ان کے شوہر کا مختصر سا انٹرویو سامنے آیا تھا ، اس میں ان کے شوہر صاحب نے پوسٹ کے ہر سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحبہ پر نامناسب انداز میں خوب طعنے کسے اور دل کی بھڑاس نکالی ـــ
وہ انٹرویو دیکھ کر ایسا لگا کہ جیسے ان صاحب نے جان بوجھ کر بیوی کو دھمکانے کے لیے وہ انٹرویو کروایا تھا کہ میں انتہائی ــــــــــ انسان ہوں اور تمہیں پبلک کے سامنے ذلیل بھی کرسکتا ہوں۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحبہ پہلے ہی شادی اور اس سے پہلے سیلاب والے معاملات پر ٹرول ہوچکی تھیں اور ان معاملات پر جس ذہنی کیفیت سے گذری ہوں گی یقینا دوبارہ نہیں گزرنا چاہتی ہوں گی لہذا ان صاحب نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ انٹرویو کے دوران یہ صاحب انتہائی بدتمیزی سے اپنی بیوی پر تاک تاک کر وار کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحبہ غصے بھرے جذبات چھپانے اور مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کررہی تھیں کہ ان کے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔ اور جب ان کو سمجھ آگیا کہ ہوا کیا ہے تو وہ بھی فضا کے شو میں جا پہنچیں اور جو کچھ ان کے شوہر نے کرنے کی کوشش کی تھی جواب میں اس سے دو گنا زیادہ کرکے انہوں نے بدلہ لے لیا اور جتا دیا کہ اگر تم یہ کر سکتے ہو تو پھر میں تو تم سے چار ہاتھ آگے ہوں۔
سوشل میڈیا کا دور ہے دوستی سے شروع ہوئی بات چیت محبت میں بدلتی ہے پھر شادیاں بھی یہیں ہوتی ہیں ، لڑائیاں بھی یہیں ہوتی ہیں اور طلاقیں بھی یہیں ہوجاتی ہیں۔ آج کے دور میں جس کے پاس چار فالورز ہیں وہ چاہے مرد ہو یا عورت اسے لگتا ہے دنیا اس کے قدموں کے نیچے ہے۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں صرف ہماری سنی جائے ، صرف ہماری مانی جائے اور صرف ہم اہم ہوں ـــ دوسری طرف بھی اس جیسا سر پھرا ہو تو ایسے رشتے زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ جب دونوں میں سے ایک بھی سمجھنا نہ چاہے ، نبہانا نہ چاہے ، جھکنا نہ چاہے تو گھر تباہ ہونا ہی ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو پسند کرنے ، بلند و بالا دعوے کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی زندگی میں ، ساتھ رہ کر ، مسائل سے نبرد آزما ہو کر ، زندگی گزارنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔
کس کا قصور ہے کس کا نہیں یہ الگ قصہ ہے ــــ برا یہ ہے کہ آٹھ سال کی محبت کے بعد چیزیں اتنی جلدی بگڑ گئیں ،اور اس سے بھی برا یہ ہے کہ یہ دونوں اب ڈیجیٹل لڑائی لڑ رہے ہیں۔ گھر میں لڑائی ہو تو پورا محلہ بازگشت سنتا ہے اور تماشے سے لطف اٹھاتا ہے۔ یہ تو سرِ بازار لڑائی ہے ، اسے دنیا دیکھے گی اور مذاق اڑائے گی۔
اللہ کرے کہ دونوں اب بھی بات آگے نہ بڑھائیں اور گھر توڑنے کے بجائے جوڑنے کا سوچیں۔



