yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    • Putin to Visit China Days After Trump Tripٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے
    بین الاقوامی خبریں
    • Putin to Visit China Days After Trump Tripٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے
    • Israel-Lebanon Ceasefire Extended by 45 Daysاسرائیل اور لبنان میں جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع، واشنگٹن مذاکرات کامیاب
    شوبز
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
کالم

چمکا حلیمہ سعدیہ آنگن

Yes 1 Webmaster December 31, 2014 1 min read
Muhammad Pbuh
Share this:
Muhammad Pbuh
Muhammad Pbuh

تحریر: پروفیسرمحمد عبداللہ بھٹی
روزِ اول سے آج تک کروڑوں انسان ا س دنیا فانی میں آئے کھا یا پیا بچے پیدا کئے اپنا وقت پورا کیا اور پیوند ِ خاک ہو گئے ۔اِس کروڑوں انسانوں میں اکثریت نے کیڑے مکوڑوں کی سی زندگی بسر کی اِس میں سے چند انسانوں نے اقتدار و شہرت کے مزے بھی لوٹے۔ کچھ لوگوں کو اللہ تعالی نے اِ س قدر عروج عطا کیا کہ لاکھوں انسانوں کی زندگی موت اِن کے اشاروں کی مہتاج تھی جب یہ زندہ تھے کروڑوں دلوں کی دھڑکنوں میں زندہ تھے یہ چلتے تھے تو زمانہ چلتا تھا یہ اداس ہوتے تو زمانہ اداس ہو جاتا ۔جب یہ دنیا سے گئے تو اُس وقت یہی لگا کہ اب زندگی دوبارہ کبھی نہیں مسکرائے گی ۔لیکن وقت کروڑوں لوگوں کو اِس آسانی سے ہضم کر گیا کہ آج کسی کو اُن کا نام پتہ تک معلوم نہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا ء کرام میں سے چند کے ناموں سے ہی ہم واقف ہیں کہا ں گئے۔

وہ فرعون ، بادشاہ اور طاقتور حکمران جو خود کو مختار کل اور زندگی موت کا وارث سمجھتے تھے کہا ں گئے وہ لوگ آج زیرِ زمین حشرات الارض ان کی ہڈیوں میں سوراخ کر رہے ہونگے۔ لحد اُن کے تن بوسیدہ کو فشار دے رہی ہو گی ۔ان کی بے نشان قبروں ، مقبروں پر ابا بیلوں کے مسکن ہیں کوئی فاتحہ خوان نہیں کوئی چراغ روشن نہیں آج اُن لوگوں پر کیا عالم تنہائی ہے ۔لیکن قدرت کے کچھ عجیب راز ہیں بعض اوقات خالق ِ بے نیاز کسی عام معمولی انسان کو ایسی لازوال شہرت عطا کرتا ہے ایسا تاج ِ شاہی پہناتا ہے کہ قیامت تک جسے اندیشہ زوال نہیں ہوتا ۔کسی عام انسان کو کسی خاص واقعہ یا خاص انسان سے جوڑ کر قیامت تک امر کر دیتا ہے بڑے بڑے حکمران اُن کو رشک کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔قدرت اِسی طرح آج عرب میں قبیلہ بنی سعد پر بہت مہربان تھی ۔کیونکہ اِس قبیلے کے میاں بیوی اور بچوں کو لازوال شہرت ملنے والی تھی اِیسی شہرت کہ قیامت تک زمانہ اُن کی قسمت پر رشک کرنے والا تھا۔

صدیوں کی پیاسی انسانیت کی پیاس بجھانے کے لیے فخرِ دوعالم سرور کونین آقا ء دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ عیلہ وآلہ وسلم اِس دنیا میں تسریف لا چکے تھے ۔آپ کی والدہ ماجدہ نے کئی دن آپ کو دودھ پلایا پھر ابو لہب کی آزاد کی ہوئی لونڈی ثوبیہ نے چند دن پلایا ۔عربوں میں زمانہ قدیم سے ایک دستور تھا کہ شہر کے لوگ اپنے شیر خوار بچوں کو صحرا میں بدوی زندگی میں بھیج دیا کرتے تھے تاکہ بچے عرب کی خالص تہذیب اور زبان سے آگہی حاصل کر سکیں۔مدتِ رضاعت ختم ہونے پر عوضانہ دے کر بچے واپس کر دیے جاتے ۔ مکہ کے نواح میں آباد بدوی قبائل کی عورتیں سال میں دو دفعہ ربیع و خریف میں بچوں کی تلاش میں مکہ آتیں اِس دفعہ قحط سالی کی وجہ سے حلیمہ سعدیہ اپنے خاوند اور دس عورتوں کے ساتھ مکہ آتی ہیں ۔حلیمہ کے خاوند کا نام حارث بن عبدالغری تھا اِن کے بچوں کے نام عبداللہ ۔ انیسہ حزافہ جن کا لقب شیما تھا یہ ننھے محمد صلی اللہ عیلہ وآلہ وسلم کو گود میں کھلاتی تھیں ۔دوران رضاعت حلیمہ سعدیہ نے برکت کے ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ حیران رہ گئیں۔

تفصیل اُنہی کی زبانی سُنیں اِبن اسحاق کہتے ہیں حضرت حلیمہ فرماتی ہیں میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنا ایک چھوٹا سا دودھ پیتا بچہ لے کر بنی سعد کی عورتوں کے ساتھ دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکلیں یہ قحط سالی کے دن تھے اور قحط نے کچھ بھی نہ چھوڑا تھا میں اپنی سفید گدھی پر سوار تھی ہمارے پاس ایک اونٹنی بھی تھی لیکن بخدا اُس میں سے ایک قطرہ دودھ بھی نہ نکلتا تھا اِدھر بھوک سے بچہ اِس قدر روتا کہ ہم رات بھر سو نہ سکتے تھے اور میرے سینے میں بھی دودھ کا قطرہ تک نہ تھا۔

بس ہم بارش کی آس لگائے بیٹھے تھے میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلی تو وہ کمزوری کے سبب اتنی سست رفتار نکلی کہ پورا قافلہ تنگ آگیا خیر ہم کسی نہ کسی طرح دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ پہنچ گئے پھر ہم میں سے تمام عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ عیلہ وآلہ وسلم کو پیش کیا گیا مگر جب بتا یا جاتا کہ آپ یتیم ہیں تو وہ لینے سے انکار کر دیتیں۔ کیونکہ ہم بچے کے والد سے انعام وکرام کی امید رکھتے تھے جب ہمیں پتہ چلتا کہ یہ یتیم ہے تو بھلا اِس کی بیوہ ماں اور اِس کا دادا کیا دے سکتے ہیں بس یہی وجہ تھی کہ ہم آپ کو لینا نہیں چاہتے تھے اِدھر جتنی بھی عورتیں میرے ساتھ آئیں تھیں سب کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا صرف مجھ کو ہی نہ مل سکا ۔جب واپسی کی باری آئی تو میں نے اپنے شوہر سے کہا خدا کی قسم مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساری سہلیاں تو بچے لے کر جائیں۔ اور تنہا میں کوئی بچہ لیے بغیر واپس جائوں میں جا کر اِس یتیم بچے کو لے لیتی ہوں۔

شوہر نے کہا کوئی حرج نہیں ممکن ہے اللہ اِسی میں ہمارے لیے برکت ڈال دے ۔ اِ س کے بعد میں نے جا کر بچہ لے لیا اور محض اِس بنا پر لے لیا کہ کوئی اور بچہ نہ مل سکا ۔حضرت حلیمہ سعدیہ کہتی ہیں کہ جب میں بچے کو لے کر اپنے ڈیرے پر واپس آئی اور اسے آغوش میں رکھا تو اُس نے جس قدر چاہا دونوں سینے دودھ کے ساتھ اُمڈ پڑے اور اس نے جی بھر کر دودھ پیا ۔اِس کے ساتھ اِس کے بھائی نے بھی شکم سیر ہو کر پیا پھر دونوں بچے سو گئے حالانکہ اِس سے پہلے ہم اپنے بچے کے ساتھ سو نہیں سکتے تھے ادھر میرے شوہر اونٹنی دوہتے گئے تو دیکھا کہ اس کا تھن دودھ سے لبریز ہے انہوں نے اتنا دودھ دوہا کہ ہم نے آسودہ ہو کر پیا اور بڑے آرام سے رات گزاری ۔صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا حلیمہ خدا کی قسم تم نے ایک با برکت روح حاصل کی ہے میں نے کہا مجھے بھی یہی توقع ہے۔

حلیمہ کہتی ہیں اِس کے بعد ہمارا قبیلہ روانہ ہو ا میں اپنی خستہ حال گدھی پر سوار ہوئی اور اِس بچے کو بھی ساتھ بٹھا لیا ۔لیکن وہی گدھی خدا کی قسم پورے قافلے کو کاٹ کر اِس طرح آگے نکل گئی کہ کوئی گدھا اس کا ساتھ نہ پکڑ سکا۔یہاں تک میری سہیلیاں مجھ سے کہنے لگیں او ابو ذویب کی بیٹی ارے یہ کیا ذرا ہم پر مہربانی کر آخر یہ تیری وہی گدھی تو ہے جس پر تُو سو ار ہو کر آئی تھی میں کہتی ہاں ہاں بخدا یہ وہی ہے وہ کہتیں اِس کا یقیناکوئی خاص معاملہ ہے۔ پھر ہم گھروں کو آگئے ہمارا خطہ روئے زمین کا سب سے زیادہ قحط والا علاقہ تھا لیکن ہماری واپسی پر میری بکریاں چرنے جاتیں تو دودھ سے بھری واپس آتیں ۔دوسروں کے جانوروں کے تھنوں میں دودھ کا قطرہ بھی نہ ہوتا ۔اِس طرح ہم اللہ کی طرف سے مسلسل اضافے اور خیر کا مشاہدہ کرتے رہے یہاں تک کے دو سال ہو گئے میں دودھ چھڑا دیا اور آپ کو آپ کی والدہ کے پاس لے گئے ہماری یہ شدید خواہش تھی کہ بچہ ہمارے پاس رہے ۔چنانچہ میں نے آپ ۖ کی والدہ سے مکہ کی وبا کا ذکر کیا تو آپ کی والدہ نے آپ ۖ کو ہمارے حوالے دوبارہ کر دیا (الرحیق المختوم )آپ ابھی حلیمہ سعدیہ کے پاس ہی تھے کہ ولادت کے چوتھے یا پانچویں سال شِق صدر کا واقعہ پیش آیا۔

آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ حضرت جبرائیل آئے آپ صلی اللہ عیلہ وآلہ وسلم کو لٹا کر سینہ چاک کیا دل نکلا پھر دل سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا یہ تم سے شیطان کا حصہ ہے پھر دل کو زمزم کے پانی سے دھو دیا پھر اِسے حکمت و ایماں سے بھر کر سی دیا ۔بچے دوڑ کر حلیمہ سعدیہ کے پاس آئے کہنے لگے کہ محمد قتل کر دیا گیا حلیمہ دوڑ کر آپ کے پاس پہنچیں تو آپ کا رنگ اترا ہوا تھا ۔اِس واقعہ کے بعد حلیمہ کو خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے چھ سال کی عمر میں آپ کی والدہ کے حوالے کر دیا ۔یقینا حلیمہ سعدیہ کا آنگن خوش قسمت ترین اور روشن ترین آنگن جہاں محمد ۖ کھیلا کرتے تھے مسکرایا کرتے تھے دوڑا کرتے تھے۔

PROF ABDULLAH BHATTI
PROF ABDULLAH BHATTI

تحریر:پروفیسرمحمد عبداللہ بھٹی
help@noorekhuda.org

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Khawaja Faqir Muhammad
Previous Post خواجہ فقیر محمد باروی کی اسلام کیلئے گراں قدر خدمات
Next Post عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اشتہار
Eid E Miladun Nabi

Related Posts

شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار

May 17, 2026
Putin to Visit China Days After Trump Trip

ٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے

May 16, 2026
Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years

62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے

May 16, 2026
AI Agents Are the New Economy's Competitors

2027 میں آپ کا مقابلہ انسان سے نہیں، بٹوے والے سافٹ ویئر سے ہوگا

May 16, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.