counter easy hit

آج آڈیالہ جیل کی اندرونی کہانی

آج آڈیالہ جیل کی اندرونی کہانی 8 ستمبر 2018 ایک سینئر صحافی اپنے قریبی دوست سپریڈنٹ جیل سعیداللہ گوندل سے ملاقات کیلئے آڈیالہ جیل گئے تو انکے کمرے سے ملحقہ اس پرتعیش کمرے جہاں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف خصوصی ملاقاتیں کرتے ہیں ایفیڈرین کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی چار سے پانچ خوبصورت خواتین کے ساتھ اسی کمرے میں موجود تھے جہاں وہ بلند آواز میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں ناشائستہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے تنقید کر رہے تھے جس پر سینئر صحافی نے رک کر حنیف عباسی سے کہا کہ عباسی صاحب یہ آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ وزیراعظم کے منصب پر براجمان شخص کے خلاف اتنی غلیظ زبان کا استعمال کر رہے ہیں یہ قابل مذمت ہے جس پر حنیف عباسی آپے سے باہر ہو گئے سینئر صحافی نے حنیف عباسی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عباسی صاحب آپ تو عمر قید کاٹ رہے ہیں جبکہ آپ نے نہ تو قیدیوں کیلئے مخصوص لباس بھی نہیں پہن رکھا آپ کے گلے اور ہاتھ میں پہنی مہنگی چین تو بتاتی ہے کہ آپ یہاں بڑے سکون سے رہ رہے ہیں اور یہ جیل قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس پر حنیف عباسی غصے میں آپے سے باہر ہو گئے اور بلند آواز میں بولنا شروع کر دیا جس پر سپرنٹنڈنٹ جیل سعیداللہ گوندل اپنے کمرے سے باہر آ گئے اور اپنے دوست سینئر صحافی سے گزارش کی کہ میری نوکری کا مسئلہ ہے جس پر سینئر صحافی نے سعیداللہ گوندل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل آپ ہیں یا حنیف عباسی جس پر حنیف عباسی آگے بڑھے اور کہا کہ میں ہوں سپرنٹنڈنٹ جیل آپ نے جو کرنا ہے کر لیں حنیف عباسی کو غصے میں دیکھ کر سپرنٹنڈنٹ جیل سعیداللہ گوندل نے حنیف عباسی کی چاپلوسی کیلئے گلاسوں میں جوس ڈالنا شروع کر دیا بات ایک دفعہ پھر عمران خان سے شروع ہونے پر حنیف عباسی غصے میں آ گئے سینئر صحافی کے سوالات پر سپرنٹنڈنٹ جیل سعیداللہ گوندل نے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف،مریم نواز ،کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور حنیف عباسی کے معاملے میں بے بس ہیں اور اس متعلق وہ آئی جی جیل خانہ جات کو بھی آگاہ کر چکے ہیں اور وہ یہاں اپنی مقررہ معیاد بھی پوری کر چکے ہیں یہ طاقتور لوگ ہیں اور کل یہ حکومت میں آ گئے تو میری شامت آ جائے گی جس پر حنیف عباسی نے کہا کہ میں سیاست دان اور کاروباری شخصیت بھی ہوں میں دیکھتا ہوں سعیداللہ گوندل کو کون تبدیل کرتا ہے جس پر سینئر صحافی نے اپنے قریبی دوست سعیداللہ گوندل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا جیل میں موجود 7 ہزار قیدیوں کو حنیف عباسی کو ملنے والی سہولتیں ملتی ہیں انھیں بھی پروٹوکول دیا جاتا ہے جس طرح حنیف عباسی کو دیا جا رہا ہے جس پر حنیف عباسی سیخ پا ہو گئے اور بلند آواز میں بولنا شروع کر دیا جس پر سپرنٹنڈنٹ جیل سعیداللہ گوندل نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے اردلی خاص افتخار ستی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عباسی صاحب کیلئے دیسی مرغا پکوایا گیا ہے جلدی سے کھانا لگاو جس پر سینئر صحافی نے سعیداللہ گوندل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کا اللہ ہی حافظ ہے سینئر صحافی نے وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں سے سوال ہے کہ کیا یہی وہ تبدیلی ہے جس کیلئے بائیس سال محنت کی گئی
عبدالرحمن
03348515616

About Hasnain Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website