counter easy hit

بھارت میں لڑکی نے گن پوائنٹ پر لڑکا اغواء کرکے شادی کرلی

ہماچل پردیش: لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد اس سے شادی کرنے کی خبریں تو آپ نے بہت سنی ہوں گی اور اس حوالے سے فلمیں بھی دیکھی ہوں گی لیکن بھارت میں ریوالور رانی کے نام سے مشہور لڑکی نے اپنی محبت کو پانے کےلئے لڑکے کو گن پوائنٹ پر منڈپ سے اغوا کرکے اس کے ساتھ شادی رچا لی۔

The girl kidnapped the boy on gunpoint and got married in India

The girl kidnapped the boy on gunpoint and got married in India

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ورشا ساہو نامی لڑکی اس وقت خبروں کی زینت بنی تھی جب 15 مئی کو اس نے ایک لڑکے اشوک یادیو کو شادی کے منڈپ سے گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا تھا اور تب سے لوگ اسے ریوالور رانی کے نام سے پکارنے لگے تھے۔ اب ورشا نے اشوک سے شادی کر لی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ دن دیکھنے کے لیے اسے بہت پاپڑ بیلنے پڑے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اشوک اور ورشا گزشتہ 8 برس سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے لیکن اشوک کے گھر والوں نے اس کی شادی کہیں اور طے کردی تھی اور اشوک نے بھی اپنے گھر والوں کی مرضی کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تھے؛ تاہم ورشا کو یہ بات بالکل بھی گوارا نہ تھی کہ جس سے وہ محبت کرتی ہے اس سے کوئی اور لڑکی شادی کرلے لہذا وہ عین شادی والے دن منڈپ پہنچ گئی اور اشوک کو سب کے سامنے گن پوائنٹ پر اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔

اشوک اور ورشا کے بھاگنے کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے اشوک پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرایا جس پر پولیس نے اسے حراست میں بھی لے لیا تھا۔ دوسری جانب اشوک کے گھر والوں نے ورشا پر تو کوئی مقدمہ نہیں کیا البتہ انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اشوک کو رہا کرانے کے لیے ورشا نے ہی ضمانتی مچلکے جمع کرائے، جس کے بعد اسے 7 جولائی کو جیل سے رہائی اور پھر دونوں نے جلد از جلد شادی کا فیصلہ کیا۔ شادی کی تقریب بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے ایک گاؤں میں ہوئی اور اس کا سارا خرچہ ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے مقامی یونٹ نے برداشت کیا۔ شیو سینا کے ریاستی صدر رتن برہمچاری نے شادی میں شرکت بھی کی اور اس موقع پر انہوں نے ایک این جی او بھی قائم کرنے کا اعلان کیا جس کا نام ریوالور رانی رکھا گیا اور ورشا کو ہی اس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ یہ این جی او اب ان لڑکیوں کی مدد کرے گی جنہیں ان کے بوائے فرینڈز نے دھوکا دیا ہو گا جبکہ پسند کی شادی کرنے والے لڑکے لڑکیوں کی بھی مدد کی جائے گی۔

About Hasnain Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website

You must be logged in to post a comment Login