counter easy hit

بزدل کمانڈو نے پاکستان کے ہر سطح پر دل سے چاہے جانے والی لیڈر کا تختہ الٹ دیا اور روشن چہروں اور گھروں کو اندھیرے کا مکین بنا دیا ، جاوید بٹ، میاں محمد حنیف، چوہدری سجاد نمبردار

marshal, LAW, OF, 1999, A BLACK, DAY, OF, COUNTRYپاکستان مسلم لیگ ن فرانس کے عہدیداروں سابق صدر جاوید بٹ، چیف آرگنائزر میاں محمد حنیف،نائب صدر چوہدرری سجاد نمبر نے یس اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکتوبر 99 کی بغاوت نہ صرف حکمران خاندان بلکہ عوام کے خاندانوں اور گھروں کیلئے بھی تاریکیکا پیغام لے کر آئی۔ انہوں نے کہا کہ کارگل کی جنگ کا بہانہ کر کے سول حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کرنے اور ہندوستان کے ساتھ طاقت کی زبان پر زور دینے والے ڈکٹیٹر کو آخر حکومت میں آکر کونسی بیماری لگ گئی وہ خود ہاتھ ملانے آگرہ پہنچ گیا۔ اس جعلی کمانڈو کی بزدلی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب بغیر کسی انٹرنیشنل لاکو خاطر میں لایا گیا اور  انسانی حقوق کے تقاضے پس پشت ڈلتےہوئے 4000 پاکستانیوں کو دہشتگرد کہہ کر امریکہ کے حوالے کر دیا ۔ کیا ایسا کسی بھی مہذب ملک میں ہوتا ہے۔ ایسی حماقتوں سے 99 سے 2007 تک کی تاریخ بھری پڑی ہے، کس کس کو روئیں ۔

سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ گولی کی زبان میں بات کرنے والی فوج کو آخرحکومت میں آکر کیا ہوا کہ وہ فوراجھک گیا اور سوچا جائے تو یہ بھی جمہوریت کی سب سے بڑی جیت تھی۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کی بڑی وجہ نظام کی خرابی ہے۔ پوری ریاستی مشینری پر مفاد پرست عناصر کا قبضہ ہے۔ اس میں فرد واحد کی کوئی حیثیت نہیں، سارا کام ریاستی مشینری کرتی ہے، جو اس غلط نظام کے تابع ہے۔ جب نظام ہی غلط ہوگا تو ظاہر ہے نتیجہ بھی غلط ہی نکلے گا۔ ایسے حالات میں بعض عناصر کی جانب سے الیکشن کی سیاست سے مایوسی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

marshal, LAW, OF, 1999, A BLACK, DAY, OF, COUNTRYیہ عناصر تبدیلی کے لیے انقلاب کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ یہ عناصر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس طریقہ کار میں کیونکہ پرامن انتقال اقتدار کا طریقہ واضح نہیں ہوتا، اس لیے جہاں جہاں یہ طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہاں خون خرابے، تصادم اور ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے، جس سے ریاست اور معاشرہ دونوں ہی سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے مہذب معاشرے میں طاقت کے ذریعے تبدیلی کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔

 

سیاسی جماعتوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف نے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی، نتیجے میں ملک محفوظ رہا۔ جنرل یحییٰ خان نے سیاسی جماعت نہیں بنائی، نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔

ہمارے ملک کے وہ نام نہاد دانشور جو چند سیاست دانوں کی کرپشن اور دیگر خرابیوں کو بنیاد بناکر تمام سیاست دانوں کو عوام کی نگاہ میں قابل نفرت بناتے ہیں ان ارسطو اور بقراطوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں ایک فوجی جنرل بھی کرپٹ ہوسکتا ہے اور ایک جج بھی۔ ایک دانشور یا صحافی بھی کرپٹ ہوسکتا ہے اور ایک عالم دین بھی۔ اس لیے عوام میں یہ تاثر دینا کہ صرف سیاست دان ہی کرپٹ ہوتے ہیں کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ ان افلاطونوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے اس عمل سے عوام میں سیاست سے بیگانگی کا کلچر فروغ پا رہا ہے، جو ملک اور قوم کے لیے کسی بھی لحاظ سے مفید نہیں ہے۔

marshal, LAW, OF, 1999, A BLACK, DAY, OF, COUNTRYmarshal, LAW, OF, 1999, A BLACK, DAY, OF, COUNTRYmarshal, LAW, OF, 1999, A BLACK, DAY, OF, COUNTRYmarshal, LAW, OF, 1999, A BLACK, DAY, OF, COUNTRY