counter easy hit

(ن) لیگی رہنماؤں کی نااہلی کا سلسلہ تھم نہ سکا، لاہورہائیکورٹ سے نامور خاتون رہنما کے خلاف کارروائی کی خبر آ گئی

لاہور)این اے 87سے مسلم لیگ (ن)کی امیدوار سائرہ افضل تارڑکے کاغذات نامزدگی لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیئے گئے ۔تفصیلات کے مطابق این اے 87سے مسلم لیگ (ن)کی امیدوار سائرہ افضل تارڑکے کاغذات نامزدگی لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست گزار نے موقف اپنا یا کہ سائرہ افضل تارڑنے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے اس لئے عدالت سے استدعا ہے کہ
سائرہ افضل تارڑکوالیکشن کیلئے نااہل قراردیا جائے۔ جبکہ دوسری جانب شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت میں لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم کی نا اہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی ۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولا ،جبکہ شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ ایپلٹ ٹربیونل تاحیات نااہل قرار دینے کا جواز نہیں رکھتا۔جس پر لاہور ہائیکورٹ نے شاہد خاقان عباسی کی نا اہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔کیس کی سماعت کے بعدمیڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عدالتوں کی عزت کرتے ہیں اور عدالتوں کے فیصلے کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہیں،آج حق کی فتح ہوئی ہے ۔نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوال پر شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے عدالت میں کہا ہے کہ ان کی اہلیہ شدید بیما ر ہیں اور ان کے ٹھیک ہوتے ہی واپس آجائیں گے ،نواز شریف الیکشن سے پہلے وطن واپس آجائیں گےاور 25جولائی کو فیصلہ عوام کر ے گی۔جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے این اے 64 چکوال سے امیدوار سردار غلام عباس کو اثاثے چھپانے اور ٹیکس ادا نہ کرنے پر نا اہل قرار دے دیا۔حال ہی میں ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے سردار غلام عباس کے خلاف قاضی عمر ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی تھی ۔ جس پر انہیں اپیلٹ ٹربیونل نے ریٹرننگ افسر کا کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں نا اہل قرار دیا تھا۔
اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سردار غلام عباس نے ڈویژن بینچ سے رجوع کیا تھا جس نے گزشتہ روز (بدھ کو) محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نا اہل قرار دے دیا ہے۔ خیال رہے کہ سردار غلام عباس نے 3 جون کو ن لیگ چھور کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ چکوال کے سابق ضلع ناظم بھی رہ چکے ہیں اور انتخابات 2018 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر این اے 64 چکوال سے الیکشن لڑ رہے تھے۔یاد رہے کہ قاضی عمر ایڈووکیٹ کی طرف سے اعتراضات داخل کیے گئے کہ سردار غلام عباس نے کاغذات نامزدگی گوشوارے جمع کراتے وقت چودہ سو کنال اراضی ظاہر کی جبکہ کمپیوٹر سنٹر ریکارڈ کے مطابق مذکورہ اراضی انیس سو کنال بنتی ہے۔سردار غلام عباس نے اپنی اہلیہ کے اثاثے صرف ایک گاو¿ں روپوال میں نو کنال ظاہر کیے ،کوٹ چوہدریاں اور مولوال میں بیس کنال گوشوارے چھپائے گئے۔ سردار غلام عباس کروڑوں روپے اثاثے ہونے کے باوجود انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے اور ان کا این ٹی این نمبر بھی نہیں ہے۔ گوشواروں میں ڈیڑھ سو گائیں ،بھینسیں،کٹے اور بچھڑے ظاہر کیے مگر کیٹل فارم کا ذکر نہیں کیا۔کیٹل فارم کی آمدن اور اثاثے کروڑوں روپے مالیت کے بنتے ہیں۔ قاضی عمر ایڈووکیٹ نے اعتراضات داخل کراتے وقت یہ بھی لکھا کہ سردار غلام عباس کے بہاؤلپور میں واقع بینک اکاؤنٹ کی سٹیٹ منٹ نکلوائی جائے۔سردار غلام عباس ضلع ناظم اور ممبر اسمبلی بھی رہے۔لوگوں سے تو ٹیکس لیتے رہے مگر خود ٹیکس جمع کرانا گوارا نہیں کیا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website