counter easy hit

بھارت: فوجی نہ بننے والی مسلم خاتون سکیورٹی گارڈ بن گئی

سہارنپورکی 30 سالہ مہرالنساء نائٹ کلب میں عورتوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں، کلب میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنا آسان کام نہیں، مجھے خود پر فخرہے : گفتگو

India: The Muslim woman who was not a military became a security guard

India: The Muslim woman who was not a military became a security guard

نئی دہلی: نئی دہلی سے 200 کلومیٹر دور سہارنپور میں ایک مسلم گھرانے میں پرورش پانے والی 30 سالہ مہرالنساء شوکت علی بھارت کے ایک نائٹ کلب میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض انجام دے رہی ہے، اس کی طاقت ور جسامت اور رعب و دبدبے والی شخصیت کے باعث کلب میں موجود لڑکیاں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مہرالنساء گزشتہ دس برس سے بطور باؤنسر یا سکیورٹی گارڈ کام کر رہی ہے، گزشتہ تین برس سے وہ ایک نائٹ کلب میں دس گھنٹے بطور گارڈ اپنی خدمات سر انجام دیتی ہے۔ مہرالنساء اب بار میں صلح صفائی کرانے، خوفزدہ لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور منشیات کے غیر قانونی استعمال سے پردہ اٹھانے کی ماہر بن چکی ہے۔

سوشل نامی نائٹ کلب کے مالک ریاض عملانی کا کہنا ہے کہ ہم نے عورتوں کو اس لیے نوکری دی ہے تا کہ ہمارے نائٹ کلب میں آنے والی عورتیں خود کو محفوظ محسوس کریں۔ ریاض عملانی کا کہنا ہے کہ مہرالنساء کلب میں شراب نوشی کے باعث بے تحاشا لڑائیوں اور جھگڑوں کو ختم کرا چکی ہے۔ 30 سالہ مہر النساء بالی ووڈ کی نامور اداکارہ پر یانکا چوپڑا، پریتی زنٹا اور ودیا بالن کی سکیورٹی ٹیم میں بھی کام کر چکی ہے۔ سہارنپور کی خاتون بھارت کی فوج یا پولیس کا حصہ بننا چاہتی تھی لیکن اس کے والد کو یہ قبول نہ تھا۔ مہرالنساء کا کہنا ہے مجھے اپنے آپ پر فخر ہے، کلب میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنا آسان کام نہیں ہے۔

About Hasnain Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website

You must be logged in to post a comment Login